بشیر کوکب ترابی:

دجالی ایلومیناٹی میڈیا کی دھشت گردی اور کرونا کے حیاتیاتی حملے میں فرق۔۔۔
مکمل حفاظتی،تدابیر حفظ ماتقدم کے بعد موت شہادت۔۔۔ مجرمانہ غفلت کی موت خودکشی۔۔۔

کہتے ہیں کہ ایک بار ایک خطر ناک اور زہریلا سانپ اپنے زہر کی تعریف کررہا تھا کہ دیکھو۔۔۔
میرا ڈسا کبھی پانی بھی نہیں مانگنے کا۔۔۔

پاس بیٹھا مینڈک اس کا مزاق اڑا رہا تھا کہ لوگ تیرے خوف سے مرتے ہیں زہر سے نہیں
دونوں کا مقابلہ لگ گیا
طے یہ پایا کہ کسی راہگیر کو سانپ چھپ کےکاٹے گا اور مینڈک سامنے آئے گا
دوسرے راہگیر کو مینڈک کاٹے گا اور سانپ سامنے آۓ گا
اتنے میں ایک راہگیر گزرا اس مسافر کوسانپ نے چھپ کے کاٹا جبکہ ٹانگوں سے مینڈک پھدک کے نکلا۔
راہگیر مینڈک دیکھ کے زخم کھجا کے تسلی سے چل پڑا خیر ہے مینڈک ہی تھا کیافرق پڑتا ہے
دونوں اسے دور تک جاتا دیکھتے رہے وہ صحیح سلامت چلا گیا۔

دوسرے راہگیر کو مینڈک نے چھپ کے کاٹا اور سانپ پھن پھیلا کے سامنے آگیا۔
مسافر خوف و دہشت سے فوری مر گیا۔۔۔

دنیا میں ہرروز ہزاروں افراد مرتے ہیں جن کو دیگر امراض ہوتے ہیں یا کوئی بھی مرض نہیں ہوتا۔۔۔

جبکہ کرونا کی شرح اموات اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔۔۔

خدارا سوشل میڈیا پر مایوسی بد دلی مت پھیلائیں، عوام کو شعور اور فہم و ادراک مہیا کریں، رہنمائی میں جو غلطیاں کوتاہیاں اور مجرمانہ غفلتیں ہیں تو فوری طور پر ان کا تدارک اور فوری ازالہ بھی کریں۔۔

سچا اور پکا مومن مسلمان موت سے کبھی بھی نہیں ڈرتا،
مومن ہر وقت اپنے اللہ سے ملاقات کے لیئے تیار رہتا ہے۔۔۔

جب موت ایک اٹل حقیقت ہے جس نے نہ پپیغمبروں کو چھوڑا نہ ولیوں کو
موت جب ہر حال میں آنی ہے پھر کرونا سے ڈر کیسا۔۔۔؟

احتیاط لازم ہے کریں لیکن

خوف کو خود سے الگ کر کے دور پھینک دیں۔۔۔
اپنے خالق و مالک اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان کامل اور توکل کریں۔۔۔
خوف اور مایوسی تذبذب اور ہیجانی کیفیت سے انسان کی قوت مدافعت ختم ہوجاتی ہے
انسان ڈیپریشن کا شکار ہو جاتا ہے جب کہ قوت مدافعت ایک دفاعی قوت اور اسلحہ ہے جو کسی بھی بیرونی حملے یا اندتون بیماری سے لڑنے کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔۔۔

اللہ پاک نے کوئی بھی بیماری علاج کے بغیر نہیں پیدا کی، کہتے ہیں کہ پہلے علاج پیدا کیا اس کے بعد بیماری نازل فرمائی جیسے کہ۔۔۔

پہلے رزق نازل کیا زندگی اور موت پیدا کی، زندگی اور موت کی اٹل معیاد مقرر کر کے تقدیر لکھ دی جس میں کسی صورت کوئی بھی کمی بیشہ نہیں ہو سکتی صرف ایک صورت کے علاوہ، اور وہ ہے ایک خاص چیز

