کرونا کی حیاتیاتی جنگ دجالی میڈیئے کا شیطانی کردار، خوف وہراس،عظیم پاکستانی قوم، امن و امان حقیقی صورتحال، ایک جائزہ اور تجزیہ:
بشیرکوکب ترابی کے قلم سے سٹار نیوز پر

مملکت خداداداد پاکستان کے ہر گلی محلے قریہ قریہ شہر شہر گاؤں گاؤں گھوم پھر کر دیکھ لیجیئے۔۔۔
اپنی زندہ و بیدار انکھوں سے اپنے گلی محلے، شہر اور پورے وطن عزیز کا جائزہ لیجیے۔۔
اپنیقوم کے اجتماعی کردار و عمل کا گہرا مشاہدہ کیجیئے۔۔۔
آپ کو سچ اور جھوٹ کا فرق واضح طور پر کھل کر نظر آ جائے گا۔۔۔

دجالی شیطانی استعماری طاقتوں ان کے آلہ کار ایجنٹوں اور دجالی میڈیے کے سابقہ اور حالیہ کردار اور میڈیا میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی گہرا مشاہدہ اور تجزیہ کیجیئے۔۔۔
دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ الگ نظر آ جائے گا۔۔۔

آپ شیطانی میڈیا کے پھیلائے ہوئے جھوٹے پروپیگنڈے کی پھیلائے ہوئے خوف و ہراس کی مبنی چیدہ چیدہ تراشیدہ رپورٹس کی حقیقیت بھی جائیئے اور اپنے عزیزوں دوست احباب اور دوستوں سے بھی رابہ کیجیئے۔۔۔
میڈیا کے پروپر گنڈے اس کی رپورٹس اور اس میں پوشیدہ اصل حقائق کا جائزہ لیجیئے اور جھوٹ فراڈ دھوکے اور دجل و فریب کی کلی پوری طرح کھل کر سامنے آ جائے گی۔۔۔

اللہ کے بندو،
اپنی آنکھیں کھولو، جہالت، غفلت اور لاپرواہی سے بچیں اور دین اسلام قرآن و سنت، اسلامی طرز معاشرت اور اسلامی تہذیب و معاشرت اپنائیے۔۔۔
نکاح اور شادی کی رحمتوں برکتوں سے حلال اور جائز اذدواجی کے ساتھ اپنے دلوں ❤️ اور قلب و روح کو خوشیاں آسودگی تسکین اور اطمینان حاصل کیجیئے۔۔۔
صفائی ایمان و اسلام کی بنیادی شرط اور تقاضا ہے الذہنی، فکری، نظریاتی، جسم و جان اور قلب و روح کی پاکیزگی اور طہارت کا سختی سے اہتمام اور حدود کی پابندی کیجیے۔۔۔

گندگی اور آلودگی سے جسم و روح کی ہو یا افکار و نظریات اور طرز عمل سے سختی سے اجتناب کیجیئے۔۔۔

اپنے اوپر بھی رحم کھائیے اور
اس وطن عزیز مملکت خداداد وطن عزیز پاکستان پر بھی رحم کھایئیے۔۔

وطن عزیز پاکستان کی اس کم علم ان پڑھ سادہ اور مممم مظلوم معصوم بے بس مجبور مگر عظیم باغیرت با حمیت اور ژندہ ❤️ قوم اور عوام پر بھی ترس کیجئے۔۔۔

کرپٹ مافیا اور ذخیرہ اندوزوں کا گھیرا تنگ کر لیںجیئے اور اس موقع سے فایدہ اٹھائیئے۔۔۔
ان کے گھروں اور محلوں کا گھیراؤ کیجیئے۔۔۔
ان ظالموں جابروں سے ان اپنا کوٹا اور چھینا ہوا اپنا بنیادی انسانی اور قومی حق اب بہرصورت چھین لیجیئے۔۔۔

میں آج پھر ڈرتا ڈرتا دس بارہ دنوں کے بعد گھر سے باہر نکلا اور کچھ ضروری اشیاء صرف خریدنی تھیں سوچا منڈی چلا جاؤں اور احوال دیگر بھی معلوم کر آؤں شائید کوئی چشم کشاء ہوش ربا حالات و واقعات اور صورت حال کا چشم دید نظارہ ہو جائے کوئی رپورٹ مل جائے گیا اور حیران و پریشاں رہ گیا۔۔

میں نے سمجھا کہ میں کسی اور ملک اور شہر میں آ گیا ہوں۔۔۔

چند سبزی کے تاجروں کے نرخ ناقاںمبل یقین تھے
منڈی میں سبزیوں کے نرخ تھوڑا بہت گھوم پھر کر پتہ کیئے تو حیرت کی انتہا نہ رکھی۔۔۔
گلی محلے کی دکانوں اور عام بازار سے آدھے اور نصف ریٹ تھے۔۔
آلو 40/35 روپے کلو پیاز50/55روپے کلو ٹماٹر 40/45 روپے کلو سبز مرچ 30/35روپے پاؤ اکثر سبزیاں 55/60 روپے کلو سے نیچے مل رہی تھیں۔۔۔
جب کہ پھل ان سے ڈیڑھ اور دو گنا مہنگے تھے۔
کوئی ایمرجینسی اور افراتفری بالکل نہیں تھی سب کچھ سامان معمول کے مطابق مل رہا تھا۔۔۔

پھر خشک سودا جات کی دکان پر گیا کسی قسم کا کوئی رش نہ تھا ہر چیز مناسب نرخوں پر مل رہی تھی یورپ اور امریکہ کی طرح قطاریں نہیں لگی تھیں، ہسپتال بھی گیا قوم کے بیٹے اور بیٹیاں مریضوں کا بہترین طریقہ سے علاج کر رہے تھے اور عام مسلمان اپنے دونوں ہاتھ ساز و سامان سے بھرے ہوئے تھیلے لیئے ان کے تعاون اور امداد کے لیئے لاتے جا رہے تھے۔۔۔

شہر تو 90 فیصد سے زیادہ بند تھا کوئی بحرانی کیفیت نہ تھی، اور نہ ہی کوئی ایمرجنسی تھی۔۔۔۔

حکومتی انتظامیہ کی اکثریت اگرچہ نا اہل ہے اور چند دیانتدار اور وفاشعار مجاھد صفت جذبہء اسلامی اور حمیت ملی سے سرشار انتظامی افسران کی زبانی روز محنت اور بھاگ دوڑ سے نظام حکومت چلتا رہتا ہے ان محنتی محب الوطن جانباز افسران کو سفارشی اور نااھل حکومتی مشینری کے حصے کا کام بھی خود ہی جانفشانی سے کرنا پڑتا ہے ہیہ وجہ ہے کہ چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرا ہوا وطن عزیز مملکت خداداداد پاکستان سیاستدانوں راہنماؤں اور حکمرانوں کے بھیس میں چھپپے ہوئے اکثر انگریز کے وارثوں، شاگردوں، خائن بددیانتی نااھل چور ڈاکو حکمرانوں کے ستر70 سالوں سے لوٹنے کے باوجود دھیرے دھیرے ترقی کر رہا ہے۔۔۔

