کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں ایک طرف دنیا کی معیشت کو بدترین نقصانات کا سامنا ہے تو دوسری طرف لاک ڈاﺅن اور ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی ضرورت آدھے سے بھی کم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو بھی شدید نقصانات کا سامنا ہے.
امریکی تیل مارکیٹ کریش کرگئی اور مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران ایک کچھ منٹ ایسے بھی آئے جب خام تیل کی کوئی قیمت نہ رہی اور ٹیکساس ویسٹ میں کوئی مفت لینے کو بھی تیار نہیں تھا کیونکہ مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 3 ڈالر فی بیرل سے بھی گرکر 2 اعشاریہ 25 ڈالر فی بیرل تک ہوگئی ہے جو امریکی تاریخ میں کئی دہائیوں کی کم ترین سطح ہے.
ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تیزی سے ختم ہو رہی ہے جس کے باعث امریکی خام تیل کی قیمت 4 دہائیوں کی کم ترین سطح پر آئی ہے اور پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15سے20روپے تک فی لیٹر کمی کا امکان ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو رمضان میں پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں.

1986 کے بعد امریکی خام تیل کی قمیت کم ترین سطح پر پہنچ گئی جس کے نیتجے میں آئل مارکیٹ کریش کر گئی ہے‘ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت ایک ڈالر 56 سینٹ پر آ گئی ہے. تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد اس کو ذخیرہ کرنے کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ جاپان اور جرمنی کے اعداد وشمار دنیا کی تاریک معیشت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں‘یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں امریکی خام تیل 69 ڈالر بھی بیرل پر فروخت ہو رہا تھا.
گذشتہ دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ امریکی خام تیل کی قیمت 15 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے گر گئی ہے جبکہ ایشیائی مارکیٹ میں کاروبار کے شروع میں امریکی بنچ مارک ویسٹ ٹیکساس کی قمیت 19 فیصد کمی کے بعد 14.73 ڈالر فی بیرل ہوگئی. تاہم بعد میں ویسٹ ٹیکساس کی قمیت میں 15.78 ڈالر فی بیرل پر واپس آ گئی جب کہ برینٹ تیل کی قیمت 4.1 فیصد کم ہو کر 26.93 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد واپس 28.11 ڈالر پر آگئی لاک ڈاﺅن اور سفر پر پابندی سے تیل کی طلب میں کمی کے بعد قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے.
سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی یومیہ پیداوار پر اختلاف سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے بحران میں اضافہ ہوا تھا تاہم گذشتہ ہفتے اوپیک کی سربراہی کرنے والے سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی یومیہ پیداوار دس ملین بیرل تک کم کرنے کا معاہدہ ہوا تاکہ تیل کی طلب میں بہتری اور قیمتیں مستحکم کی جا سکیں. اس پابندی کا اطلاق تمام تیل پیدا کرنے والے ممالک پر ہوتا ہے تاہم اوپیک ممالک کے اس فیصلے کے باوجود تیل کے نرخوں میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر تیل کی طلب میں اسی طرح کمی ہوتی رہی تو قیمتیں مستحکم نہیں ہو سکیں گی.
امریکی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ امریکی خام تیل کے ذخیرے بھر گئے، کئی ملکوں کی طلب کم ہوگئی تیل کے کنویں بھی بند 250فیصد سے زیادہ کمی تاریخ میں پہلی بار منفی زون میں ٹریڈنگ، ڈاﺅ جانس اسٹاکس 2.4 فیصد کم ہوگئے. امریکا کے ساتھ کینیڈا میں بھی آئل مارکیٹس کریش کر گئیں جبکہ قیمتیں صفر سے بھی نیچے چلی گئیں‘آئل مارکیٹ کریش ہونے کے نتیجے میں قیمتوں نے منفی میں جاکر نئی تاریخ رقم کر لی تاہم پاکستان آنے والے تیل کی قیمتیں 26 ڈالر فی بیرل پر برقرار ہیں.
1946کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکا میں مستقبل کے تیل کے سودے اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتیں زمین بوس ہو کر صفر سے بھی نیچے گر گئے ہیں تیل کی پیداوار میں خود کو خود کفیل سمجھنے والے ملک امریکا کے خام تیل کی قیمتیں منفی 37ڈالرز فی فی بیرل تک جا پہنچیں اور مراعات اورسستا تیل فروخت کرنے کے لالچ اور پیشکشیں بھی کام نہیں آ رہیں یہی وجہ ہے کہ مستقبل کے تیل کے سودے صفر سے بھی نیچے جا چکے ہیں.