صلہ رحمی، خوش اخلاقی، دوسروں کے ساتھ نیکی، خدمت خلق، صدقہ خیرات، صدق و صفائی، عدل انصاف، مظلوموں بے بسوں مجبوروں کی مدد ایثار قربانی، صلہ رحمی اور ان کے کے حقوق کی نگہداشت، ظالموں سے ان کے حقوق کے کر بلکہ چھین کر مظلوموں بے بسوں مجبوروں کو دلانا اور اپنی کوتاہیوں، لغزشوں گناہوں کا اقرار، اعتراف، ان پر ندامت شرمندگی کا اظہار، آئیندہ ان سے بچنے کا وعدہ، نہ کرنے کی سچی کوشش اور ندامت کے آنسوؤں کے نذرانے کے ساتھ
اپنے خالق مالک رازق پاک پروردگار معبود آلہ داتا و دستگیر اللہ وحدہ لاشریک سے سچی اور پکی توبہ استغفار، مدد و نصرت کی دعائیں اور کثرت سے اپنے آقا و مولی امام الانبیاء و المرسلین ختم النبین
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت و عقیدت ان کی پیروی اور اتباع میں زندگی گذارنے کا ارادہ نہیں، پکا عزم مصمم اور جدوجہد کے ساتھ ساتھ درود و سلام کے نذرانے اور وظیفہ۔۔۔

کرونا کےہزاروں مریض صحت یاب ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں
موت اس کو آتی ہے جس کی زندگی کے دن پورے ہوچکے ہوتے ہیں۔۔۔

کرونا اگرچہ چھوت کا مرض ہے ایک دوسرے سے لگتا رہتا ہے
خطرناک اور متعدی ضرور ہے مگر شیطان دجال کی طرح ایمان اور جان لیوا نہیں ہے قابل علاج وائرس ہے لاپرواہی غفلت اور بداحتیاطی سے تو ہر چھوٹی موٹی بیماریاں بھی جان لیوا اور انتہائی خطر ناک بن جاتی ہیں۔۔۔

احتیاطی۔اور حفاظتی تدابیر لازمی اختیار کریں، حفظ ماتقدم کے طور پر صفآئی ستھرائی، حق حلال چیزیں بھی جائز طریقے سے ضرور برتیں لیکن اس خوف کو ذہن میں بٹھا کے موت سے پہلے ہی اپنی زندگی کو موت کے خوف سے بدتر نہ کریں۔۔۔

جینے کی امنگ خود میں پیدا کریں گے حوصلہ اور ہمت رکھیں تو کوئی وائرس آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔
مگر غفلت کا پرواہی، بے احتیاطی، خود غرضی، آوارگی اور حلال حرام، سچ جھوٹ، حق نا حق، عدل و انصاف اور ظلم و ناانصافی، اپنے پرائے کی تمیز ختم کرنے سے ساری دنیا ایک بند گھاٹی میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔۔۔

آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔۔۔

اللہ وہی دے گا، ویسا ہی کرے گا تم جس کی اللہ سے امید رکھتے ہو۔۔۔؟

اللہ تعالی کی شان ہے کہ وہ آپکی امنگوں، گمان خواہشات و توقعات پر کماحقہ پورا اترتا ہے۔۔۔

اللہ وحدہ لاشریک سے اچھی امید رکھو گے تو پھر ہر حال میں اچھا ہی ہوگا۔۔۔
ان شاءاللہ تعالیٰ چیر ہی ہو گی۔۔۔

ایمان، یقین کامل💖اعتقاد، یقین محکم، توکل بھروسہ اسی کو کہتے ہیں اور اس کے بغیر انسان مسلمان تو رہ سکتا ہے مگر پکا اور سچا مسلمان اور مومن نہیں رہ سکتا۔۔۔

میں نے اور آپ نے اپنا اپنا جائزہ لینا ہے اور اپنے اہل و عیال گھر والوں خاندان برادری والوں کو بھی اس کی تعلیم و تربیت دینی ہے اور پھر۔۔۔
اپنے خالق و مالک اللہ وحدہ لاشریک پر اپنے غیر متذلذل ایمان کامل، یقین محکم، توکل اور بھروسے کا مزہ چکھنا ہے پھر دیکھیئے دلوں دماغوں جسموں اور روحوں کو کیسے اعتماد سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے اور کیسے ہر ایک افت، بیماری تکلیف، دکھ درد مصیبت غم سے کیسے نجات ملتی ہے اور شفا کاملہ و عاجلہ نصیب ہوتی ہے ان شا ء اللہ تعالی۔۔۔

