کرونا وائرس اورحکمران
لاپرواہ_کون زمہ دار کون؟
تحریر میاں حسیب مدنی گوجرانوالہ

دنیا کے منصفو ،جاگیردارو،وڈیرو، ہم عوام پر مسلط، صدیوں کے خاندانی حکمرانوں, اے ذمہ دارو ارےارباب اختیار صاحبان آج کرونا وائرس ایمرجنسی کے سن کٹھن حالات میں آپ سب نے مجبور، بے بس و لاچار، غریب عوام کو بے یارو مددگار صرف اور صرف اللہ کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا ہے، روز قیامت اللہ رب ذوالجلال تم سے تمہاری اس غفلت و لاپرواہی کا حساب لیگا اگر اس دن اللہ جلہ شانہ نے تمھیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا تو کیا کرو گے؟ اس عارضی دنیا میں اکڑتے ہو ایم این اے یا ایم پی اے بن کر اس اختیار پر جو ہمیشہ تمہارے پاس نہیں رہے گا گھمنڈ کرتے ہو۔ ذرا سوچو جس وائرس کے ڈر سے دنیا بھاگم بھاگ ہے ہر کوئی خوف زدہ ہوکر گھروں میں قید ہو چکا ہے اور کئی اس کا شکار ہو چکے ہیں اگر یہی وائرس خدا ناخواستہ آپکو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا کرو گے پھر رو رو عوام سے دعاؤں کی درخواست کرتے پھرو گے،اگر اللہ کریم اس مجوزہ مرض کے سبب تمھاری سانسیں کھینچ لے تو سب دھرے کا دھرا رہ جائے گا پھر اندھیری قبر اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ ابھی وقت ہے انصاف کرو اپنے اختیارات کے ساتھ۔اپنی رعایا کیساتھ،غربا و مساکین مستحقین کیساتھ، اس قیامت کی گھڑی میں اپنی عوام کیلیے ہر ممکن مدد کیلیے خود کو پیش کرو روز محشر اللہ کرم کی برسات کردے گا۔ اللہ کی مخلوق راضی ہو گئی تو کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ عظیم پروردگار راضی ہو جائے گا۔میں محمد حسیب مدنی سلطانی بچپن و لڑکپن سے حضور نبی اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی صفت و ثناء کے حوالے سے بطور نعت خواں اک پہچان رکھتا ہوں،جو کی میرا تعارف و اعزاز ہے،اور میرے تعارف کا اک سنہری حصہ ہے کہ میں نعت خواں ہوں،اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اس کے علاوہ میں بطور ٹیچر خدمات سرانجام دے چکا ہوں، اچھے اچھے اداروں کیساتھ بطور لیکچرار مصروفیت رہی،بہت سارے بیج میٹ،اور ہزاروں طالب علم جن کو پڑھانے کا اعزاز میرے احتساب کا سنہری حصہ ہے مجھے یقین ہے کہ بطور استاد جب میں اپنے طلبہ وطالبات پر حاکم تھا تو کبھی اللہ کی یاد اور خوف سے لاپرواہ نہیں تھا،
بچوں کیساتھ،انصاف،خلوص،محبت،شائستگی ،لگن، دیانتداری سے علم و حکمت سے رشتہ نبھایا اور آج جہاں جہاں بھی میرے شاگرد ہیں آج بھی بے لوث والہانہ حد درجہ محبت و عقیدت رکھتے ہیں احترام دیتے ہیں یہ سب وہ تھا جو بویا تھا تبھی کاٹ رہا ہوں، پھر زندگی نے موڑ لیا اور اللہ رب العالمین کی مرضی تھی کہ میں نے بطور جرنلسٹ خدمات کا سلسلہ شروع کیا،اور اب چند سالوں سے اللہ پاک نے مجھے عزت سے زیادہ عزت دی تعلقات پروان چڑھے،نئے مراسم برھے،اک نئی دنیا،نیا جہان دیکھنے کو ملا،ہمیشہ مثبت صحافت کو فروغ دیتے ہوئے غیر جانبدار رہنے کی کوشش کو شعار بنایا،بیشتر کالم لکھے،نامور شخصیات و افسران کے انٹرویوز کیے اور پورے پورے صفحات میں پروئے،ہر ممکن کوشش سے دوسروں کا دست و بازو بنا رہا، اور اج بھی کرونا وائرس کی جھنگ میں فرنٹ لائن میں مصروف عمل طبی عملہ، ڈاکٹرز صاحبان، پاک آرمی، تمام صوبوں کی پولیس،موٹروے و ٹریفک پولیس و دیگر ادارے،ہم بطور صحافی فرنٹ لائن پر شانی بشانہ کھڑے بے خوف و خطر پل پل کی خبریت۔چوکوں گلی محلوں۔ دیہاتوں شہروں۔ مکانوں سے ایوانوں تک اور اپنی عوام تک پل پل کی خبر پہچا رہے ہیں حالات سے لمحہ با لمحہ آگاہ کر رہے ہیں،اور یہ ہمارا عمل بھی جہاد سے کم نہیں،میں تمام فرنٹ لائنز کو سلام پیش کرتا ہوں،اور میری گذارش ہے سب سے اپنی گلوبل24نیوز کی ٹیم سے آپ ے صحافی لیڈران و دوستوں سے،اپنے شاگردوں سے،اپنی عوام سے کہ پلیز پلیز محفوظ رہیں، محفوظ رکھیں، غیر ضروری گھروں سے باہر نہ نکلیں،عبادت توبہ،استغفارکا دورانیہ زیادہ سے زیادہ کردیں،نمسز پنجگانہ گھروں میں ادا کریں،صدقہ و خیرات بڑھا دیں،یہ وہ وقت ہے کہ جب ہماری جانوں کا مالک ہم سے ناراض ہو کر ہمارا کڑا امتحان لے رہا ہے،ہمیں اپنے آپ کو دوسروں کیلیے پیش کرنا،رب کی رضامندی ہی اپنی رضا بنانی ہے،ہر کسی کو اپنے معیار کے مطابق خدمات سرانجام دینی ہیں۔ ہمارے حکومتی نمائندے باہر نکلیں عوام آپ کے ساتھ کی منتظر ہے، زندگی خوشگوار تھی زندگی گلزار تھی مگر اب زندگی دشوار ہے،خدارا غربا یتیم مساکین،غریبوں کا خیال کرو،میری آپ سب سے گزارش ہے کہ دوسروں کی مدد ایسے کرو کہ کسی کو خبر تک نہ ہو،اللہ راضی ہو جائے گا،گھروں میں بچوں کو تعلیم و تربیت دینے میں مائیں کردار ادا کریں، انکو جینا سکھائیں آداب سکھائیں انگریزی تو وہ خود سیکھ لیں گے آپ قرآن مجید کی تلاوت و تعلیم اس سکھائیں،میں اپنے تمام جاننے والوں چاہنے والوں کیلیے دعا گو ہوں،اور درخواست گزار ہوں کہ میرے والدین مرحومین کی بخشش و مغفرت کی دعا لازمی کریں۔میرے اہل و عیال اور مجھ ناچیز عاصی انسان میاں حسیب مدنی کا نام لیکر جس کا جو دل چاہے اپنی دعا کا تحفہ میرے اور میرے اہل و عیال کے نام کردے، میں ہمیشہ آپ کے لیے اس آپکے گھر والوں کیلیے دعا گو ہوں،

کرونا سے ڈرنا نہیں کرنا ہے
بار بار ہاتھوں ✋کو دھوئیں
نماز پڑھیں دعائیں کریں