صحافی راؤ محمد مرتضی کا دوران واردات مزاحمت پرقتل ,سعید بٹ قتل کیس کی طرح سوالیہ نشان بناہوا ہے, سعید بٹ قتل کیس میں تو پولیس کے پاس ملزمان کی تصاویر بھی تھیں مگر بدقسمتی کہیں یا خانیوال پولیس کی نااہلی کہ پولیس آجتک اس قتل کا سراغ نہ لگاسکی اورمعاملہ کھڈے لائن لگانے کیلئے بے گناہ افراد کی پکڑ دھکڑ کی گی, ایسے ہی اب راؤ محمد مرتضی کیس میں گذشتہ رات پولیس نے سرکل کبیروالا کے مختلف تھانوں سے جرائم پیشہ لوگوں کو گرفتار کرکے دباؤ کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے مگر اس بار معاملہ پولیس کی نااہلی کے پیچھے نہیں چھپنے والا کیونکہ یہ دوسرا اندوہناک قتل ہے جس کے قاتلوں کی گرفتاری کے بنا سرکل کبیروالا کے صحافی پیچھے نہیں ہٹیں گے. ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ضلع خانیوال کے صحافی اور ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال اس معاملہ میں کیا کردار ادا کرتا ہے, کیونکہ ماضی دیہی علاقہ کے صحافیوں کو ضلعی قیادت سے وہ حمایت نہیں ملی جس کی وہ توقع کرتے رہے ہیں,
مقامی صحافتی تنظیمیں اور مقامی پریس کلب اس حوالہ سے ایک لائحہ عمل مرتب کریں اور روزانہ کی بنیاد پر اپنے پریس کلبز کے باہر احتجاجی پروگرام آرگنائز کریں اور اسکی تصاویر سوشل میڈیا, پرنٹ میڈیا اور چینلز کو بھجوای جائیں,
تمام صحافی اور صحافتی تنظیمیں اس معاملہ میں خدارا نمبر گیم کی بجائے مخلص ہوکر شہید بھائ کی مدد کیلئے آگے آئیں اور سرکل کبیروالا میں بڑھتی جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کے پیچھے چھپے ہاتھوں کو تلاش کریں
مقتول راؤ محمد مرتضی کے حوالہ سے دوست فوری طور پر ایک وٹس ایپ گروپ اور مسینجر گروپ بنائیں جس میں ضلع بھر کے صحافی اپنے تنظیمی لیول اتار کر صرف بن صحافی بن کر اس مشن کیلئے آگے بڑھیں
تیسری تجویز اگر راؤ محمد مرتضی شہید کے خاندان کو مالی مشکلات ہیں تو سب ملکر ایک فنڈ قائم کریں اور ایک بڑی رقم ضلع بھر کے صحافیوں کی طرف سے ورثاء کے حوالہ کی جائے ,اگر ضلع کے 100صحافی دس ہزار فی کس مدد کریں تو دس لاکھ کی خطیر رقم جمع ہوسکتی ہے
چوتھی بات اگر ایک ہفتہ میں قاتل گرفتار نہیں ہوتے تو آئ جی پنجاب کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا جائے اور اس احتجاج میں کسی مخصوص صحافتی تنظیم کی بجائے صرف صحافی اتحاد ظاہر ہو, سب آگے آئیں اور ملکر قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں ورنہ سب تیار ہوجائیں,

رپورٹ منور اقبال تبسم بیوروچیف سٹار نیوز