اہل صحافت کیلیے معاشی پیکیج۔۔۔وقت کی ضرورت۔۔۔۔عمران خان کی توجہ کیلیے۔۔۔ کالم چوہدری لیاقت علی کے قلم سے سٹار نیوز پر

متحرم جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب سے اپیل
صحافی معاشی پیکج

*مٹ جائینگے ہم لوگ تو انصاف کرو گے*
وزیراعظم کے معاشی پیکج میں علاقائی صحافیوں کو نظر انداز کرنے پر مایوسی ہے۔۔
افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے نمائند گان، وزراء، معاشی معاونین نے جہاں کاروباری طبقہ، برامدکنندگان، صنعتکاروں، ڈاکٹر صاحبان میڈیکل پیشہ، مزدور حضرات کو اس مشکل گھڑی میں سہارا دیا ہے وہاں علاقائی صحافیوں کو نظر انداز کر کے انصاف کا خون کیا گیا ہے۔۔
صحافت سے وابسطہ 5 فیصد خوشحال اصحاب کے علاوہ نوے فیصد سفید پوش، محنت کش، مزدور ہیں. جنکی نہ تنخواہ ہے نہ پنشن. حصول روزگار کے تلخ زرائع ہیں۔۔ گورنمنٹ طرز پر پنشن یا گریجویٹی سے محروم ہیں۔
لیکن تاریخ پاکستان بننے سے لے کر آج تک اس قوم کو شعور اور آگاہی میڈیا نے دی ہے، جان کی پرواہ کیے بغیر، پابند سلاسل ہونے کے باوجود شعور آگاہی حق سچ کی صدا اب بھی فضا میں قائم و دائم ہے. توکل اللہ پر کام کرنے والے یہ مزدور لاک ڈاؤن سے آمدورفت اور وسائل روزگار مسدود ہو گے ہیں، لیکن ان مشکل ترین حالات میں رپورٹنگ اور خدمت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، علاقائی صحافیوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے.
ہمارا شدید مطالبہ ہے کہ علاقائی صحافیوں کے لیے 10 ارب کا فنڈ مختص کیا جائے،
واضح رہے کہ دیہاڑی دار مزدوروں کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہ ہے. اس لیے اس فنڈ کے اجراء میں صحیح اور مستحق افراد کا انتخاب ضروری ہے، جبکہ تمام علاقائی ورکنگ صحافیوں کا ریکارڈ پریس کلبز اور ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفسز میں موجود ہے، وزیر اعظم پاکستان وزراء اعلی پنجاب سے پر زور التماس ہے کہ اس سلسلہ میں تمام کوششیں صرف کر کے صحافیوں کو معاشی بدحالی سے بچانے کا بندوبست کریں بصورتِ دیگر شدید نقصان کا ازالہ نہ ہو سکے گا۔
*صحافی دوستوں سے اپیل ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ حکام بالا اس پر نوٹس لینے پر مجبور ہوں*

والسلام دعاوں کا طلبگار
چوہدری لیاقت علی چوک اعظم لیہ