صحافت میں دبنگ نام۔۔علی امجد چودھری۔۔۔تصورات و خیالات میں منفرد مقام کے مالک کے نام ارباب شوکت کا تہنیت نامہ۔۔۔سٹار نیوز پر

اس دنیا میں لوگ اتنے لوگوں سے ملے نہیں ہوتے جتنے اسے لوگ جانتے ہیں ہر کسی کا ایک بیک گراونڈ ہوتا ہے
لوگ جس کی وجہ سے اس شخص کے بارے میں رائے رکھتے ہیں
جیسے کہ آصف علی زرداری کا نام آتے ہی خیال آتا ہے کہ وہ کرپٹ ہے حالانکہ ہم آج تک اسے ملے تک نہیں ہیں اسی طرح سیٹھ عابد جس کا نام آتے ہی خیال آتا ہے بہت بڑا کاروباری ہے
اسی طرح ملک ریاض کا نام آتے ہی تصور آتا ہے پراپرٹی کے بزنس میں پاکستان میں نام کمانے والا اسی طرح ہر انسان کی غائبانہ شخصیت سفر کرتی ہے
یہ الگ بات ہے کہ کسی کی پازیٹو شخصیت لوگوں میں گھومتی ہے اور کسی کی نیگٹو شخصیت آپ اپنے شہر احمد پور سیال کی مثال لے لیں جب آپ کے سامنے کسی بدنام زمانہ کا نام آتا ہے تو فورا آپ کی سوچ میں اس کے بارے نیگیٹو سوچ آتی ہے کہ وہ غلط کام کرتا ہے لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے وغیرہ وغیرہ اسی طرح آپ کے سامنے نجف عباس سیال مرحوم کا جب نام آتا ہے تو خیال آتا ہے کہ وہ عوامی سیاستدان تھا احمد پور سیال کو اس نے پہچان دی

اسی طرح آپکے سامنے صاحبزادگان کا نام آتا ہے تو فورا خیال آتا ہے شریف آدمی ہیں ان مثالوں کا مطلب آپ کو سمجھانا تھا ہر انسان کی لوگوں میں رائے سفر کرتی ہے اور وہ رائے ان لوگوں تک جاتی ہے جو آپ سے کبھی ملے تک نہیں ہوتے اس رائے میں آپ کا عمل دخل ہوتا ہے آپ کی سوچ آپ کے کام آپ کی زبان کی وجہ سے یہ رائے جنم لیتی ہے اس تصویر میں نظر آنے والے علی امجد چوہدری کا جب بھی نام آتا ہے تو آپ کی سوچ قائم ہوتی ہے کہ یہ سرزمین احمد پور سیال کا وہ سپوت ہے جو کہ ضلع جھنگ میں غریب کی کڑی دھوپ میں چھاوں کا کردار ادا کر رہا ہے

بے زبان طبقہ کی زبان مظلوم کی ڈھال کا کردار ادا کر رہا ہے خود کو غریب کیلئے وقف کرنے والے اس عظیم صحافی کو اس خاکسار کا سلام ہے
یاد رہے خاکسار علی امجد چوہدری سے مختلف ایشوز پر پبلک میں اختلاف رکھتا ہے مگر خاکسار ببانگ دہل یہ کہتا تھا اور کہتا ہے کہ احمد پور سیال دھرتی پر اگر کوئی سپیکر صحافی ہے تو وہ علی امجد چوہدری ہے خدا سے دعا ہے کہ علی امجد چوہدری ہمیشہ مظلوم کی آواز بنے حق اور سچ کی صحافت اسکی پہچان ہو

خاکسار
ارباب شوکت عباس احمد پور سیال