آپ کی دعاؤں کا محتاج،
آپ کا خیرخواہ،
بشیر کوکب ترابی کاشمیری۔۔۔

کہتے ہیں کہ ایک بار ایک خطر ناک اور زہریلا سانپ اپنے زہر کی تعریف کررہا تھا کہ دیکھو۔۔۔
میرا ڈسا کبھی پانی بھی نہیں مانگنے کا۔۔۔

پاس بیٹھا مینڈک اس کا مزاق اڑا رہا تھا کہ لوگ تیرے خوف سے مرتے ہیں زہر سے نہیں
دونوں کا مقابلہ لگ گیا
طے یہ پایا کہ کسی راہگیر کو سانپ چھپ کےکاٹے گا اور مینڈک سامنے آئے گا
دوسرے راہگیر کو مینڈک کاٹے گا اور سانپ سامنے آۓ گا
اتنے میں ایک راہگیر گزرا اس مسافر کوسانپ نے چھپ کے کاٹا جبکہ ٹانگوں سے مینڈک پھدک کے نکلا۔
راہگیر مینڈک دیکھ کے زخم کھجا کے تسلی سے چل پڑا خیر ہے مینڈک ہی تھا کیافرق پڑتا ہے
دونوں اسے دور تک جاتا دیکھتے رہے وہ صحیح سلامت چلا گیا۔

دوسرے راہگیر کو مینڈک نے چھپ کے کاٹا اور سانپ پھن پھیلا کے سامنے آگیا۔
مسافر خوف و دہشت سے فوری مر گیا۔۔۔

دنیا میں ہرروز ہزاروں افراد مرتے ہیں جن کو دیگر امراض ہوتے ہیں یا کوئی بھی مرض نہیں ہوتا۔۔۔

جبکہ کرونا کی شرح اموات اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔۔۔

خدارا سوشل میڈیا پر مایوسی بد دلی مت پھیلائیں، عوام کو شعور اور فہم و ادراک مہیا کریں، رہنمائی میں جو غلطیاں کوتاہیاں اور مجرمانہ غفلتیں ہیں تو فوری طور پر ان کا تدارک اور فوری ازالہ بھی کریں۔۔

سچا اور پکا مومن مسلمان موت سے کبھی بھی نہیں ڈرتا،
مومن ہر وقت اپنے اللہ سے ملاقات کے لیئے تیار رہتا ہے۔۔۔

جب موت ایک اٹل حقیقت ہے جس نے نہ پپیغمبروں کو چھوڑا نہ ولیوں کو
موت جب ہر حال میں آنی ہے پھر کرونا سے ڈر کیسا۔۔۔؟

احتیاط لازم ہے کریں لیکن

خوف کو خود سے الگ کر کے دور پھینک دیں۔۔۔
اپنے خالق و مالک اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان کامل اور توکل کریں۔۔۔
خوف اور مایوسی تذبذب اور ہیجانی کیفیت سے انسان کی قوت مدافعت ختم ہوجاتی ہے
انسان ڈیپریشن کا شکار ہو جاتا ہے جب کہ قوت مدافعت ایک دفاعی قوت اور اسلحہ ہے جو کسی بھی بیرونی حملے یا اندتون بیماری سے لڑنے کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔۔۔

اللہ پاک نے کوئی بھی بیماری علاج کے بغیر نہیں پیدا کی، کہتے ہیں کہ پہلے علاج پیدا کیا اس کے بعد بیماری نازل فرمائی جیسے کہ۔۔۔

پہلے رزق نازل کیا زندگی اور موت پیدا کی، زندگی اور موت کی اٹل معیاد مقرر کر کے تقدیر لکھ دی جس میں کسی صورت کوئی بھی کمی بیشہ نہیں ہو سکتی صرف ایک صورت کے علاوہ، اور وہ ہے ایک خاص چیز

