“بحران پر بحران اور غریب عوام ”
{ نفیرقلم }
کالم نگار محمد راحیل معاویہ

کورونا وائرس کی وبا ملک عزیز پاکستان میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔اب تک کورونا وائرس سے ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔جن میں پندرہ سو افراد سیریس حالت میں ہیں۔پینتیس سو سے زائد لوگ صحت یاب ہوچکے ہیں۔اور اکیس سو بہتر لوگ پاکستان میں اس وبا سے موت کی ابدی نیند سو گئے ہیں۔گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں چھیالیس سو چھیالیس نئے کیس سامنے آئے اور 105 اموات ہوائیں۔ کورونا وائرس کے حوالے سے اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کے اقدامات کو انتہائی معمولی اور غیر سنجیدہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے پاکستان کے تقریبا تمام اضلاع میں یہ وبا پھیل چکی ہے اور اس سے زیادہ نقصانات کا اندیشہ ہے۔ جبکہ پاکستان سے لاک ڈاون کا تقریبا خاتمہ ہوچکا ہے اور لوگ آپس میں کثرت سے میل جول کررہے ہیں جس کی وجہ سے کورونا کے پھیلنے کے زیادہ خطرات ہیں۔ اس صورتحال میں پٹرول کے بحران نے سر اٹھا لیا ہے۔ پٹرول پمپز سے پٹرول نہیں مل رہا اور جن چند ایک سے مل رہا ہے وہ اپنی مرضی کے نرخ میں فروخت کررہے ہیں۔ ان پٹرول پمپوں پر اتنا رش ہے کہ لوگ کئی کئی گھنٹے قطاروں میں کھڑے ہوکر پٹرول حاصل کررہے ہیں۔ کورونا کی اس نازک صورتحال میں اس قسم کے عوامی جم غفیر کسی صورت خطرے سے خالی نہیں اس سے وائرس کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔ 10 روز گزرنے کے باوجود ابھی تک حکومت اس مسئلہ کو حل نہیں کرسکی اور پٹرول کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جاسکا۔ اس بحران کے ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا جاسکا۔اس بحران پر وزارت پٹرولیم نے اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے وہی جواب دینے پر اکتفا کیا جو ٹماٹر بحران پر ٹماٹر کی جگہ دہی استعمال کرنے ، آٹے کے بحران پر دو کی بجائے ایک روٹی کھانے اور چینی کے بحران پر چینی کے مضر صحت ہونے کے بیانات دیے جاتے رہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر پٹرول کا بحران ہے تو عوام اس کا استعمال کم کردے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گذشتہ قیمتوں سے کم قیمت پر دینے کی بجائے پٹرول کا بحران پیدا کرکہ گذشتہ قیمتوں سے بھی کہیں زیادہ قیمتوں پر پٹرول کی فروخت ہورہی ہے۔ اس میں کون سے مافیاز ہیں جو مال بنانے میں مصروف ہیں ؟
اس بحران کے پیدا کرنے والے کون لوگ ہیں ؟
اس بحران میں اوگرا اور وزارت پٹرولیم کو کیا کردار ہے ؟
انہوں نے 10 یوم گزرنے کے باوجود بھی بحران کیوں ختم نہیں کیا ؟
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا ہر پندرہ دن بعد اجلاس ہوتا ہے جس میں ملک میں ضروری اشیاء کے سٹاک کا جائزہ لینا ضروری ایجنڈے میں شامل ہوتا ہے۔
کیا اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پٹرول کے سٹاک کا جائزہ نہیں لیا گیا ؟ اگر سٹاک کم تھا تو اس کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے ؟ اور اگر سٹاک پورا تھا تو اوگرا نے اس کی فراہمی کیوں نہیں کی ؟ اگر فراہمی بھی کی گئی ہے تو پھر پٹرول پمپوں پر اس کی فروخت کو یقینی کیوں نہیں بنایا گیا ؟
اس بحران کے پیدا کرنے میں اور مافیاز کا ساتھ دینے میں کون کون ملوث ہے عوام جاننا چاہتی ہے۔
ابھی کچھ ماہ قبل اپنے ملک کی گندم باہر فروخت کرکے ملک میں آٹے کا بحران پیدا کیا گیا جس میں مافیاز نے اربوں روپے بنائے۔ ابھی تک اس بحران کو مکمل ختم نہیں کیا جاسکا ۔
پھر چینی کا خود ساختہ بحران پیدا کرکہ اس کی قیمتوں میں 52 فیصد تک اضافہ کیا گیا۔ اکتوبر 2018 سے دسمبر 2019 تک 155 ارب روپے کی رقم غریب عوام سے ہتھیائی گئی۔ اس کے باوجود کہ اسی عوام کے خون پسینہ سے ادا کیے گئے ٹیکسز سے بھی ان ملز مالکان کو اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی۔ غریب کسان سے اونے پونے میں گنا خریدا گیا۔ اس بحران پر بھی دونوں دونوں ہاتھوں سے مال بنایا گیا ۔ اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا اعلان کیا گیا مگر ابھی تک کسی کو جیل بھیجا جاسکا اور نا ہی کوئی پیسہ واپس لیا جاسکا ۔ ہاں البتہ لندن پہنچا دیے گئے۔ اور نا ہی چینی کی قیمتوں میں اب تک کوئی کمی لائی جاسکی ہے۔ غریب عوام ابھی تک مہنگے داموں چینی خرید کر ان مافیاز کی جیبیں بھرنے پر مجبور ہے۔ ان کے خلاف کاروائی کی آس لگائے بیٹھی قوم کو خبر ہو کہ کل وزیراعظم صاحب نے پٹرول کی قلت پر نوٹس لیا اور چیئرمین اوگرا کو طلب کیا ۔وزیراعظم صاحب نے نہایت غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کیا کہ اگر چیئرمین اوگرا اس میں ملوث ہوئے تو سخت کاروائی کی جائے گی ۔
اب پتا نہیں کاروائی اتنی ہی سخت کی جائے گی جتنی شوگر مافیاز کے خلاف کی گئی ہے یا اس سے بھی زیادہ سخت کاروائی کرکہ اس میں ملوث افراد کو لندن سے بھی آگے بھیج دیا جائے۔

والسلام محمد راحیل معاویہ نارووال