ہم دیانتدار وفاشعار اصول پسند انتظامی افسران ملی اور قومی کارکنوں اور رضاکاروں کو ہدیئہ سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو اپنے حصے کا کام اور حقوق و فرائض ادا کرنے کے باوجود دن رات ملی اور قومی خدمت میں لگے رہتے ہیں اور اپنے خائن بددیانت نا اہل مکار خود غرض سفارشی بدعنوان چور ڈاکو اور کرپٹ افسران اور حکومتی مشینری کے حصے کا کام بھی کرتے رہتے ہیں۔۔۔

سلام عقیدت سلام شوق ملک و ملت کے جانباز افسرو اور ملازمو، سپاہیو اور خدائی خدمت گار مجاھد فورس کے جوانو۔۔۔
سلام سلام سلام،
محبتوں کے پھول اور گلدستے۔۔۔

عوامنکی اکثریت کم تعلیم یافتہ ہونے کے آبادی کی زیادہ تر اکثریت حکومتی اقدامات پر عمل کر رہی تھی سب کام کرکے جب میں واپس گھر پہنچا گھر والوں کی خیریت دریافت کی الحمدللہ سب ٹھیک تھے۔

ٹیلی ویژن، یو ٹیوب چینلز، وٹس اپ وغیرہ اور دوسرے سوشل میڈیا پر نظریں دوڑائیں تو ہر طرف ہیجانی کیفیت اور شدید بحرانی صورتحال نظر آئی کہ جیسے ملک تباہیو بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے۔۔۔

حکومت اور دوسرے ملکی دفاعی ادارے اور مشینری بالکل سوئی ہوئی ہے عوام مر رہے ہیں۔۔۔
مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے گلی گلی میں کرونا کے مریض تڑپ رہے ہیں یہ سب سن کر اور دیکھ کر شدید دکھ ہوا اور اس سب دجالی شیطانی میڈیئے اور ان کی انتظامیہ اہل کاروں اور اینکروں کا گلا دبانے کا دل چاہا۔۔۔
میں نے جامعہ پنجاب سے ایم ایس سی ابلاغیات کی تعلیم حاصل کی ہے اور چھوٹے موٹے اداروں میں کافی عرصہ کام بھی کرتا رہا ہوں یہ زیادہ پرانی بات نہیں صرف تیس سال پہلے کی بات ہے بڑی مشکل سے صحافیوں کی سفید پوشی کا بھرم قائم رہتا تھا مگر ان کی امانت داری حق گوئی عدل انصاف کا سکہ چلتا تھا خبر کے ذرائع کے پاس روٹی کھانے چائے پینے کو بھی اکثر لوگ برا خیال کرتے تھے اور زرد صحافت کا کیڑا کہتے تھے بعض صحافی اور اخبار نویس درپردہ اور خفیہ طور پر اگر پیسے لے کر خبر لگاتے تو اسے اپنا منہ کالا کرنا کہا جاتا تھا اور اگر کوئی صحافی یا اخبار کسی سیاستدان اور شخصیت کی دلدلی کرتا تھا تو اس کے در کا کتا کہا جاتا تھا اور اس کا پھانڈا (برتن) تک کئی لوگ الگ کر دیتے تھے۔۔۔
صحافت میں اسلامی غیر اسلامی، رائٹیسٹ لیفٹسٹ، ترقی پسند رجعت پسند وغیرہ کی اصطلاع پہچان ہوتی تھی حرام خور، نمک حرام، بد دیانت جھوٹا دجال اور کذب و افترا باز کوئی بدنصیب مشکل سے ملتا تھا۔۔

رشوت، بد دیانتی، ضمیر فروشی کا آغاز دیگر اداروں کی طرح صحافت اور عدالتوں میں نواز شریف کے دور میں ہوا۔۔۔

نواز شریف سابق وزیراعظم کرپٹ صحافت اور کرپٹ عدالتوں کا آغاز کیا اور لوگ پھر عدالتوں اور کچہریوں میں چوری چھپے یا کھلے عام رشوت خوری، ضمیر فروشی، بددیانتی حرام خوری کے لیئے رابطے اور راستے ڈھونڈھنے لگے۔۔۔
جسٹس ریٹائرڈ رفیق تارڑ کے سر صدارت کا اڑتا ہوا ھما اسی حق خدمت کے اعتراف میں اپنے منظور نظر جسٹس ریٹائرڈ کے سر پر بٹھایا گیا جو مال و دولت کے بریف کیس ضمیر اور ایمان کی اجرت اور قوت خرید کے طور پر کے کر کوئیٹہ کراچی اور پشاور جاتے رہے۔۔۔

کنگرو کورٹس کا خطاب بھی عدالتوں کو میںآ نواز شریف سابق وزیر اعظم بانی مسلم لیگ نواز شریف گروپ نے عطا فرمایا اور سپریم کورٹ پر منصوبہ بند حملہ بھی کیا گیا مگر توہین عدالت کا یہ کیس کسی بریف کیس میں چھپی پیسوں کی تھیلیوں کے نیچے دب کر رہ گیا۔۔۔

میر شکیل الرحمن جنگ گروپ کے روشن ستارے جو جوھر ٹاوءن لاھور کے تقریبا سب سے قیمتی اور وی آئی پی علاقے میں 42/52 پلاٹوں کی سوغات میاں نواز شریف نے اتفاق فاؤنڈری کی زکوہ کے پیسوں سے خرید کر ہدیہء عقیدت اور خراج تحسین کے طور پر پیش کی ہو گی۔۔۔

دجالی ان پیڈ مک مکا کی صحافتی خدمات کا برملا آغاز میاں نواز شریف اور آصف زرداری نے ہی کیا۔۔۔

مسٹر ٹین پرسنٹ اور ٹوینٹی پرسینٹ سے ترقی کرتے کرتے
جب ایک صدر مملکت جب ففٹی ففٹی پر آ جائیں اور خفیہ بینک اکاؤنٹس اور اومنی سروسز کی بھرمار سے من پسند سروسز چارجز اینٹھے جانے لگیں۔۔

وزیر اعظم جب اپنی آف شور کمپنیوں کی بھرمار اور ریاستی اداروں کے ترقیاتی کاموں میں اپنی فیکٹریوں کو ٹھیکے دیں گے تو حلال کا نوالہ قوم کے پیٹ میں کدھر سے جائے گا۔۔۔؟؟
حرام خور اور حرام کھانے والا سود خور ظالم عدل اور انصاف کی بات کیسے کر سکے گا۔۔۔۔؟

