یکم مئی مزدوری کے تقدس اور وقار کی علامت سمجھے جانے والے مزدور بھوک بےروزگاری کے آگے لاچار، ہیں آج یکم مئی کو یومِ محنت اور باہمی اتحاد سے منایا جائے گا،
یکم مئی 1884کو امریکہ میں مزدوروں نے یومیہ اوقات کار کو کم کر کے 8 گھنٹے کرنے کے لئے جدو جہد کا آغاز کیا اور تب سے اسے دنیا کے متعدد ممالک میں یومِ مزدور یا یومِ محنت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ہر سال یکم مئی کو دن مزدوروں اور محنت کش ان جلوسوں میں اپنے مطالبات بھی پیش کرتے ہیں
لاک ڈاؤن نے ملک کے دیہاڑی دار مزدور اور عام آدمی کو بھوک افلاس کی وجہ سے اذیت میں مبتلا کردیا ہے جبکہ ہمارے حکمران آٹے میں نمک کے برابر لوگوں تک امداد پہنچا رہے ہیں ۔ ملک کے 80 فیصد غریب ، مزدور اور حقدار لوگ مدد کے منتظر ہیں حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدور گھروں میں بند ہیں ان کے گھروں میں فاقوں کا عالم تھا اسی دوران وزیر اعظم عمران خان نے امید کی ایک کرن دیکھائی اور کنسٹرکشن کمپنیوں کو کام کرنے کیا اجازت دے دی۔ جس سے مزدوری کرنے والا ایک طبقے کا کام چل پڑا لیکن پورا ملک جام۔ہونے پر کہاں کوئی پہنچ سکتا ہے اور کون کام شروع کرواتا ہے،












