بھارت کو امریکہ کی دوستی راس آئی نا چینی دشمنی ….سٹارنیوز

بھارت امریکہ کی دوستی ، چین کی دشمنی کے درمیان پھنس گیا ہے ، اگر بھارت ، امریکہ کا ساتھ دیتا ہے تو مشرقی علاقے جاتے ہیں ، کئ متنازعہ علاقوں میں جنگ ، اگر امریکہ کی بات نہیں مانتا تو افغانستان و دیگر کئ مفادات سے فارغ ۔ ۔ ۔ بھارت ، چین ، پاکستان کیخلاف بیک وقت جنگ نہیں لڑ سکتا ۔
چینی پیپلز لبریشن آرمی کے پانچ ہزار فوجی ، ٹینٹ ، ہیوی مشینری ، ہیلی کاپٹرز سمیت لداخ میں کئ کلو میٹر اندر داخل ہو کر بیٹھ چکے ہیں ۔ ۔ ۔ بھارتی 72 فوجی زخمی کر کے ہسپتال پہنچا چکے ہیں ۔۔۔ بھارتی آرمی چیف نے ہنگامی دورہ کیا ہے ، اس علاقے کا ۔
خطے میں موجود امریکی واحد الائ بھارت تنہائی کا شکار ہے ، چین بار بار بھارت کو خبردار کر رہا تھا کہ امریکہ کے کہنے پر چین کیخلاف کوئی حرکت کی تو بھاری قیمت چکانی پڑے گی ، مگر بھارتی میڈیا مسلسل چین کیخلاف پروپیگنڈہ کرتا رہا ۔ ۔ ۔ سی پیک پر اعتراضات ، رکاوٹیں ، گلگت بلتستان کو واپس لینے کی باتیں ، بلوچستان حملے میں انڈیا کے ملوث ہونے کے شواہد ۔ ۔ ۔
جن پر پاکستان ، چین کی جانب سے سخت رد عمل دینے کا فیصلہ ہوا ، بھارت کو فوری اسی کی سرزمین پر سبق سکھانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔
ارونا چل پردیش ، سکم کے بعد اکسائی چن ( Aksai Chin ) کا علاقہ جو لداخ سے متصل ہے ، یہاں جھڑپیں شروع ہیں ۔ ۔ ۔
وجہ بنی ارونا چل پردیش کے علاقے میں پل کی تعمیر جو بھارتی افواج کی موومنٹ کے لئے تعمیر کیا گیا ۔ ۔ ۔ نیپالی علاقے کالا پانی میں سڑک کا افتتاح ، خود ساختہ نقشے کے ذریعے اس علاقے کو بھارتی حصہ ظاہر کیا گیا ۔ ۔ ۔ جموں کشمیر ، لداخ کو یونین ٹیریٹری کا حصہ بنانے کا اعلان ۔ ۔ ۔ اس میں وہ متنازعہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر چین دعویٰ کرتا ہے کہ اسکے ہیں ۔
پینگیونگ ٹی ایس او جھیل ، گلوان ویلی میں دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے ہیں ۔ یہ علاقہ چینی صوبے سنکیانگ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔کشمیر میں تین اطراف سے چین نے بھارت کا گھیراؤ کیا ہے ۔ ۔ ۔ لائن آف کنٹرول ، سکردو پر افواج پاکستان تعینات ہیں ، اکسائی چن کا علاقہ ۔ ۔ ۔ جنرل باجوہ نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کرتے ہوئے، جوانوں کے ساتھ عید منائی ، عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی ۔ ۔ ۔ بھارت ، چین ، پاکستان دونوں کیخلاف سازشیں کر رہا ہے ، اب یہ بھارت پر بھاری پڑنے جا رہا ہے ۔ ۔ ۔۔جنرل باجوہ .اگر بھارت ، لداخ میں چین کیخلاف کارروائی کرتا ہے تو پاکستان ، کشمیر میں بآسانی کارروائی کر سکتا ہے ۔بھارت بیک ڈور چینل سے پاکستان سے درخواست کر رہا ہے ، کشمیر پر ہاتھ ہولا رکھیں ۔ ۔ ۔
بھارت ، چین کے سب سے زیادہ سرحدی تنازعات ہیں ۔ایک طرف امریکہ ساؤتھ چین میں تائیوان ، ہانگ کانگ میں چین کیخلاف بغاوت کھڑی کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، 33 سے زائد چینی کمپنیز کو امریکہ میں بلیک لسٹ کیا جا چکا ہے ۔۔۔ دوسری طرف بھارت تبت ، سنکیانگ میں علیحدگی پسندوں کو سپورٹ کر رہا ہے ، تبت کا علیحدگی پسند رہنما ( دلائی لامہ ) بھارت میں موجود ہے ۔
بھارت کو امریکہ کی دوستی بہت مہنگی پڑتی جا رہی ہے ۔