کلیجے اور جگر پر جب چوٹ پڑتی ہے
جگر اور کلیجے جب پھٹ جانے پر آ جاتے ہیں
غریب عوام کے حقوق جب چھینے جاتے ہیں
بنیادی انسانی حقوق جب سستے داموں بھی میسر نہیں ہوتے
روٹی کپڑے مکان کی آواز لگا کر جب غریب عوام سے روٹی کپڑا اور مکان چھین لیا جاتا ہے
دوائی ٹیکہ گولی جب سونے چاندی کے بھاوء بکنے لگتے ہیں
جسم بیچ کر جب بچوں کا پیٹ نہیں بھرتا تو پھر
بچوں کو نہروں میں پھینک دیا جاتا ہے
بھوکے بچوں کو ریل کی پٹڑی پر لٹا دیا جاتا ہے
بچے برائے فروخت کا اشتہار لگاتے کر ایک ماں اور باپ چوک میں کھڑے ہو جاتے ہیں تو۔۔۔

موضوع سے بات پھر ہٹ جاتی ہے۔۔۔
ٹکڑیوں میں بٹ جاتی ہے
موضوع کی قید میں نہیں رہا جا سکتا۔۔۔
مروجہ صحافت کے کسی اخبار کے صفحے پر اس مضمون اور کالم کو جگہ نہیں مل سکتتی۔۔۔

سوشل میڈیا اور یو ٹیوب چینل تو دور کی بات پیج پر بنے معصوم سے ادارے میں بھی اس کے لیئے جگہ نہیں ہوتی۔۔۔؟

جب تک روزانہ خیر خبر نہ پوچھیے جائے
روانہ جب تک تعریفوں کے پل نہ باندھے جائیں
جب تک تک روزانہ خوشامد نہ کی جائے
جت تک ہدیہء تہنیت مبارک باد اور خراج تحسین کے پیغامات نہ بھیجے جائیں

دجالی میڈیا اور کس کو کہتے ہیں۔۔۔؟
ایمان فروشی اور کیا ہوتی ہے۔۔۔؟
ضمیر فروشی کا چیز کا نام ہے۔۔۔؟
خدا فراموشی کس کام کے نتیجے میں جنم لیتی ہے۔۔۔؟

دجل و فریب اور کیا ہوتا ہے۔۔۔؟
مکاری اور دغا بازی کس ہنر کا نام ہے۔۔۔؟
جھوٹ فراڈ کسی دیگر جنس نایاب کو کہلایا جاتا ہے۔۔۔؟
منافقت کسی اور چیز کا نام اور اتہ پتہ ہے۔۔۔؟
گندگی کھانے والوں کے سروں پر کیا سینگ ہوتے ہیں۔۔۔؟
ایمان فروش کیسے جنم لیتے ہیں۔۔۔؟
ضمیر فروش کیسے ملکوں اور قوموں میں پرورش پاتے پیں۔۔۔؟

خبیث روح کہاں جنم لیتی ہے۔۔۔؟
تہذیبیں اور معاشرے کیسے فنا ہوتے ہیں۔۔۔؟
قومیں زروال انحطاط ذلت اور پستی کا کیسے شکار ہوتی ہیں۔۔۔؟

نفسا نفسی افراتفری کا ماحول کیسے بنایا جاتا ہے۔۔۔؟
لوٹ کھسوٹ کی افزائش نسلوں میں کیسے منتقل کی جاتی ہے۔۔۔؟

دجالی میڈیا کے مکروفریب اور دجالی میڈیا کے اینکروں اور زرخرید دانشوروں مبصروں اور تجزیہ نگاروں کی چلائی جانے والی دجالی مہم اور خباثتوں کے باوجود ہمارے مسلمان عوام کے دلوں میں ایمان کی حرارت غیرت ایمانی اور حمیت اسلامی کچھ نہ کچھ موجود ہے جو اس طرح کے ہنگامی حالات میں تاریخ کے ناقابل فراموش واقعات جنم دیتی ہے اور تاریخ کے دھاروں کے رخ موڑ دیتی ہے

ان مخدوش ہنگامی حالات کے باوجود بھی ہمارے ایمانت دار تاجر معمولی منافع رکھ کر عوام تک اشیائے صرف اور روز مرہ کی ضروریات زندگی پہنچاتے ہیں۔

مخیر حضرات اور انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور اللہ کی رضا کے لیئے خدمت خلق کرنے والوں نے اپنے جیب کھول دیئے ہیں۔

انصاف پسند پسند صحافی اور اینکر صیحیح راہنمائی کرتے ہیں اور ہر طرح کے جھوٹ فراڈ اور دجل و فریب کے پردے چاک کرتے ہیں۔

یہ ہمارا اپنا آزاد اور خودمختار ملک ہے۔۔۔
یہ ہمارا اپنا پیارا وطن عزیز ❤️ اور قلب و جگر ہے۔۔۔

مملکت خداد پاکستان ہمارے اللہ کا ہم پر انعام ہے
اس کی رحمتوں اور فضل و کرم کا سائبان ہے۔

یہ ہماری آزاد سرزمین ❤️ ہے جو شہیدوں غازیوں اور مجاہدوں کے مقدس اور پاک لہو سے بار بار لالہ زار ہوتی رہی ہے۔

پاکستان ❤️ بڑی ہی زرخیز سرسبز و شاداب سرزمین ہے۔۔۔

انواع و اقسام کے خطوں میدانوں پہاڑوں صحراوں، گلزاروں مرغزاروں کی طرح نے نئی فصلوں، پھلوں،موسموں آب و ہوا کی بہار اندر بہار ہے۔۔۔

اسی طرح یہ خط مردم خیز بھی ہے۔
یہ شہیدوں غازیوں مجاہدوں جانثاروں خدمت گزاروں کی سرزمین ہے۔

یہ ہمارے عظیم لوگ ہی ہیں جو ہر مشکل میں ملک و قوم کے ساتھ کھڑے ہو جاتی ہیں۔۔۔
ہر مصیبت، ہر آفت اور ہر آزمائش کی گھڑی میں ان کا جذبہء ایمانی حب الوطنی اور خدمت خلق دریاؤں سمندروں کی طوفانی لہروں کی طرح جوش مارتا ہے۔

ان زندہ ❤️ اور عظیم لوگوں کے ٹھاٹھیں مارتے جذبے اور ولولے دیدنی ہوتے ہیں۔۔۔
چند بدبخت قسم کے لٹیروں ذخیرہ اندوزوں غاصبوں چوروں اور ڈاکووں کا سرسری تذکرہ ہو چکا ہے
انصاف پسند میڈیا ان کو سامنے لانے کا ذنہ دار ہے
عدالت اور انتظامی ادارے کارروائی کے پابند اور جواب دہ ہیں
تفصیلات مزید لکھی جانے والی تاریخ رقم کرے گی

کاتب تقدیر کے ذرائع ابلاغ اور اس کا سمعی بصری تکوینی ذرائع مواصلات اور اس کا میڈیا سب دیکھ رہا ہے لکھ رہا ہے۔۔۔

مورخ بھی ہر ہر جگہ اس نظام اور اداروں اس کے منتظمین منتظمین اور ملک و قوم کے سیاستدانوں رہنماؤں اور شعبدہ بازوں کا احوال لکھے گا۔۔۔