تقریباً 8 دہائیوں کے دوران امریکی تاریخ میں ہونے والا سب سے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ تیل کی قیمتیں پہلے اتنی کم ترین سطح پر کبھی نہیں آئیں امریکا میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل منفی 37 ڈالرزفی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے جبکہ انٹرنیشنل بینچ مارک برینٹ کروڈ اپنی کم ترین سطح 26.35? ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے. صورتحال اس لحاظ سے بھی خراب ہے کہ امریکا میں تیل اسٹوریج کے ٹینک بھر چکے ہیں جون مہینے کیلئے پیشگی کیے جانے والے معاہدے کیلئے قیمتیں 10 فیصد گر گئیں اور اب اس کی نئی قیمت 22.54? ڈالر فی بیرل بتائی جا رہی ہے.
دنیا بھر میں تیل کی طلب میں کمی کے بعد تیل پیدا کرنے والی تنظیم اوپیک اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی پر اتفاق کیا گیا تھا سرمایہ کار اب بھی اس خوف میں مبتلا ہیں کہ تیل کی پیداوار کم ہونے کے نتیجے میں قیمتوں میں استحکام آئے گا یا نہیں‘ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صورتحال اس قدر خراب اور پیچیدہ ہو چکی ہے کہ تیل سستا ہونے کے باوجود مختلف ملکوں کی جانب سے خریداری نہیں کی جا رہی کیونکہ ان ممالک میں تیل ذخیرہ کرنے کے وسائل ختم ہو چکے ہیں جبکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے پاس بھی اسٹوریج کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے.
فاکس نیوز کے پرائس گروپ فیوچرز کے مارکیٹ اینالسٹ فل فلین نے اس صورتحال کو خوفناک فلم (ہارر شو) قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہم تیل کی ڈلیوری کے معاملے میں بدترین دور میں داخل ہونے جا رہے ہیں کیونکہ دنیا میں تیل کی طلب تقریباً ختم ہو چکی ہے جبکہ اوپیک ممالک تیزی سے پیداوار میں کمی نہیں کر رہے. انٹرنیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق رواں ماہ دنیا بھر میں تیل کی طلب میں 2 کروڑ 90? لاکھ بیرل یومیہ کی کمی ریکارڈ کی جائے گی کم سطح پر معاشی سرگرمیوں کا مطلب خام تیل اور اس کی ذیلی مصنوعات بشمول پٹرول اور ڈیزل کی کم طلب کی صورت میں سامنے آرہا ہے.
تیل کی قیمتوں میں زوال کی ایک وجہ سعودی عرب اور روس کے درمیان معاشی جنگ بھی ہے تیل کی پیدوار کے معاملے میں امریکا کے خود کفیل ہونے کے بعد روس اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار پر تنازع شروع ہوا تھا. سعودی عرب نے قیمتوں میں اضافے کی غرض سے تیل کی پیداوار میں کمی کی سعودی عرب اس کے ذریعے کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی مندی کو کم کرنا چاہتا تھا لیکن اسی دوران روس نے اپنا رد عمل ظاہر کیا اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے ساتھ تعاون کرنا بند کر دیا.
روس ایشیائی مارکیٹ میں تیل کی برآمد میں سعودی عرب کی اجارہ داری کو چیلنج کرنا چاہتا ہے اور یہی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کا سبب ہے‘یاد رہے کہ دسمبر 2016 میں روس اور سعودی عرب نے ویانا میں 11 غیر اوپیک ممالک (جن کی تعداد اب 10 ہو چکی ہے) اور اوپیک ممالک کے مابین ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد قیمتوں کو مستحکم رکھنا تھا نہ کہ کم کرنا. ابتدا میں یہ معاہدہ 6 ماہ کیلئے تھا لیکن بعد میں اس کی آخری تاریخ میں توسیع کی گئی تھی جسے بعد میں اوپیک پلس کہا گیا اس کے تحت اوپیک اور روس کی سربراہی میں اوپیک کے تیل پیدا کرنے والے ممالک تیل کی پیداوار میں توازن برقرار رکھنے پر کام کریں گے.