لاہور 15 سالہ نور 18 مہینے تک خاندان کی غزت کے لئے بلیک میلنگ اور زیادتی کا نشانہ بنتی رہی۔ نور نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقع کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ 2018 میں اپنے اسکول سے واپس آ رہی تھی جب اسے اس کے پڑوسی نے اغواء کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ نور نے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زیادتی کے بعد اس کے پڑوسی امانت علی نے اس کی تصاویر بھی بنائی تھیں جس کی بنیاد پر وہ اسے ابھی تک بلیک میل اور زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ہے۔
نور کا کہنا ہے کہ وہ اتنے لمبے عرصے کے لئے صرف اس لئے خاموش رہی کیونکہ امانت علی نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے اس بارے میں کسی کو بتایا تو امانت علی نور کی باقی بہنوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دے گا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ایک دن امانت علی معمول کے مطابق نور کو زیادتی کا نشانہ بنا کر اس کے گھر سے جا رہا تھا کہ نور کی بیوہ والدہ نے اسے دیکھ لیا اور محلے میں شور مچا دیا۔
اہلیان محلہ نے کوشش کی کہ کسی طرح نور کی والدہ کو یہ معاملہ دبانے پر راضی کر لیا جائے لیکن انہوں نے خاموش نہ رہنے کا فیصلہ کیا اور اپنی بیٹی کے لئے آواز بلند کرنا مناسب سمجھا۔ نور کی والدہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس میں مقدمہ درج کروا دیا ہے جس کے بعد ملزم امانت علی ان پر مقدمہ خارج کروانے کے لئے دباؤ ڈال رہا ہے۔ نور کی والدہ نے پولیس کے رویے کے حوالے سے بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ایک وقت پر آ کر ملزم اور نور کو ایک ساتھ بیٹھا دیا تھا جبکہ مجھے کمرے سے باہر نکال دیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ واقع لاہور میں پیش آیا ہے جہاں ایک 15 سالہ نور خاندان کی عزت کے لئے 18 مہینے تک بلیک میلنگ اور زیادتی کا نشانہ بنتی رہی ہے۔
لاہور 15 سالہ نور 18 مہینے تک خاندان کی غزت کے لئے بلیک میلنگ اور زیادتی کا نشانہ بنتی رہی، شرمناک انکشافات سامنے آ گئے، جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں
1184