کرام الکاتبین بھی مسلسل لکھ رہے ہیں اور تا ابد لکھیں گے
منکر نکیر بھی حساب لیں گے
مکافات عمل بھی کوڑا برسائے گاجڈ کی آنکھیں کھل گئیں وہ بچ گیا وگرنہ راندہ درگا ہو گیا

شیطان بھی قانون فطرت اور قدرت کا نافرمان تھا پیدا کرنے والے خالق مالک رازق معبود برحق الہ اللہ وحدہ لاشریک رب العالمین کی نافرمانی اور کٹ ہجتیوں پر اتر آیا تھا وہ اسی لیئے راندہ درسگاہ ہوا۔۔۔

جھنجھوڑا جا رہا ہے ہمیں کہ ہم سوچیں غور و فکر کریں اور اس کے در پر پلٹ جائیں۔
عذاب کا کوڑا ابھی نہیں برسا
کان کھینچے جا رہے ہیں ابھی تک فقط
توجہ دلائی جا رہی ہے صرف۔۔۔

عذاب قوم نوح قوم لوط قوم عاد قوم ثمود اور بنی اسرائیل پر آیا تھا۔۔۔
پل بھر میں گھنٹوں اور پیروں میں، اور صرف دنوں میں ان کو تہ و بالا کر کے، مسمار کر کے تباہ برباد کر کے ملیامیٹ کر کے رکھ دیا گیا۔۔۔

ہمیں فقط بار بار جھنجھوڑا جا رہا ہے۔۔۔

پھر ہم کیوں اتنے زیادہ اور اس قدر ناشکرے ہو گئے ہیں۔۔۔؟

اللہ تعالی نے ایک بہت بڑی وبا کو ہم سے دور رکھا ہوا ہے
حکومت اپنے تائیں اپنی بساط کی حد تک چھوٹے موٹے کام بہتر طور پر کر رہی ہے۔۔۔

خرابیاں بہت اور ان گنت ہیں مگر فورا ان کی اصلاح نہیں ہو سکتی اس کی اگر حکومت اور اداروں نے اصلاح نہ کی تو پھر آپ انھیں اگلے الیکشن میں کلی طور پر گھر بھیج دیں۔۔۔

خدمت خلق اور انسانیت کی خدمت کے جذبوں سے ارشاد بہت سارے رفاہی ادارے اور مخیر حضرات بھی ملک کے طول و عرض میں دن رات عوامی خدمت میں مصروف ہیں

اعلانیہ بھی اور خفیہ بھی۔۔۔
اللہ پاک سب کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور ثمر بار کرے اور عام مسلمانوں کو بھی اس راہ پر گامزن فرمائے آمین ثم امین۔۔۔

الحمدللہ رب العالمین۔ شکر ہے

میں ٹھیک ہوں شکر ہے صد ہزار شکر ہے میرا خاندان برادری ٹھیک ہے
میرا محلہ ٹھیک ہے میری کالونی ٹھیک ہے میرا شہر ٹھیک ہے لیکن اس کے باوجود ملک تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے ہمیں ہر کوئی بےایمان نظر آتا ہے ہر طرف افراتفری نظر آتی ہے

ایک آئینہ اپنے سامنے رکھ لیجیئے فقط ایک ایینہ، ایک صاف شفاف ائینہ، دیانت داری اور سچائی سے اس کی سطح کو کما حقہ صاف کر لیجیئے۔۔۔

خدارا اپنے اندر جھانکئے،
مالک کائنات کی ناشکری سے بچیئے۔
اپنے لوگوں اور اپنے وطن سے پیار کیجئے۔۔۔
ہیجانی کیفیت خوف ڈر برپا کرنے سے باز رہیے۔۔۔
معاشرے میں مثبت باتوں کو پھیلایئے اور۔۔۔
آخری بات۔۔۔۔۔
یاد رکھییئے۔۔۔!
ہمارے مملکت خداداداد پاکستان جیسا دیس ملک اور وطن دنیا میں اور کہیں نہیں ملے گا۔۔۔
نہ ہی کہیں اور دنیا کے کسی کونے میں اس طرح کی عظیم قوم آباد ہے۔۔۔
جائیے دنیا کا کونہ کونہ گھوم پھر کیجیئے۔۔
عرب و عجم مشرق مغرب شمال جنوب ہر طرف کی خان چھان مار لیجیئے۔۔۔

خدا را دجالی شیطانی استعماری سامراجی طاقتوں کے تنخواہ دار وظیفہ خوار نہ بنیئے۔۔۔
اسلام دشمن،ملک دشمن، مسلم دشمن، ملت دشمن اور انسانیت دشمن داروں کی کاسہ لیسیی اور خوشامد کر کے اپنے پیٹوں میں آگ نہ بھریئیے۔۔۔
اپنی آل اولاد اور آئیندہ نسلوں کو اس حرام خوری سے اب تو نجات دلوایئے۔۔۔؟
قبل اس کے کہ آپ کا پیدا کرنے والا خالق مالک رازق معبود برحق، مسجود حقیقی اور اولی آلہ اللہ وحدہ لاشریک اللہ رب العالمین کی ناراضگی اور اس کا غضب کا کوڑا پرانی نافرمان امتوں کی طرح آپ پر بھی نہ برس جائے۔۔۔
موقع کو غنیمت جایئیے۔۔۔
انفرادی اور اجتماعی توبہ استغفار کیجیئے۔۔۔
اپنے رویوں کو اب تو بدل لیجیئے۔۔۔
اپنی غلطیوں، کوتاہیوں، جرائم اور گناہوں کا ازالہ کیجیئے۔۔۔
ارادے اور عزم مصمم کا ا ھی تہیہ کیجیئے۔۔۔
وہ الرحمن، الرحیم، الغفور، الغفار الرحیم اور موجیب الدعوات ہے۔۔
جی بھر کے دعائیں کیجیئے، توبہ کیجیئے وہ حد درجہ توبہ قبول کرنے والے اور معاف کرنے والا اور درجات بھی بلند کرنے والا ہے۔۔۔
ذرا اس کے در پر آ کر تو دیکھیئے,
درا اس کے در پر ھجک کر تو دیکھیئے،
ذرا روز مرہ زندگی اور رویئے میں اپنی سوچ فکر رویے اور کردار و عمل میں تبدیلی کا ارادہ عزم اور فیصلہ تو کر کے دیکھیے۔۔۔
وہ آپ کو گمراہی سے واپس لے آئے گا،
وہ آپ کا بھٹکا ہوا ہاتھ پکڑ لے گا،
وہ آپ کا ساتھی مولی مددگار حامی و ناصر وہ جائے گا،
وہ آپ کو اپنا بنا کے گا،
وہ پھر آپ کا ہو جائے گا۔۔۔

ان شاء اللہ، ان شا ءاللہ، ان شاءاللہ۔۔۔

اسلام ژندہ باد
پاکستان زندہ باد
پاکستان کے ژندہ دل غیرت مند اور عظیم عوام پائندہ باد۔۔

