یوم علی رضی اللہ عنہ اور حکومتی پالیسی
صدائے منہاس
معروف کالم نگار غلام حاجی شبیر منہاس
ٹیری شایئو 1963ء میں امریکی ریاست فلوریڈا میں پیدا ہوئی ۔ بایئس سال کی عمر میں اس نے مائیکل شایئو کیساتھ شادی کرلی۔ 25 فروری 1990ء کو جب وہ 25 برس کی تھی تو ایک صبح اس سے شدید الٹیاں شروع ھوگیں۔ اس سے فوری طور پہ ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز اس کے مرض کی بروقت تشخیص نہ کرسکے۔ ٹیری کو ہارٹ اٹیک ھوا، اس کے جسم سے آکسیجن ختم ہوئی اس سے برین ہیمبرج ھوا اور وہ سکتے میں چلی گئی۔ جس کے بعد ڈاکٹرز نے اس کے منہ میں خوراک کی نالی لگا دی۔ ٹیری کے خاوند مایئکل شایئو نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ان ڈاکٹرز کیخلاف کیس کردیا۔ اگست 1992ء میں عدالت نے مایئکل کے حق میں فیصلہ سنادیا جس نتیجہ میں ڈاکٹرز کو حکم دیا گیا کہ وہ مایئکل کو ساڑھے بارہ لاکھ ڈالرز بطور ھرجانہ ادا کریں۔ اسی ماہ ٹیری کی طبی امداد کیلئے ایک ٹرسٹ بنا اور مایئکل نے ان ساڑھے بارہ لاکھ ڈالرز کی رقم سے ساڑھے ساتھ لاکھ ڈالرز اس ٹرسٹ میں جمع کروادیئے۔ اس کے بعد ٹیری فلوریڈا کے اس ھسپتال کی مستقل مریضہ بن گئی۔ 1998ء میں مایئکل نے دوبارہ عدالت کا رخ کیا اور استداء کی کہ ٹیری طبی لحاظ سے مرچکی ھے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ھے کہ گزشتہ آٹھ سال میں اسکی حالت زرا بھی نہیں سنھبلی۔ لھذا اس سے زبردستی زندہ رکھنا اس کیساتھ زیادتی ھے۔ عدالت ھسپتال انتظامیہ کو اس کی نالی ہٹانے کا حکم صادر کردے۔ عدالت نے ڈاکٹرز سے رائے مانگی تو ڈاکٹرز نے مایئکل شایئو کی بات سے اتفاق کیا۔ چنانچہ عدالت نے 2000ء میں ٹیری کی ٹیوب ہٹانے کا حکم صادر کردیا۔ یہ حکم سنتے ہی ٹیری کے والدین عدالت جا پہنچے۔ اور استدعا کی کہ ھماری بچی ابھی زندہ ھے۔ جب تک میڈیکل سائنس اسے مردہ قرار نہیں دے دیتی اسکی خوراک کی نالی نہ ہٹائی جائے۔ یہ اگست 2003ء کی بات ھے اور اس کے بعد امریکی معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ قانون، قانون دان اور عدالتیں ٹیری کو مردہ قرار دیتے ہوئے خوراک کی نالی ہٹا دینے کا کہنے لگیں۔ جبکہ عام افراد ” ٹیری ابھی زندہ ھے” کا سلوگن لیکر میدان میں آگئے۔ انکا خیال تھا کہ جب تک اسکی سانسیں چل رہی ہیں فیڈنگ ٹیوب نہ ہٹائی جائے۔
ٹیری کے والدین کی یہ رٹ مختلف عدالتوں سے ہوتی ہوئی فیڈرل کورٹ اور وھاں سے امریکی سپریم کورٹ میں پہنچ گئی۔ تمام عدالتوں نے ٹیری کو مردہ قرار دیکر ٹیوب ہٹانے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ لیکن اکتوبر 2003ء میں فلوریڈا کے اس وقت کے گورنر جیب بش نے عدالتوں کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ٹیری ابھی زندہ ھے اور ھم سب اس کی زندگی کی حفاظت کریں گے۔ ھم فیڈنگ ٹیوب نہیں اترنے دیں گے۔ یہ کشمکش ابھی جاری تھی کہ مارچ 2005ء کو فیڈرل کورٹ نے حتمی فیصلہ دیتے ہوئے ھسپتال انتظامیہ کو حکم دیا کہ ٹیری کی ٹیوب اتار دی جائے۔ جس روز دن ایک بجے ٹیری کی ٹیوب اترنی تھی ٹھیک اسی روز صبح وفاقی حکومت عدالت پہنچ گئی اور استدعا کی کہ ٹیری کی ٹیوب نہ ہٹائی جائے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ امریکہ کا موجودہ قانون ٹیری کو زندہ تسلیم نہیں کرتا، اگر حکومت ٹیری کو بچانا چاہتی ھے تو اسے نیا قانون بنانا ھوگا۔ حکومت نے عدالت سے وقت مانگا اور معاملہ فوری طور پہ کانگریس کو بجھوا دیا۔ کانگریس نے نیا بل تیار کیا۔ اس پہ بحث کی اور فیصلہ ٹیری کے حق میں دے دیا۔ جب اس بل پر بحث چل رہی تھی تو اس وقت کا امریکی صدر بش ٹیکساس میں اپنے فارم ہاوس پہ سالانہ چھٹیاں گزار رھا تھا۔ انھوں نے اپنی چھٹیاں منسوخ کیں ، اپنے خصوصی طیارے پہ بیٹھے اور واپس وائٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ انکی اسطرح اچانک واپسی حیران کن تھی کیونکہ ہچھلے دوسو سال سے امریکہ میں یہ روایت تھی کہ جب امریکی صدر سالانہ چھٹیوں پہ ہوتے تو انکی ساری مصروفیات منسوخ کرتے ہوئے انھیں کبھی پریشان اور ڈسٹرب نہ کیا جاتا۔ بش نے یہ روایت توڑی اور واپس واشنگٹن پہنچ گئے۔ اس موقعہ پہ اس وقت کے وائٹ ھاوس کے ترجمان سکاٹ میک کلی لان نے صدر کی ہنگامی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے تاریخی الفاظ کہے تھے۔ انھوں نے کہا، امریکی صدر کے نزدیک ان کی چھٹیوں سے ایک مریضہ کی جان زیادہ قیمتی ھے۔
یہ محض ایک واقعہ ھے۔ اور ترقی یافتہ معاشرے اس طرح کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ مگر اس کے مقابلہ میں اگر ھم اپنا جائزہ لیں تو انتہائی پریشان کن صورتحال دکھائی دیتی ھے۔ ھم جو ان روایتوں کے امین ہیں جن سے مفرب سمیت ساری دنیا فوائد سمیٹ رہی ھے۔ ھم جو اس نبی رحمت کے حقیقی امتی ہیں جس کے سامنے آج بھی دنیا دست بستہ کھڑی ھے۔ ھم اس فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نام لیوا ہیں جس نے فرمایا تھا کہ فرات کے کنارے بھوکا کتا بھی مر گیا تو عمر سے پوچھا جائے گا۔ ھم جو اس حیدر کرار رضی اللہ عنہ کے ماننے والے ہیں جن کا فرمان ھے کہ ظلم کرنے والے معاشرے تو کسی نہ کسی طرح زندہ رہ لیتے ہیں مگر بے انصافی کرنے والے نہیں۔ھم نے کیا کیا ھے۔
