پنجاب اسمبلی کا مثالی اقدام
{ بکھری سوچیں }
کالم نگار غلام شبیر منہاس 
پاکستان کو جن چند ایک داخلی مسائل کا سامنا رھا ھے ان میں سے ایک مسلکی جنگ بھی ھے۔ جس کو ریاست سے اداروں تک کے لوگ عام فہم زبان میں فرقہ واریت کہہ کر آگے گزر جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ مسلہ نہ صرف فوری توجہ کا مستحق ھے بلکہ ریاست کی پوری توجہ چاہتا ھے۔ ماضی میں اس مسلہ پہ امن و امان کے جس طرح کے مسائل رھے ہیں اور اس پہ جتنی قتل و غارت گری ہوئی ھے۔ موجودہ صورتحال میں ھم دوبارہ ان سانحات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اور یہ تبھی ممکن ھے جب اس مسلہ کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے محض زبانی جمع خرچ کے، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ٹھوس انداز میں اس پہ قانون سازی کرتے ہوئے اس کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
یہ نہیں کہ ماضی کی حکومتوں نے اس پہ کام نہیں کیا۔ اس پہ ہر دور میں کچھ نہ کچھ کام تو ہوا مگر بدقسمتی سے اس کو تسلسل سے جاری نہ رکھا جا سکا جس کی وجہ سے یہ مسلہ بھی پاکستان کے دیگر کئی ایک داخلی مسائل کی طرح بیچ راہ میں ہی پڑا ھے۔
28 ستمبر 1991ء میں جب نواز شریف ملک کے وزیراعظم تھے تو لاہور کے گورنر ھاوس میں اس سلسلے کا ایک بڑا اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں ملک میں موجود تمام مذہبی جماعتوں کے قائدین سمیت 400 کے قریب علمائے کرام و مشائخ عظام نے شرکت کی۔ مذہبی امور کی وزارت اس وقت مولانا عبدالستار نیازی کے پاس تھی۔ اس اعلی سطحی اجلاس میں ملک پاک میں مذہبی ھم آہنگی کی راہ میں درپیش رکاوٹوں کا جب جائزہ لیا گیا تو انکشاف یہ ہوا کہ ملک میں اسلام کے نام پر ایسا متنازعہ لٹریچر موجود ھے جو فریقین کی دل آزاری کا سبب بھی بنتا ھے اور فتنہ وفساد کا موجب بھی۔ اسی اجلاس میں وزیراعظم کے سامنے 111 کتب کے 240 صفحات پیش کئیے گئے جن میں مقدس شخصیات کی توھین کی گئی تھی۔ جس پہ وزیراعظم نے وزیر مذہبی امور مولانا عبدالستار نیازی کی زیرصدارت ایک کمیٹی کے قیام اعلان کیا جو ان تمام کتب کیساتھ ساتھ ایسی باقی ماندہ کتب کا بھی جائزہ لے کر ایک حتمی رپورٹ مرتب کرے گی تاکہ ان پہ پابندی کیساتھ موثر قانون سازی بھی کی جاسکے۔
اسی سلسلے کا دوسرا اجلاس 20 جنوری 1992ء کو منعقد ہوا۔ یہ اجلاس اسلام آباد میں وزارت مذہبی امور کے ھیڈکوارٹر میں وزیر مذہبی امور کی زیرصدارت انعقاد پزیر ہوا۔ جس کی غرض و غایت اس وقت کے سیکرٹری مذہبی امور جناب مظہر رفیع نے بیان کیں تھیں۔ اس اجلاس میں پہلی بار گلگت اسکردو اور آزاد کشمیر سے بھی علمائےکرام کے وفود نے شرکت کی تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ایک تو تین رکنی کمیٹی بنائی گئی جن کو ایسی مزید متنازعہ کتب کی نشاندہی کا ٹاسک دیا گیا۔اور ساتھ ساتھ گیارہ ایسی سفارشات بھی مرتب کی گیں تھیں جن کو کابینہ کی منظوری اور قانون سازی کیلئے بجھوایا جانا طے ہوا تھا۔ 2جولائی 1992ء کو دوبارہ اجلاس طلب کیا گیا جس میں اس تین رکنی کمیٹی نے 111 کتب سے بڑھا کر 232 کتب پیش کردیں۔ اور 240 صفحات سے بڑھا کر 600 صفحات پیش کردیئے جن میں کفر و غلاظت بکی گئی تھی۔ مولانا عبد الستار نیازی نے اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا مگر اس وقت کے وزیراعظم نے نجانے کس مصلحت یا دباو کے تحت وعدہ کے باوجود کوئی کردار ادا نہ کیا۔ اور تمام تر وعدوں کے باوجود اپنی ہی قائم کردہ ” فرقہ واریت کے خاتمہ کی کمیٹی” کی سفارشات کو عملی جامہ نہ پہنا سکا۔ اپریل 1993ء میں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ھوگیا اور یوں یہ سفارشات نیازی کمیٹی کے نام سے آج بھی وزیراعظم سیکرٹریٹ کی راہداریوں میں کسی بھٹکی ہوئی روح کیطرح سرد خانے میں پڑی ہیں۔
آج کل چونکہ سوشل میڈیا کا دور ھے۔ اور بہت سے لوگوں کو اس مسلہ کی حساسیت کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اسی طرح کی کسی کتاب کو پڑھتے ہیں اور اس کی عبارت کو پوسٹ کی شکل میں اپنے صفحہ پہ چسپاں کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے آئے روز ماحول میں کشیدگی بڑھ رہی ھے۔ جو کسی بڑے حادثہ کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ھے۔ ایسے حالات میں چند روز قبل پنجاب اسمبلی نے ایک موثر اور حوصلہ افزا قدم اٹھایا ھے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی جناب پرویز الہی نے ایک متفقہ قراداد کے زریعے تین متنازعہ کتب پہ پابندی لگاتے ہوئے جمعہ کے روز تک مارکیٹس سے ہٹانے کا کہا ھے۔ میں زاتی طور پہ سمجھتا ہوں کہ یہ نہ صرف ایک احسن اور قابل تقلید عمل ھے بلکہ درست سمت میں کیا گیا ایک ایسا اقدام ھے جس کی جتنی تعریف اور حوصلہ افزائی کی جائے کم ھے۔ ان مکروھات کی وجہ سے ھمارا معاشرہ دن بدن کھوکھلا اور تضاد کا شکار ہوتا چلا جا رھا ھے۔ اس پہ مزید کام کی بھی ضرورت ھے اور تمام صوبوں کو بھی اس پہ توجہ دینے کی اشد ضرورت ھے۔ اس احسن اقدام پہ پنجاب اسمبلی کے معزز ممبران یقینی طور پہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ضرورت اس امر کی ھے کہ ھم سب مل جل کے ریاست کو اس عملی مقصد کیطرف لے جایئں جس مقصد کی بنیاد پہ اس کا وجود عمل میں لایا گیا تھا۔ اور اس راستے میں جہاں بھی کوئی رکاوٹ آئے مل جل کے اس کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ تاکہ ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کا وجود عملی طور پہ قیام میں لایا جا سکے۔