( تحریر و پیشکش:
بشیر کوکب ترابی کاشمیری)کے ہر گلی محلے قریہ قریہ شہر شہر گاؤں گاؤں گھوم پھر کر دیکھ لیجیئے۔۔۔
اپنی زندہ و بیدار انکھوں سے اپنے گلی محلے، شہر اور پورے وطن عزیز کا جائزہ لیجیے۔۔
اپنیقوم کے اجتماعی کردار و عمل کا گہرا مشاہدہ کیجیئے۔۔۔
آپ کو سچ اور جھوٹ کا فرق واضح طور پر کھل کر نظر آ جائے گا۔۔۔

دجالی شیطانی استعماری طاقتوں ان کے آلہ کار ایجنٹوں اور دجالی میڈیے کے سابقہ اور حالیہ کردار اور میڈیا میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی گہرا مشاہدہ اور تجزیہ کیجیئے۔۔۔
دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ الگ نظر آ جائے گا۔۔۔

آپ شیطانی میڈیا کے پھیلائے ہوئے جھوٹے پروپیگنڈے کی پھیلائے ہوئے خوف و ہراس کی مبنی چیدہ چیدہ تراشیدہ رپورٹس کی حقیقیت بھی جائیئے اور اپنے عزیزوں دوست احباب اور دوستوں سے بھی رابہ کیجیئے۔۔۔
میڈیا کے پروپر گنڈے اس کی رپورٹس اور اس میں پوشیدہ اصل حقائق کا جائزہ لیجیئے اور جھوٹ فراڈ دھوکے اور دجل و فریب کی کلی پوری طرح کھل کر سامنے آ جائے گی۔۔۔

اللہ کے بندو،
اپنی آنکھیں کھولو، جہالت، غفلت اور لاپرواہی سے بچیں اور دین اسلام قرآن و سنت، اسلامی طرز معاشرت اور اسلامی تہذیب و معاشرت اپنائیے۔۔۔
نکاح اور شادی کی رحمتوں برکتوں سے حلال اور جائز اذدواجی کے ساتھ اپنے دلوں ❤️ اور قلب و روح کو خوشیاں آسودگی تسکین اور اطمینان حاصل کیجیئے۔۔۔
صفائی ایمان و اسلام کی بنیادی شرط اور تقاضا ہے الذہنی، فکری، نظریاتی، جسم و جان اور قلب و روح کی پاکیزگی اور طہارت کا سختی سے اہتمام اور حدود کی پابندی کیجیے۔۔۔

گندگی اور آلودگی سے جسم و روح کی ہو یا افکار و نظریات اور طرز عمل سے سختی سے اجتناب کیجیئے۔۔۔

اپنے اوپر بھی رحم کھائیے اور
اس وطن عزیز مملکت خداداد وطن عزیز پاکستان پر بھی رحم کھایئیے۔۔

وطن عزیز پاکستان کی اس کم علم ان پڑھ سادہ اور مممم مظلوم معصوم بے بس مجبور مگر عظیم باغیرت با حمیت اور ژندہ ❤️ قوم اور عوام پر بھی ترس کیجئے۔۔۔

کرپٹ مافیا اور ذخیرہ اندوزوں کا گھیرا تنگ کر لیںجیئے اور اس موقع سے فایدہ اٹھائیئے۔۔۔
ان کے گھروں اور محلوں کا گھیراؤ کیجیئے۔۔۔
ان ظالموں جابروں سے ان اپنا کوٹا اور چھینا ہوا اپنا بنیادی انسانی اور قومی حق اب بہرصورت چھین لیجیئے۔۔۔

میں آج پھر ڈرتا ڈرتا دس بارہ دنوں کے بعد گھر سے باہر نکلا اور کچھ ضروری اشیاء صرف خریدنی تھیں سوچا منڈی چلا جاؤں اور احوال دیگر بھی معلوم کر آؤں شائید کوئی چشم کشاء ہوش ربا حالات و واقعات اور صورت حال کا چشم دید نظارہ ہو جائے کوئی رپورٹ مل جائے گیا اور حیران و پریشاں رہ گیا۔۔

میں نے سمجھا کہ میں کسی اور ملک اور شہر میں آ گیا ہوں۔۔۔

چند سبزی کے تاجروں کے نرخ ناقاںمبل یقین تھے
منڈی میں سبزیوں کے نرخ تھوڑا بہت گھوم پھر کر پتہ کیئے تو حیرت کی انتہا نہ رکھی۔۔۔
گلی محلے کی دکانوں اور عام بازار سے آدھے اور نصف ریٹ تھے۔۔
آلو 40/35 روپے کلو پیاز50/55روپے کلو ٹماٹر 40/45 روپے کلو سبز مرچ 30/35روپے پاؤ اکثر سبزیاں 55/60 روپے کلو سے نیچے مل رہی تھیں۔۔۔
جب کہ پھل ان سے ڈیڑھ اور دو گنا مہنگے تھے۔
کوئی ایمرجینسی اور افراتفری بالکل نہیں تھی سب کچھ سامان معمول کے مطابق مل رہا تھا۔۔۔

پھر خشک سودا جات کی دکان پر گیا کسی قسم کا کوئی رش نہ تھا ہر چیز مناسب نرخوں پر مل رہی تھی یورپ اور امریکہ کی طرح قطاریں نہیں لگی تھیں، ہسپتال بھی گیا قوم کے بیٹے اور بیٹیاں مریضوں کا بہترین طریقہ سے علاج کر رہے تھے اور عام مسلمان اپنے دونوں ہاتھ ساز و سامان سے بھرے ہوئے تھیلے لیئے ان کے تعاون اور امداد کے لیئے لاتے جا رہے تھے۔۔۔

شہر تو 90 فیصد سے زیادہ بند تھا کوئی بحرانی کیفیت نہ تھی، اور نہ ہی کوئی ایمرجنسی تھی۔۔۔۔

حکومتی انتظامیہ کی اکثریت اگرچہ نا اہل ہے اور چند دیانتدار اور وفاشعار مجاھد صفت جذبہء اسلامی اور حمیت ملی سے سرشار انتظامی افسران کی زبانی روز محنت اور بھاگ دوڑ سے نظام حکومت چلتا رہتا ہے ان محنتی محب الوطن جانباز افسران کو سفارشی اور نااھل حکومتی مشینری کے حصے کا کام بھی خود ہی جانفشانی سے کرنا پڑتا ہے ہیہ وجہ ہے کہ چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرا ہوا وطن عزیز مملکت خداداداد پاکستان سیاستدانوں راہنماؤں اور حکمرانوں کے بھیس میں چھپپے ہوئے اکثر انگریز کے وارثوں، شاگردوں، خائن بددیانتی نااھل چور ڈاکو حکمرانوں کے ستر70 سالوں سے لوٹنے کے باوجود دھیرے دھیرے ترقی کر رہا ہے۔۔۔

