جنبشِ لب بے ادبی ہے

{دستک } کالم نگار عدیل ظفیرؔ

کیا کہنے سبحان اللہ___!
اللہ پاک کے در اور سیدنا محمد عربی صلى الله عليه و سلم کے گھر کے…….. زہے نصیب جسے اس در کی حاضری نصیب ہو جائے، وہ تو خوش بخت ہی ہو گا___ ہم نے کتنے مسلمان بہن بھائیوں کو تڑپتے، روتے اور دعاٶں کا کہتے دیکھا_ کہ ہمیں بھی حرم پاک اور دریارِ حبیب صلى الله عليه و سلم کی حاضری نصیب ہو جائے_

مگر ایک پہلو ایسا بھی ہمارے سامنے آیا جس کی بدولت مجھ حقیر کو چند سطور لکھنے کی جسارت کرنا پڑی، کہ بعض احباب کو دیکھا اور سنا وہ مکہ مکرمہ، مدینہ پاک میں حاضر تو ہو گئے، مگر مسرت اور شکرانے کے جذبات کی بجائے ان کا معاملہ اس کے بر عکس نظر آیا_

مثلا ایک صاحب جو ححج پر تشریف لے گئے کو کہتے سنا فرمانے لگے، وہاں پر رَش بہت ہوتا ہے، مجھے تو جاتے ہی گھبراہٹ ہونے لگی_

ایک اور صاحب عمرے کی ادائیگی کے لیے تشریف لے گئے، واپس آ کر بتانے لگے ” ہم مکتہ المکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف جا رہے تھے_ بس تیزی سے رواں دواں تھی، ایک صاحب کا موبائل بار بار بج رہا تھا، جب بھی فون آتا وہ بڑے اطمینان سے فرماتے عمرہ کر لیا ہے، بس مدینہ حاضری دینی ہے، بس حاضری دے کر آتا ہوں_ بس حاضری دے کر فورا واپسی ہے“_

وہ حاضری حاضری کا ذکر اس انداز سے کر رہے تھے، کہ گویا کوئی انہیں زبردستی لے کر جا رہا ہے_ راستے میں نماز ظہر کی ادائیگی کے واسطے گاڑی رٌکی اور سب اترنے لگے، جب وہ صاحب اترنے لگے تو یکدم اترتے وقت ایسی ٹھوکر لگی کہ لٌڑھکتے ہوئے دور جا گِرے_

ان صاحب کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی، اتنی زور سے چیخ رہے تھے کہ دیکھنے والوں کو ان پر ترس آ رہا تھا، شٌرطے انہیں اٹھا کر ہسپتال لے گئے_ بعد میں پتا چلا کہ چار دن ہسپتال میں پڑے رہے، ویزے کی مدت ختم ہوئی تو ہسپتال سے سیدھے ائیرپورٹ گئے اور وہاں سے پاکستان آ گئے__ مدینہ طیبہ اور روضہ پاک کی زیارت نصیب نہ ہو سکی_

کچھ لوگوں کو تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں حرمین شریفین کے معطر و منور اور پاکیزہ نورانی ماحول کی کسی نہ کسی انداز سے برائی کرتے نظر آتے ہیں، کوئی ائمہ کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کر رہا ہو گا، کوئی وہاں کے منتظمین کو برا بھلا کہتا نظر آئے گا_

کتابوں میں لکھا ہے اک شخص نے مدینہ کا دہی کھایا، پھر کہنے لگا مدینہ کا دہی تو کٹھا ہے_ ہمارے ہاں کا دہی تو میٹھا ہوتا ہے، رات کو خواب میں سرورِ دین صلى الله عليه و سلم کی زیارت ہوئی، غصہ سے فرمایا: ”ہمارے شہر کا دہی کٹھا ہے؟ نٌقص نکالتے ہو نکل جاٶ میرے مدینہ پاک سے“_ اس پر ہمارے ”مشفق و مربی استاد جی مفتی زاہد محمود صاحب زید مجدہ“ فرمایا کرتے تھے، کہ وہ پھر نیک آدمی تھا، جسے رسولِ عربی صلى الله عليه و سلم نے نکل جانے کا کہا، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو نا جانے کیا کیا بے ادبی کیے دیتے ہیں، اور خبر تک نہیں ہوتی_

ربِ کریم بار بار حرمین شریفین کی حاضری ہم سب کونصیب فرمائے___ ان گنت شکرانے کا موقع ہے، عاجزانہ اور شکرانہ مزاج بنا کر جانا چاہیے_ قلب کو ہر قسم کی کدرتوں اور آلائشوں سے پاک کر کے مجسمِ ادب بن کر حاضری دینی چاہیے___

علماء کرام کا فرمان ہے جس قلب میں دنیا کی خواہشات، شہوتِ نفسانی اور لہو و لہب کا غلبہ ہو، ایسے گندے قلب والا شخص اس مقدس معطر مقام کی برکات سے محروم رہتا ہے_ لہذا جہاں تک ممکن ہو سکے قلب کو لذات، دنیوی خرافات اور خواہشات نفسانیہ سے پاک رکھیے، رب کریم کی رحمت کاملہ واسعہ اور عفو و کرم سے امید واثق رکھیں، اور رحمتِ کائنات صلى الله عليه و سلم کے وسیلہ سے اللہ کریم سے معافی کے طلب گار بن کر حاضری دیں_

آہستہ قدم، نیچی نگاہ، پست صدا ہو
خوابدہ یہاں یہاں روحِ رسول عربی ہے
اے زائرِ بیت نبی یاد رہے یہ______
بے قاعدہ جنبشِ لب یہاں بے ادبی ہے_