پہلے سرکاری سکول بنانے کے کے لئے چندا کریں۔ پھر انگلش اور میتھ کی پرائیویٹ ٹیچر رکھیں اس کی سیلری لئے چندا دیں۔
سڑکیں چندا کر کے بنایئں۔ پھر ان کی مینٹیننس کے لئے بار بار چندا دیں۔ اور خود کام بھی کریں۔
سرکاری ھسپتالوں کے لئے زمینیں ڈونیٹ کریں۔ اور اپنے علاج کے لئے پرائیوٹ ھسپتالوں کے بھاری بل بھی ادا کرتے ہیں۔
چندا کر کے کبھی قرض اتارو ملک سنوارو کے نام پہ اور کبھی زلزلہ ۔کبھی سیلاب۔ اور کبھی خیراتی ھسپتالوں کے نام پہ اشرافیہ کی عیاشی کا بندوبست بھی کرتے ہیں۔
ھم دنیا کی واحد قوم ہیں جو چندا کر کے سیاستدانوں کے لئے جلسوں کا اھتمام کرتے ہیں اور پاوں پکڑ پکڑ کے عوام کو جمع کرتے پیں۔ اور یہ جانتے ھوتے ہیں کہ وہ سو فیصد جھوٹ بول رھا ھے پھر بھی جے جے کار کرتے ہیں۔
ھم پکے مسلمان ہیں۔ ھم اپنے پیروں اور علماء اکرام اور ثناء خوان حضرات کو چندا کر کے پیسے دیتے ہیں تب وہ ھمارے درمیان فرقے بنانے تشریف لاتے ہیں۔
ھم چندا کر کے ڈیم بنانے چلے تھے ۔ اور ھم کرونا جیسی خوفناک وبا کا سامنا بھی چندے سے کرنے کے چکر میں ہیں۔
ھمارے تمام کھلاڑی ۔ اداکار ۔ فنکار ۔ قلمکار۔ وزراء ۔ وزیراعظم ۔ سبھی کسی نہ کسی فلاحی ادارے کے نام پہ ھم سے چندا لیتے رھتے ہیں اور ھم دیتے رھتے ہیں۔
ھمارے ملک میں اوقاف کا بھت بڑا محکمہ ھے اس کے لئے بڑا فنڈ بھی مختص ھوتا ھے لیکن ھم مسجدوں اور مدرسوں کے بل اور اساتذہ کی تنخواہیں چندہ کر کے دیتے ہیں۔
اتنے چندوں کے بعد ھمارے ایک سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں ایٹم بم بنانے لگا ھوں۔ آپ کو گھاس کھا کے گزارہ کرنا پڑے گا۔ ھم بخوشی راضی ھوئے کیونکہ ھمارے لئے کچھ نیا تو تھا نہیں۔ یہ الگ بات ھے کہ دشمن شہ رگ کاٹ گیا اور ھم چوں کرنے کی ھمت بھی نہ کر سکے ۔
ھمارے ملک میں ھر شعبہ ھائے زندگی سے متعلق ایک محکمہ موجود ھے اور اس کا پورا سسٹم اور میکنزم موجود ھوتا ھے۔ پھر بھی ھم نے کرونا کے لئے چندا کیا ۔ اس چندے کو بانٹنے کے لئے اپنی سیاست چمکانے اپنی ھی جماعت سے لوگوں کا چندا کیا۔ پھر ان لوگوں کو چندا کر کے یونیفارم بنا کے دیا۔ اور یہ ھر حکومت نے اپنے دور میں جہاں اسے موقع ملا اس نے کیا ۔
اور حاصل گفتگو یہ ھے کہ۔ اس کے باوجود ھمارے سیاسی اکابرین فرشتے ہیں۔ ھم ان کے لئے جھوٹ سچ سب کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے بھت پیاروں کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ بلکہ ان کی کردار کشی تک سے باز نہیں آتے ۔ اور جو جھوٹ ھم صرف ایک دوسرے کو جلانے اور نیچا دکھانے کے لئے سوشل میڈیا پہ بولتے ہیں۔ اس کو بھتان کہتے ہیں۔ اور اتنا بڑے گناہ کا آگے حساب دینے کو بھی تیار ہیں۔ خدا کے واسطے آنکھیں بند کر کے سوچیں۔ کہ ھم یہ سب کیوں کر رھے ہیں۔ جب کہ ھم تو ھر اپنا مسلہ چندے سے حل کرتے ہیں۔ ھم واقعی دنیا کی منفرد قوم ہیں۔
Home آپ کا سٹار چندہ ۔چندہ۔چندہ۔۔۔منفرد داستان الم۔۔۔چندہ قوم کیلیے۔اعجاز حمید کے قلم سے۔۔تفصیلات سٹار نیوز...
چندہ ۔چندہ۔چندہ۔۔۔منفرد داستان الم۔۔۔چندہ قوم کیلیے۔اعجاز حمید کے قلم سے۔۔تفصیلات سٹار نیوز پر
527