ہم دیانتدار وفاشعار اصول پسند انتظامی افسران ملی اور قومی کارکنوں اور رضاکاروں کو ہدیئہ سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو اپنے حصے کا کام اور حقوق و فرائض ادا کرنے کے باوجود دن رات ملی اور قومی خدمت میں لگے رہتے ہیں اور اپنے خائن بددیانت نا اہل مکار خود غرض سفارشی بدعنوان چور ڈاکو اور کرپٹ افسران اور حکومتی مشینری کے حصے کا کام بھی کرتے رہتے ہیں۔۔۔

سلام عقیدت سلام شوق ملک و ملت کے جانباز افسرو اور ملازمو، سپاہیو اور خدائی خدمت گار مجاھد فورس کے جوانو۔۔۔
سلام سلام سلام،
محبتوں کے پھول اور گلدستے۔۔۔

عوامنکی اکثریت کم تعلیم یافتہ ہونے کے آبادی کی زیادہ تر اکثریت حکومتی اقدامات پر عمل کر رہی تھی سب کام کرکے جب میں واپس گھر پہنچا گھر والوں کی خیریت دریافت کی الحمدللہ سب ٹھیک تھے۔

ٹیلی ویژن، یو ٹیوب چینلز، وٹس اپ وغیرہ اور دوسرے سوشل میڈیا پر نظریں دوڑائیں تو ہر طرف ہیجانی کیفیت اور شدید بحرانی صورتحال نظر آئی کہ جیسے ملک تباہیو بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے۔۔۔

حکومت اور دوسرے ملکی دفاعی ادارے اور مشینری بالکل سوئی ہوئی ہے عوام مر رہے ہیں۔۔۔
مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے گلی گلی میں کرونا کے مریض تڑپ رہے ہیں یہ سب سن کر اور دیکھ کر شدید دکھ ہوا اور اس سب دجالی شیطانی میڈیئے اور ان کی انتظامیہ اہل کاروں اور اینکروں کا گلا دبانے کا دل چاہا۔۔۔
میں نے جامعہ پنجاب سے ایم ایس سی ابلاغیات کی تعلیم حاصل کی ہے اور چھوٹے موٹے اداروں میں کافی عرصہ کام بھی کرتا رہا ہوں یہ زیادہ پرانی بات نہیں صرف تیس سال پہلے کی بات ہے بڑی مشکل سے صحافیوں کی سفید پوشی کا بھرم قائم رہتا تھا مگر ان کی امانت داری حق گوئی عدل انصاف کا سکہ چلتا تھا خبر کے ذرائع کے پاس روٹی کھانے چائے پینے کو بھی اکثر لوگ برا خیال کرتے تھے اور زرد صحافت کا کیڑا کہتے تھے بعض صحافی اور اخبار نویس درپردہ اور خفیہ طور پر اگر پیسے لے کر خبر لگاتے تو اسے اپنا منہ کالا کرنا کہا جاتا تھا اور اگر کوئی صحافی یا اخبار کسی سیاستدان اور شخصیت کی دلدلی کرتا تھا تو اس کے در کا کتا کہا جاتا تھا اور اس کا پھانڈا (برتن) تک کئی لوگ الگ کر دیتے تھے۔۔۔
صحافت میں اسلامی غیر اسلامی، رائٹیسٹ لیفٹسٹ، ترقی پسند رجعت پسند وغیرہ کی اصطلاع پہچان ہوتی تھی حرام خور، نمک حرام، بد دیانت جھوٹا دجال اور کذب و افترا باز کوئی بدنصیب مشکل سے ملتا تھا۔۔

رشوت، بد دیانتی، ضمیر فروشی کا آغاز دیگر اداروں کی طرح صحافت اور عدالتوں میں نواز شریف کے دور میں ہوا۔۔۔

نواز شریف سابق وزیراعظم کرپٹ صحافت اور کرپٹ عدالتوں کا آغاز کیا اور لوگ پھر عدالتوں اور کچہریوں میں چوری چھپے یا کھلے عام رشوت خوری، ضمیر فروشی، بددیانتی حرام خوری کے لیئے رابطے اور راستے ڈھونڈھنے لگے۔۔۔
جسٹس ریٹائرڈ رفیق تارڑ کے سر صدارت کا اڑتا ہوا ھما اسی حق خدمت کے اعتراف میں اپنے منظور نظر جسٹس ریٹائرڈ کے سر پر بٹھایا گیا جو مال و دولت کے بریف کیس ضمیر اور ایمان کی اجرت اور قوت خرید کے طور پر کے کر کوئیٹہ کراچی اور پشاور جاتے رہے۔۔۔

کنگرو کورٹس کا خطاب بھی عدالتوں کو میںآ نواز شریف سابق وزیر اعظم بانی مسلم لیگ نواز شریف گروپ نے عطا فرمایا اور سپریم کورٹ پر منصوبہ بند حملہ بھی کیا گیا مگر توہین عدالت کا یہ کیس کسی بریف کیس میں چھپی پیسوں کی تھیلیوں کے نیچے دب کر رہ گیا۔۔۔

میر شکیل الرحمن جنگ گروپ کے روشن ستارے جو جوھر ٹاوءن لاھور کے تقریبا سب سے قیمتی اور وی آئی پی علاقے میں 42/52 پلاٹوں کی سوغات میاں نواز شریف نے اتفاق فاؤنڈری کی زکوہ کے پیسوں سے خرید کر ہدیہء عقیدت اور خراج تحسین کے طور پر پیش کی ہو گی۔۔۔

دجالی ان پیڈ مک مکا کی صحافتی خدمات کا برملا آغاز میاں نواز شریف اور آصف زرداری نے ہی کیا۔۔۔

مسٹر ٹین پرسنٹ اور ٹوینٹی پرسینٹ سے ترقی کرتے کرتے
جب ایک صدر مملکت جب ففٹی ففٹی پر آ جائیں اور خفیہ بینک اکاؤنٹس اور اومنی سروسز کی بھرمار سے من پسند سروسز چارجز اینٹھے جانے لگیں۔۔

وزیر اعظم جب اپنی آف شور کمپنیوں کی بھرمار اور ریاستی اداروں کے ترقیاتی کاموں میں اپنی فیکٹریوں کو ٹھیکے دیں گے تو حلال کا نوالہ قوم کے پیٹ میں کدھر سے جائے گا۔۔۔؟؟
حرام خور اور حرام کھانے والا سود خور ظالم عدل اور انصاف کی بات کیسے کر سکے گا۔۔۔۔؟

