عیدالفطر کا پیغام۔۔۔۔۔۔۔۔
(صدائے منہاس)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کالم نگار حاجی غلام شبیر منہاس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے ملک کا لینڈ لارڈ آدمی تھا۔ بےشمار بینک بیلنس رکھنے والا ایک ایسا صنعت کار جس کی فیکٹریوں میں سینکڑوں لوگ کام کرتے تھے۔ زندگی ایسی شاہانہ تھی کہ لوگ رشک کرتے تھے۔ اور وہ دنیا بھر سے بے پرواہ اپنی دنیا میں شاداں و فرحاں تھا کہ اس کی زندگی میں پہلا سپیڈ بریکر آگیا۔ ھوا یوں کہ بیگم صاحبہ بیمار ہویئں اور جب ان کے ٹیسٹ کروائے گئے تو انکشاف ھوا کہ انھیں کینسر ھے۔ یہ مرض اس وقت بھی لاعلاج تھا مگر ان صاحب نے یہ سوچ کر خود کو مطمعن کرلیا کہ اللہ نے مجھے اس قدر دولت سے نوازا ھے کہ میں دنیا بھر کے بہترین ڈاکٹرز اور جدید ترین ھسپتالوں سے علاج کروا سکتا ہوں اس لیئے یہ کوئی بڑا مسلہ نہیں ھے۔ اور پھر اس نے ایسا ہی کیا۔ اپنی بیگم کا ہاتھ پکڑا اور دنیا کے مہنگے ترین ھسپتالوں کے چکر لگانا شروع کردیئے۔ پیسہ پانی کیطرح بہایا، رات دن ایک کیا۔ مگر چار سال کی طویل اور تھکا دینے والی جدوجہد کے بعد ایک شام بیگم اللہ کو پیاری ھو گیئں ۔ صاحب بہت دلبرداشتہ ہوئے۔ جو بھی آتا انھیں صبر کی تلقین اور خدا کی مصلحت کا درس دیتا مگر انھیں کسی پل چین نہ آیا۔ رش جب زرا کم ہوا تو ایک دن انہی صاحب کی فیکٹری کا ایک بوڑھا بابا جو چوکیدار تھا اور انتہائی نیک بزرگ بھی، دعا کیلئے حاضر ہوا۔ اتفاق سے اس وقت صاحب بالکل اکیلے لان میں بیٹھے تھے۔ انھوں نے فوری طور پہ انکو لان میں ہی لانے کا کہا۔مگر بابا جی نے بھی جب رسمی طور پہ وہی الفاظ ادا کیئے تو صاحب پھٹ پڑے۔ کہنے لگے کیا آپ لوگوں نے مصلحت مصلحت کی رٹ لگا رکھی ھے۔مجھے خدا کی یہ مصلحت بالکل سمجھ نہیں آرہی۔ میری بیگم ایک متقی اور پرہیزگار خاتون تھی۔ اللہ نے اگر اس کو موت دینا ہی تھی تو چار سال یوں اسکو تڑپا تڑپا کے کیوں مارا۔ اس میں بھلا کون سی مصلحت کارفرما ھو سکتی ھے۔؟ بابا جی نے نم آنکھوں سے ٹھنڈی سانس بھری اور فرمایا۔ پتر اس میں میرے رب کی بے شمار مصلحتیں ھو سکتی ہیں مگر تین مصلحتیں جو میری سمجھ میں آرہی ہیں وہ میں آپکو ابھی بتا سکتا ھوں۔ صاحب کے اثبات میں سر ہلانے پہ بابا جی گویا ہوئے۔
پتر، آپ لوگ بڑے لوگ ہیں، آپ کو ایک غریب مسکین کی زندگی اور اس کے دکھوں کا بالکل اندازہ نہیں ھے۔ چار سال میرے رب نے جو آپکو دنیا بھر کے ہسپتالوں میں گھومایا ھے اس کی تین وجوھات تھیں، پہلی یہ کہ جب اس طرح کا موزی مرض بیگم صاحبہ جیسے بڑے لوگوں کو لگتا ھے تو پھر آپ جیسے لوگوں کو اندازہ ہوتا ھے کہ یہ بڑا خطرناک مرض ھے۔ اور اس کے بعد آپ لوگ ان امراض کے ہسپتال بنواتے ہو، ٹرسٹ قائم کرتے ہو اور اس پہ اتنا پیسہ لگاتے ہو، بیگمات اور ماوں کے نام پہ ایسے ھسپتال بنوا جاتے ھو کہ جہاں یہ علاج میرے جیسے غریب کی دسترس میں بھی آجاتا ھے، دوسری مصلحت جب آپ خود ھسپتال کی گیلریوں ، لیبارٹیز کے سامنے بنے بینچوں اور بلڈ بنک کے سامنے لگی قطاروں میں کھڑے ہوتے ہو تو آپکو ایک غریب کی مرض ، اسکی تکلیف اور دکھ کا اندازہ ہوتا ھے۔ آپ کے دل میں اس وقت ایک غریب کیلئے حقیقی ہمدردی کے جزبات ابھرتے ہیں۔ جبکہ تیسری مصلحت کہ اگر خدا آپ جیسے بڑے لوگوں کو یہ مرض نہ لگائے تو ان پہ ریسرچ کون کرے، ان کی میڈیسن کیسے دریافت ہوں، جب بڑے لوگوں کو مرض لاحق ہوتے ہیں تو پھر اس مرض پہ دنیا کی جدید لیبارٹیز میں کام شروع ہوتا ھے۔ اور اس کی بنیاد پہ بنائی گئی ادویات سے ایک غریب بھی مستفیض ہوتا ھے۔ یہ میرے رب کی تیسری مصلحت تھی۔ اگر آپ یوں چار سال بیگم صاحبہ کے ساتھ دنیا بھر کے میڈیکلز ڈیپارٹمنٹس کے چکر نہ لگاتے تو یقین کریں یہ تینوں باتیں ساری زندگی آپکو سمجھ میں نہ آ سکتیں۔ باباجی یہ کہہ کر رخصت ہوگئے مگر صاحب دیر تک بابا جی کی باتوں پہ غوروفکر کرتے رھے اور بالآخر وہ بھی اسی نتیجہ پہ پہنچے کہ واقعی یہ میرے رب کی وہ مصلحتیں ہیں جو ھماری ناقص سمجھ سے تو بالاتر ہیں مگر بلاشبہ انکا ہونا مستقبل کی انسانیت کیلئے بہت فائدہ مند ہوتا ھے۔
رمضان المبارک کے مقدس ماہ کی آخری ساعتیں ہیں، عید الفطر سر پہ کھڑی ھے۔ اور اس بار عید ایک ایسے وقت میں آرہی ھے جب پچھلے دوماہ سے کورونا کیوجہ سے کاروبار زندگی ٹھپ پڑا ھے۔ اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے بھی اس صورتحال میں پریشان ہیں۔ مگر غریب ریڑھی بان اور دیہاڑی دار طبقے کیساتھ ساتھ متوسط طبقہ بھی بہت برے حالات میں ھے۔ اور اس کا پریشان کن پہلو یہ ھے کہ امیر آدمی جب کسی موزی مرض کا شکار ھوتا ھے تو اسکو بیماروں کی پریشانیوں کا تو احساس ہوجاتا ھے۔ مگر اس دور کا امیر یا اس کی اولاد نہ تو کبھی بھوکی سوئی ھے اور نہ ان کے پاوں جوتوں سے کبھی محروم رھے ہیں۔ اس لیئے بدقسمتی سے یہاں غرباء کاخیال رکھنے کا رحجان بڑا کم ہوتا جارھا ھے۔ آپ لوگ آئے روز پڑھتے اور سنتے ہوں گے کہ فاقوں کی وجہ سے کوئی اپنی زندگی کا خاتمہ کررھا ھے تو کوئی بھوکی اولاد کے گلے پہ چھریاں چلا رھا ھے۔ ان حالات میں میرا اور آپکا فرض بنتا ھے کہ اپنے گلی محلے میں ایسے مستحق افراد کو اپنی نظر میں رکھیں اور جس قدر تعاون ممکن ہو کریں۔ ان سے ان حالات میں نظریں چرانا اور پہلوتہی برتنا کسی طور بھی مناسب نہیں ھے۔ ھماری تمام تر عبادات اور عید کی خوشیاں تبھی دوبالا ھو سکتی ہیں جب ھم اپنے اردگرد والوں کو بھی ان خوشیوں میں شریک کریں اور ان کے احساس غربت کو احساس محرومی میں نہ بدلنے دیں۔ ایسا نہ ہو کہ ھمارے قہقوں میں غریبوں کی سسکیاں ایسی دب جایئں کہ کل قیامت کے دن ہمیں اس کا حساب دینا مشکل ہوجائے۔ خوشیاں اور وسائل جتنے بانٹ سکتے ہیں بانٹتے جایئں۔ یہی ایک منظم اسلامی معاشرے کا حسن بھی ھے اور عید الفطر کا پیغام بھی…