21 رمضان کو یوم حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دن تھا۔ مگر اس دن جو ھلڑ بازی اور جو قانون شکنی دیکھنے کو ملی اس میں نہ تو ریاست کہیں نظر آئی اور نہ بحیثیت قوم یا امت کے کوئی نظر آیا۔ حکومت نے پورا رمضان مساجد کا گھیراو کیئے رکھا۔ خود مذہبی امور کے وزیر باتدبیر صدر مملکت کو رات مساجد میں لے جا جا کے نمازیوں کا معائنہ کرواتے رھے۔ درمیانی فاصلوں پہ بحث ہوتی رہی۔ ایس او پیز کا رونا رویا جاتا رھا۔ مگر جب 21 رمضان کا مبارک دن آیا تو کیا اھلسنت اور کیا اھل تشیع۔۔سبھی نے اپنی اپنی مرضی کی۔ اور ریاست کہیں دور کھڑی گم سم نظر آئی۔ بلکہ بعض صوبوں میں تو وہ وزراء بھی جلوسوں کیساتھ نظر آئے جو پچھلے دوماہ سے چیخ چیخ کر قوم کو باھر نہ نکلنے کا بھاشن دے رھے تھے۔ اھل سنت نے اسلام آباد جیسے شہر میں جلوس نکالا جبکہ اھل تشیع نے چاروں صوبوں میں بھرپور طریقہ سے اس دن اپنی قوت کا مظاہرہ کیا۔ عجیب بات یہ ھے کہ اس سے ایک دن پہلے تک سندھ حکومت سمیت وفاق اور باقی ماندہ صوبے یہی کہتے رھے کہ تمام مسالک کے اکابرین سے مشاورت مکمل ھو چکی ھے اور کسی مسلک کا کوئی جلوس برآمد نہیں ھوگا۔ البتہ تمام مسالک ضابطہ اخلاق کے تحت محدود مقامات پر محدود تعداد کیساتھ ایک گھنٹہ کیلئے اپنی اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں گے۔ مگر 21 رمضان کو اس کے بالکل برعکس ھوا۔ کراچی کے نشتر پارک سے لاھور کے گامے شاہ تک جس طرح لوگ ریاستی پالیسی کو روندتے ہوئے باھر نکلے یہ ھم سب کیلئے لمحہ فکریہ ھے۔
ان حالات میں جب ملک پاک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد پچاس ھزار کے قریب پہنچ چکی ھے۔ اس وقت جبکہ ھم دنیا میں کورونا سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں انیسویں نمبر پہ آچکے ہیں۔ ایسے حالات میں جہاں ھماری ٹیسٹنگ کی تعداد کو دیکھا جائے تو کورونا کے متاثرین کی تعداد پریشان کن حد تک خطرناک ھے۔ ایسے حالات میں کسی بھی مسلک کو اس دن اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پہ آنے کی اجازت دینا سمجھ سے بالاتر ھے۔ اور اگر مستقبل میں بھی اسی طرح کی صورتحال رہی تو یقینی طور پہ اس کے بہت ہی بھیانک نتائج نکلیں گے۔
خدا کیلئے حالات کی سنگینی کو سمجھیں۔۔جو کورونا گورنر سندھ، اسپیکر قومی اسمبلی کو نہیں بخش رھا اس کیلئے میں اور آپ تو ایک آسان ھدف ہیں۔ اور یاد رکھیں وبایئں مذہب اور مسلک نہیں دیکھا کرتیں۔ اسلیئے اس موقعہ پہ آپ سب بلا مسلک و مذہب احساس زمہ داری کا ثبوت پیش کریں۔ یہ رویہ سمجھ سے بالاتر ھے کہ ھم ھر حال میں جلوس نکالیں گے جس کی جرات ھے آکے ہمیں روک لے۔ اور پھر تھانوں پہ حملوں سے لیکر پولیس کی رکاوٹوں تک کو اڑاتے چلے جانا۔ یہ کسی بھی زمہ دار قوم اور شہری کو زیب نہیں دیتا۔ یہ مہلک رحجان جہاں ھم سب کیلئے باعث تشویش ھے وھاں ریاست کیلئے بھی ایک سوالیہ نشان ھے۔ ریاستیں تو ہیری جیسی نیم مردہ انسانوں کیلئے بھی اپنا سب کچھ داو پہ لگا دیتی ہیں۔ اور ایک آپ ہیں کہ جیتے جاگتے شہروں کو ناہنجار گروہوں کے سپرد کررھے ہیں۔
نوٹ کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں (ادارہ)