کلیجے اور جگر پر جب چوٹ پڑتی ہے
جگر اور کلیجے جب پھٹ جانے پر آ جاتے ہیں
غریب عوام کے حقوق جب چھینے جاتے ہیں
بنیادی انسانی حقوق جب سستے داموں بھی میسر نہیں ہوتے
روٹی کپڑے مکان کی آواز لگا کر جب غریب عوام سے روٹی کپڑا اور مکان چھین لیا جاتا ہے
دوائی ٹیکہ گولی جب سونے چاندی کے بھاوء بکنے لگتے ہیں
جسم بیچ کر جب بچوں کا پیٹ نہیں بھرتا تو پھر
بچوں کو نہروں میں پھینک دیا جاتا ہے
بھوکے بچوں کو ریل کی پٹڑی پر لٹا دیا جاتا ہے
بچے برائے فروخت کا اشتہار لگاتے کر ایک ماں اور باپ چوک میں کھڑے ہو جاتے ہیں تو۔۔۔

موضوع سے بات پھر ہٹ جاتی ہے۔۔۔
ٹکڑیوں میں بٹ جاتی ہے
موضوع کی قید میں نہیں رہا جا سکتا۔۔۔
مروجہ صحافت کے کسی اخبار کے صفحے پر اس مضمون اور کالم کو جگہ نہیں مل سکتتی۔۔۔

سوشل میڈیا اور یو ٹیوب چینل تو دور کی بات پیج پر بنے معصوم سے ادارے میں بھی اس کے لیئے جگہ نہیں ہوتی۔۔۔؟

جب تک روزانہ خیر خبر نہ پوچھیے جائے
روانہ جب تک تعریفوں کے پل نہ باندھے جائیں
جب تک تک روزانہ خوشامد نہ کی جائے
جت تک ہدیہء تہنیت مبارک باد اور خراج تحسین کے پیغامات نہ بھیجے جائیں

دجالی میڈیا اور کس کو کہتے ہیں۔۔۔؟
ایمان فروشی اور کیا ہوتی ہے۔۔۔؟
ضمیر فروشی کا چیز کا نام ہے۔۔۔؟
خدا فراموشی کس کام کے نتیجے میں جنم لیتی ہے۔۔۔؟

دجل و فریب اور کیا ہوتا ہے۔۔۔؟
مکاری اور دغا بازی کس ہنر کا نام ہے۔۔۔؟
جھوٹ فراڈ کسی دیگر جنس نایاب کو کہلایا جاتا ہے۔۔۔؟
منافقت کسی اور چیز کا نام اور اتہ پتہ ہے۔۔۔؟
گندگی کھانے والوں کے سروں پر کیا سینگ ہوتے ہیں۔۔۔؟
ایمان فروش کیسے جنم لیتے ہیں۔۔۔؟
ضمیر فروش کیسے ملکوں اور قوموں میں پرورش پاتے پیں۔۔۔؟

خبیث روح کہاں جنم لیتی ہے۔۔۔؟
تہذیبیں اور معاشرے کیسے فنا ہوتے ہیں۔۔۔؟
قومیں زروال انحطاط ذلت اور پستی کا کیسے شکار ہوتی ہیں۔۔۔؟

نفسا نفسی افراتفری کا ماحول کیسے بنایا جاتا ہے۔۔۔؟
لوٹ کھسوٹ کی افزائش نسلوں میں کیسے منتقل کی جاتی ہے۔۔۔؟

دجالی میڈیا کے مکروفریب اور دجالی میڈیا کے اینکروں اور زرخرید دانشوروں مبصروں اور تجزیہ نگاروں کی چلائی جانے والی دجالی مہم اور خباثتوں کے باوجود ہمارے مسلمان عوام کے دلوں میں ایمان کی حرارت غیرت ایمانی اور حمیت اسلامی کچھ نہ کچھ موجود ہے جو اس طرح کے ہنگامی حالات میں تاریخ کے ناقابل فراموش واقعات جنم دیتی ہے اور تاریخ کے دھاروں کے رخ موڑ دیتی ہے

ان مخدوش ہنگامی حالات کے باوجود بھی ہمارے ایمانت دار تاجر معمولی منافع رکھ کر عوام تک اشیائے صرف اور روز مرہ کی ضروریات زندگی پہنچاتے ہیں۔

مخیر حضرات اور انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور اللہ کی رضا کے لیئے خدمت خلق کرنے والوں نے اپنے جیب کھول دیئے ہیں۔

انصاف پسند پسند صحافی اور اینکر صیحیح راہنمائی کرتے ہیں اور ہر طرح کے جھوٹ فراڈ اور دجل و فریب کے پردے چاک کرتے ہیں۔

یہ ہمارا اپنا آزاد اور خودمختار ملک ہے۔۔۔
یہ ہمارا اپنا پیارا وطن عزیز ❤️ اور قلب و جگر ہے۔۔۔

مملکت خداد پاکستان ہمارے اللہ کا ہم پر انعام ہے
اس کی رحمتوں اور فضل و کرم کا سائبان ہے۔

یہ ہماری آزاد سرزمین ❤️ ہے جو شہیدوں غازیوں اور مجاہدوں کے مقدس اور پاک لہو سے بار بار لالہ زار ہوتی رہی ہے۔

پاکستان ❤️ بڑی ہی زرخیز سرسبز و شاداب سرزمین ہے۔۔۔

انواع و اقسام کے خطوں میدانوں پہاڑوں صحراوں، گلزاروں مرغزاروں کی طرح نے نئی فصلوں، پھلوں،موسموں آب و ہوا کی بہار اندر بہار ہے۔۔۔

اسی طرح یہ خط مردم خیز بھی ہے۔
یہ شہیدوں غازیوں مجاہدوں جانثاروں خدمت گزاروں کی سرزمین ہے۔

یہ ہمارے عظیم لوگ ہی ہیں جو ہر مشکل میں ملک و قوم کے ساتھ کھڑے ہو جاتی ہیں۔۔۔
ہر مصیبت، ہر آفت اور ہر آزمائش کی گھڑی میں ان کا جذبہء ایمانی حب الوطنی اور خدمت خلق دریاؤں سمندروں کی طوفانی لہروں کی طرح جوش مارتا ہے۔

ان زندہ ❤️ اور عظیم لوگوں کے ٹھاٹھیں مارتے جذبے اور ولولے دیدنی ہوتے ہیں۔۔۔
چند بدبخت قسم کے لٹیروں ذخیرہ اندوزوں غاصبوں چوروں اور ڈاکووں کا سرسری تذکرہ ہو چکا ہے
انصاف پسند میڈیا ان کو سامنے لانے کا ذنہ دار ہے
عدالت اور انتظامی ادارے کارروائی کے پابند اور جواب دہ ہیں
تفصیلات مزید لکھی جانے والی تاریخ رقم کرے گی

کاتب تقدیر کے ذرائع ابلاغ اور اس کا سمعی بصری تکوینی ذرائع مواصلات اور اس کا میڈیا سب دیکھ رہا ہے لکھ رہا ہے۔۔۔

مورخ بھی ہر ہر جگہ اس نظام اور اداروں اس کے منتظمین منتظمین اور ملک و قوم کے سیاستدانوں رہنماؤں اور شعبدہ بازوں کا احوال لکھے گا۔۔۔

