دنیا کووڈ-19 کی لپیٹ میں
حافظ محمد اقبال سحر

اس وقت دنیا بھر میں چین کے شہر ووہان سے موذی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے متجاوز ہوچکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 21 ہزار سے زائد ہے۔ سپین میں ہلاکتوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہے۔تاہم خوشی کی بات ہے کہ اس بیماری سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد تقریبًا ایک لاکھ 14 ہزار ہے۔

دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ اموات اٹلی میں ہوئی ہیں جہاں وائرس سے 7503 اموات کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ اس کے بعد سپین وہ دوسرا ملک بن چکا ہے جہاں اموات کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔ اب تک کے اعدادوشمار کے مطابق سپین میں 3434 اموات ہوچکی ہیں۔ سپین میں متاثرین کی شرح میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے اس وقت وہاں تقریبا 27 ہزار افراد اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

امریکہ میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 69 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے۔ امریکی وبائی امراض کے نگران ادارے سی ڈی سی کے مطابق ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد میں 193 کے اضافے کے ساتھ کل تعداد 737 ہوگئی ہے۔ امریکہ میں سامنے آنے والے سے نصف سے زیادہ کیسز نیویارک ریاست میں ہیں جہاں 30800 مریض ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں اب تک ایک ہزار ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ امریکہ کی جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق چین اور اٹلی کے بعد امریکہ وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں 7503 اٹلی میں ہوئی ہیں۔ جبکہ سپین میں 3647، چین میں 3163، ایران میں 2077، فرانس میں 1331، امریکہ میں 1031، برطانیہ میں 465، نیدرلینڈ میں 356، جرمنی میں 206 اور بیلجیئم میں 178 افراد اس وبا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ہلاکتوں میں اٹلی سرفہرست ہے مگر کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز اب بھی چین میں سب سے زیادہ ہیں۔

چین میں متاثرہ افراد کی تعداد 81667، اٹلی میں 74386، امریکا میں 68572، سپین میں 49515، جرمنی میں 37323، ایران میں 27017، فرانس میں 25600، سوئزرلینڈ میں 10897، برطانیہ میں 9640، جبکہ ساؤتھ کوریا میں مصدقہ کیسز کی تعداد 9137 ہے۔
ایران میں کورونا وائرس نے بہت تباہی پھیلائی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 16 دنوں کے اندر ایران کے تمام 31 صوبوں میں کووِڈ-19 پھیل چکا تھا۔ اس کے علاوہ 16 ممالک کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایسے کیسز ہیں جن کا تعلق ایران سے ہے۔ ان ممالک میں ایران، افغانستان، بحرین، کویت، عُمان، لبنان، متحدہ عرب امارات، کینیڈا، پاکستان، جورجیا، ایسٹونیا، نیوزی لینڈ، بیلاروس، آذربائیجان، قطر اور آرمینیا شامل ہیں۔

پاکستان میں جمعرات تک متاثرہ افراد کی کل تعداد 1118 ہو گئی ہے۔
محکمۂ صحت پنجاب کے مطابق جمعرات کی دوپہر تک صوبے میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 340 تک پہنچ گئی ہے۔ ان متاثرین میں 188 ایران سے آنے والے زائرین ہیں جن میں سے 176 ڈیرہ غازی خان جبکہ 12 ملتان میں ہیں۔ 83 متاثرین کا تعلق صوبائی دارالحکومت لاہور، 21 کا گجرات، 19 کا جہلم، آٹھ کا گوجرانوالہ، چار کا راولپنڈی سے ہے۔ علاوہ ازیں ملتان اور فیصل آباد میں تین، تین جب کہ نارووال، منڈی بہاؤالدین، رحیم یار خان، اٹک، بہاولنگر اور سرگودھا میں ایک ایک مریض سامنے آیا ہے۔

محکمۂ صحت سندھ کے مطابق صوبے میں کووڈ-19 وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اب یہ تعداد 421 تک پہنچ گئی ہے۔

حکام کے مطابق کراچی میں 6 نئے مریض سامنے آئے ہیں جو کہ سب مقامی منتقلی کے ہیں جس کے بعد صوبائی دارالحکومت میں متاثرین کی تعداد 153 ہو گئی ہے جن میں سے 13 صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ ایک ہلاکت بھی ہوئی ہے۔ ان متاثرین میں سے 102 ایسے افراد ہیں جن میں یہ وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا تھا۔

علاوہ ازیں سکھر میں قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین میں سے 265 میں اب تک وائرس کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ سندھ کے دیگر شہروں میں دیکھا جائے تو دادو میں ایک اور حیدرآباد میں دو افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی جن میں سے ایک شخص صحت یاب ہو چکا ہے۔

پاکستانی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد سندھ میں 417، پنجاب میں 323، خیبر پختونخوا میں 121، بلوچستان میں 131، گلگت بلتستان میں 84 جبکہ آزاد کشمیر میں ایک ہے۔ اس موذی وائرس سے اب تک پاکستان میں آٹھ اموات ہوچکی ہیں۔ جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے: سندھ میں ایک، پنجاب میں دو، خیبر پختونخوا میں تین، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ایک ایک۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرہ مریضوں میں 78 فیصد لوگوں میں ایران کی ٹریول ہسٹری شامل ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس پھیلانے کے لیے ایران پلٹ زائرین نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ زائرین ٹرکوں میں چھپ کر، بسوں کی ڈگیوں میں گھس کر اور دیگر غیر قانونی ذرائع اختیار کرتے ہوئے اپنا چیک اَپ کروائے بغیر پاکستان میں داخل ہوئے جو کہ خاصی تشویشناک بات ہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر کے 173 سے زائد ممالک میں کورونا وائرس کے مریض موجود ہیں۔ انڈیا میں منگل کی شب سے مکمل لاک ڈاؤن کا آغاز ہوچکا ہے۔ جبکہ پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن کی کیفیت ہے۔ اس موذی مرض سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ احتیاط کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ استغفار اور رجوع الی اللہ بہت ضروری ہے۔ اللہ رب العزت سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور پاکستان سمیت پوری انسانیت کو انسانی تاریخ کی اس مشکل آزمائش سے نجات عطا کرے۔ آمین