صلہ رحمی، خوش اخلاقی، دوسروں کے ساتھ نیکی، خدمت خلق، صدقہ خیرات، صدق و صفائی، عدل انصاف، مظلوموں بے بسوں مجبوروں کی مدد ایثار قربانی، صلہ رحمی اور ان کے کے حقوق کی نگہداشت، ظالموں سے ان کے حقوق کے کر بلکہ چھین کر مظلوموں بے بسوں مجبوروں کو دلانا اور اپنی کوتاہیوں، لغزشوں گناہوں کا اقرار، اعتراف، ان پر ندامت شرمندگی کا اظہار، آئیندہ ان سے بچنے کا وعدہ، نہ کرنے کی سچی کوشش اور ندامت کے آنسوؤں کے نذرانے کے ساتھ
اپنے خالق مالک رازق پاک پروردگار معبود آلہ داتا و دستگیر اللہ وحدہ لاشریک سے سچی اور پکی توبہ استغفار، مدد و نصرت کی دعائیں اور کثرت سے اپنے آقا و مولی امام الانبیاء و المرسلین ختم النبین
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت و عقیدت ان کی پیروی اور اتباع میں زندگی گذارنے کا ارادہ نہیں، پکا عزم مصمم اور جدوجہد کے ساتھ ساتھ درود و سلام کے نذرانے اور وظیفہ۔۔۔

کرونا کےہزاروں مریض صحت یاب ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں
موت اس کو آتی ہے جس کی زندگی کے دن پورے ہوچکے ہوتے ہیں۔۔۔

کرونا اگرچہ چھوت کا مرض ہے ایک دوسرے سے لگتا رہتا ہے
خطرناک اور متعدی ضرور ہے مگر شیطان دجال کی طرح ایمان اور جان لیوا نہیں ہے قابل علاج وائرس ہے لاپرواہی غفلت اور بداحتیاطی سے تو ہر چھوٹی موٹی بیماریاں بھی جان لیوا اور انتہائی خطر ناک بن جاتی ہیں۔۔۔

احتیاطی۔اور حفاظتی تدابیر لازمی اختیار کریں، حفظ ماتقدم کے طور پر صفآئی ستھرائی، حق حلال چیزیں بھی جائز طریقے سے ضرور برتیں لیکن اس خوف کو ذہن میں بٹھا کے موت سے پہلے ہی اپنی زندگی کو موت کے خوف سے بدتر نہ کریں۔۔۔

جینے کی امنگ خود میں پیدا کریں گے حوصلہ اور ہمت رکھیں تو کوئی وائرس آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔
مگر غفلت کا پرواہی، بے احتیاطی، خود غرضی، آوارگی اور حلال حرام، سچ جھوٹ، حق نا حق، عدل و انصاف اور ظلم و ناانصافی، اپنے پرائے کی تمیز ختم کرنے سے ساری دنیا ایک بند گھاٹی میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔۔۔

آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔۔۔

اللہ وہی دے گا، ویسا ہی کرے گا تم جس کی اللہ سے امید رکھتے ہو۔۔۔؟

اللہ تعالی کی شان ہے کہ وہ آپکی امنگوں، گمان خواہشات و توقعات پر کماحقہ پورا اترتا ہے۔۔۔

اللہ وحدہ لاشریک سے اچھی امید رکھو گے تو پھر ہر حال میں اچھا ہی ہوگا۔۔۔
ان شاءاللہ تعالیٰ چیر ہی ہو گی۔۔۔

ایمان، یقین کامل💖اعتقاد، یقین محکم، توکل بھروسہ اسی کو کہتے ہیں اور اس کے بغیر انسان مسلمان تو رہ سکتا ہے مگر پکا اور سچا مسلمان اور مومن نہیں رہ سکتا۔۔۔

میں نے اور آپ نے اپنا اپنا جائزہ لینا ہے اور اپنے اہل و عیال گھر والوں خاندان برادری والوں کو بھی اس کی تعلیم و تربیت دینی ہے اور پھر۔۔۔
اپنے خالق و مالک اللہ وحدہ لاشریک پر اپنے غیر متذلذل ایمان کامل، یقین محکم، توکل اور بھروسے کا مزہ چکھنا ہے پھر دیکھیئے دلوں دماغوں جسموں اور روحوں کو کیسے اعتماد سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے اور کیسے ہر ایک افت، بیماری تکلیف، دکھ درد مصیبت غم سے کیسے نجات ملتی ہے اور شفا کاملہ و عاجلہ نصیب ہوتی ہے ان شا ء اللہ تعالی۔۔۔