کرام الکاتبین بھی مسلسل لکھ رہے ہیں اور تا ابد لکھیں گے
منکر نکیر بھی حساب لیں گے
مکافات عمل بھی کوڑا برسائے گاجڈ کی آنکھیں کھل گئیں وہ بچ گیا وگرنہ راندہ درگا ہو گیا

شیطان بھی قانون فطرت اور قدرت کا نافرمان تھا پیدا کرنے والے خالق مالک رازق معبود برحق الہ اللہ وحدہ لاشریک رب العالمین کی نافرمانی اور کٹ ہجتیوں پر اتر آیا تھا وہ اسی لیئے راندہ درسگاہ ہوا۔۔۔

جھنجھوڑا جا رہا ہے ہمیں کہ ہم سوچیں غور و فکر کریں اور اس کے در پر پلٹ جائیں۔
عذاب کا کوڑا ابھی نہیں برسا
کان کھینچے جا رہے ہیں ابھی تک فقط
توجہ دلائی جا رہی ہے صرف۔۔۔

عذاب قوم نوح قوم لوط قوم عاد قوم ثمود اور بنی اسرائیل پر آیا تھا۔۔۔
پل بھر میں گھنٹوں اور پیروں میں، اور صرف دنوں میں ان کو تہ و بالا کر کے، مسمار کر کے تباہ برباد کر کے ملیامیٹ کر کے رکھ دیا گیا۔۔۔

ہمیں فقط بار بار جھنجھوڑا جا رہا ہے۔۔۔

پھر ہم کیوں اتنے زیادہ اور اس قدر ناشکرے ہو گئے ہیں۔۔۔؟

اللہ تعالی نے ایک بہت بڑی وبا کو ہم سے دور رکھا ہوا ہے
حکومت اپنے تائیں اپنی بساط کی حد تک چھوٹے موٹے کام بہتر طور پر کر رہی ہے۔۔۔

خرابیاں بہت اور ان گنت ہیں مگر فورا ان کی اصلاح نہیں ہو سکتی اس کی اگر حکومت اور اداروں نے اصلاح نہ کی تو پھر آپ انھیں اگلے الیکشن میں کلی طور پر گھر بھیج دیں۔۔۔

خدمت خلق اور انسانیت کی خدمت کے جذبوں سے ارشاد بہت سارے رفاہی ادارے اور مخیر حضرات بھی ملک کے طول و عرض میں دن رات عوامی خدمت میں مصروف ہیں

اعلانیہ بھی اور خفیہ بھی۔۔۔
اللہ پاک سب کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور ثمر بار کرے اور عام مسلمانوں کو بھی اس راہ پر گامزن فرمائے آمین ثم امین۔۔۔

الحمدللہ رب العالمین۔ شکر ہے

میں ٹھیک ہوں شکر ہے صد ہزار شکر ہے میرا خاندان برادری ٹھیک ہے
میرا محلہ ٹھیک ہے میری کالونی ٹھیک ہے میرا شہر ٹھیک ہے لیکن اس کے باوجود ملک تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے ہمیں ہر کوئی بےایمان نظر آتا ہے ہر طرف افراتفری نظر آتی ہے

ایک آئینہ اپنے سامنے رکھ لیجیئے فقط ایک ایینہ، ایک صاف شفاف ائینہ، دیانت داری اور سچائی سے اس کی سطح کو کما حقہ صاف کر لیجیئے۔۔۔

خدارا اپنے اندر جھانکئے،
مالک کائنات کی ناشکری سے بچیئے۔
اپنے لوگوں اور اپنے وطن سے پیار کیجئے۔۔۔
ہیجانی کیفیت خوف ڈر برپا کرنے سے باز رہیے۔۔۔
معاشرے میں مثبت باتوں کو پھیلایئے اور۔۔۔
آخری بات۔۔۔۔۔
یاد رکھییئے۔۔۔!
ہمارے مملکت خداداداد پاکستان جیسا دیس ملک اور وطن دنیا میں اور کہیں نہیں ملے گا۔۔۔
نہ ہی کہیں اور دنیا کے کسی کونے میں اس طرح کی عظیم قوم آباد ہے۔۔۔
جائیے دنیا کا کونہ کونہ گھوم پھر کیجیئے۔۔
عرب و عجم مشرق مغرب شمال جنوب ہر طرف کی خان چھان مار لیجیئے۔۔۔

خدا را دجالی شیطانی استعماری سامراجی طاقتوں کے تنخواہ دار وظیفہ خوار نہ بنیئے۔۔۔
اسلام دشمن،ملک دشمن، مسلم دشمن، ملت دشمن اور انسانیت دشمن داروں کی کاسہ لیسیی اور خوشامد کر کے اپنے پیٹوں میں آگ نہ بھریئیے۔۔۔
اپنی آل اولاد اور آئیندہ نسلوں کو اس حرام خوری سے اب تو نجات دلوایئے۔۔۔؟
قبل اس کے کہ آپ کا پیدا کرنے والا خالق مالک رازق معبود برحق، مسجود حقیقی اور اولی آلہ اللہ وحدہ لاشریک اللہ رب العالمین کی ناراضگی اور اس کا غضب کا کوڑا پرانی نافرمان امتوں کی طرح آپ پر بھی نہ برس جائے۔۔۔
موقع کو غنیمت جایئیے۔۔۔
انفرادی اور اجتماعی توبہ استغفار کیجیئے۔۔۔
اپنے رویوں کو اب تو بدل لیجیئے۔۔۔
اپنی غلطیوں، کوتاہیوں، جرائم اور گناہوں کا ازالہ کیجیئے۔۔۔
ارادے اور عزم مصمم کا ا ھی تہیہ کیجیئے۔۔۔
وہ الرحمن، الرحیم، الغفور، الغفار الرحیم اور موجیب الدعوات ہے۔۔
جی بھر کے دعائیں کیجیئے، توبہ کیجیئے وہ حد درجہ توبہ قبول کرنے والے اور معاف کرنے والا اور درجات بھی بلند کرنے والا ہے۔۔۔
ذرا اس کے در پر آ کر تو دیکھیئے,
درا اس کے در پر ھجک کر تو دیکھیئے،
ذرا روز مرہ زندگی اور رویئے میں اپنی سوچ فکر رویے اور کردار و عمل میں تبدیلی کا ارادہ عزم اور فیصلہ تو کر کے دیکھیے۔۔۔
وہ آپ کو گمراہی سے واپس لے آئے گا،
وہ آپ کا بھٹکا ہوا ہاتھ پکڑ لے گا،
وہ آپ کا ساتھی مولی مددگار حامی و ناصر وہ جائے گا،
وہ آپ کو اپنا بنا کے گا،
وہ پھر آپ کا ہو جائے گا۔۔۔

ان شاء اللہ، ان شا ءاللہ، ان شاءاللہ۔۔۔

اسلام ژندہ باد
پاکستان زندہ باد
پاکستان کے ژندہ دل غیرت مند اور عظیم عوام پائندہ باد۔۔

( تحریر و پیشکش:
بشیر کوکب ترابی کاشمیری)