احمدپورسیال پولیس گردی ادارے کی ساکھ بچانی ہے یا پھر ماتحت افسران
#ڈی____پی___جھنگ___کا___امتحان۔جھنگ
دسمبر دوہزار انیس سے اپریل دوہزار بیس تک تین ڈی پی او تبدیل ہوچکے مگر جھنگ پولیس کی نا کارکردگی بدلی ہے نا ہی عادتیں، دسمبر دوہزار اٹھارہ سے دسمبر دوہزار انیس تک
حافظ عطاالرحمن ڈی پی او جھنگ تعینات رہے
حافظ عطاالرحمن کی جھنگ تعیناتی کا ایک سال
مساجد میں کھلی کچہریوں تک یا پھر عوامی نمائندوں کی تابعداری تک محدود رہا
پولیس امن و امان میں بری طرح ناکام رہی جرائم پیشہ عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع ملا
تو دوسری طرف شہریوں پہ پولیس تشدد کے واقعات آئے روز کا معمول بنے رہے ادارے کی کارکردگی کا گراف نیچے آیا تو وہیں جھنگ کی عوام عدم تحفظ کا شکار ہوئی. …
دسمبر دوہزار انیس حسن رضا خان نے ڈپی او جھنگ کا چارج سنبھالا دراز قد حسن رضا خان قدرے سخت جان تھے
سنتے ہیں کے منتخب عوامی نمائندوں کو بھی خاطر خواہ لفٹ نا کرواتے ان کے آنے سے
جھنگ کے اور جھنگ کے تھانوں کے حالات قدرے بہتر ہوتے نظر آئے
مگر جھنگ والوں کی بدقسمتی کے ان کی ڈی آئی جی کے عہدے پہ پرموشن ہوگئ
سترہ اپریل دوہزار بیس سردار غیاث گل نے ان کی جگہ عہدے کا چارج سنبھالا
بظاہر دبنگ نظر آنے والے ڈی پی او غیاث گل نے چارج سنبھالتے ہی بڑے پیمانے پر محکمہ جاتی اکھاڑ پچھاڑ کی پندرہ دنوں میں ضلع بھر کی تنسم چوکیوں ہر تھانے کے انچارج بدل دئیے تو کئ لائن حاضر کردئیے
ان کی جھنگ تعیناتی کو ایک مہینہ ہونے کو ہے اور آئے روز کوئی نا کوئی نیا کھڑاک سننے کو ملتا ہے کے
ناقص کارکردگی پہ فلاں تھانے فلاں چوکی کے انچارج کو تبدیل کردیا گیا تو کبھی صاحب منہ ہاتھ دھوئے بغیر کسی نا کسی تھانے کے سرپرائز وزٹ پہ پہنچے ہوتے ہیں اب تک کی ان کی کارکرددگی کھڑاک پہ ہی کھڑی نظر آتی ہے
جبکہ جھنگ بھر میں جرائم پیشہ عناصر بے قابو ہیں تو وہیں پولیس افسران حسب روایت اپنی عادتوں سے باز نہیں آرہے خیر ان اندر کی خبر رکھنے والے کہتے ہیں کے
صاحب محکمہ جاتی معاملات میں لاپرواہی برداشت نہیں کرتے تو وہیں میڈیا اور عوام دوست بھی ہیں اور ادارے کو کالی بھیڑوں سے پاک کرنے کے خواہش مند بھی ہیں
مگر ان کی تابڑ توڑ کاروائیوں کے باوجود ان کے ماتحت افسران کی خصلتیں نہیں بدل رہیں جھنگ پولیس
“پولیس کا ہے فرض چھترول آپ کی” کے ماٹو سے ہٹنے کو تیار نہیں
ایسا ہی ایک دلخراش واقعہ گذشتہ روز
تھانہ احمدپورسیال کے نواحی علاقہ 8/3L میں پیش آیا کے انچارج چوکی سمندوآنہ اے ایس آئی
ناصر خان بلوچ نے سول وردی میں شیر جوانوں کے ہمراہ
مقامی شہری افضل ارائیں کے گھر اس کی گرفتاری کیلیے دھاوا بول دیا افضل نہی ملا تو
نکے تھانیدار نے اس کے بیٹے کو گرفتار کر لیا اور سرعام تشدد کا نشانہ بنایا عینی شاہدین کہتے ہیں
ناصر خان اور اس کے ساتھی خواتین کو گالم گلوچ بکتے رہے ایسے میں شیر جوانوں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا
تو ایس ایچ او احمدپورسیال نواز نول بھی مزید شیر جوانوں کے ہمراہ جائے وقعہ پہ پہنچ گئے
اور چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھر میں موجود خواتین کو بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا
بات یہیں تک محدود نہیں رہتی
صاحب بہادر جلال میں آئے اور اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے ایک خاتون پولیس کی گولی لگنے سے زخمی ہوگئ
اسی اثناء علاقہ میں شور شرابا بڑھا تو شیر جوانوں نے پتلی گلی سے نکلنے کی کی
راوی کہتا ہے کے پولیس فائرنگ سے زخمی خاتون ہسپتال پہنچی تو وہاں ایمرجنسی میں بھی پولیس نے زخمی خاتون کو پھر سے تشدد کا نشانہ بنایا
اور وہاں پہنچنے والے ان کے لواحقین کو گرفتار کرلیا
اور پولیس گردی کے واقعہ کی یہیں بس نہی ہوتی
ایس ایچ او احمد پورسیال نے اپنی غنڈہ گردی پہ پردہ ڈالنے کیلیے ساٹھ کے قریب مرد و خواتین پہ جھوٹی ایف آر درج کی
جس میں کسی ثقلین نام کے اشتہاری کو افضل کے گھر میں پناہ لیے ہوئے ظاہر کیا گیا ہے حالانکہ علاقہ بھر سے گواہیاں آرہیں کے یہ من گھڑت اور جھوٹی ایف آئی آر
کل ڈی ایس پی شورکوٹ احمد سجاد چیمہ جن کے پاس تحصیل احمد پورسیال کا اضافی چارج ہے
بھی موقع پر پہنچے تو اہل علاقہ نے
پولیس گردی کے خلاف احتجاج کیا
جس پہ احمد سجاد چیمہ نے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا وعدہ کیا اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق واقعہ کی انکوائری اب ایس پی انویسٹیگیشن جھنگ کو سونپ دی گئ ہے
اب دیکھنا یہ ہے کے ایس پی انویسٹی گیشن اس واقعہ کی کتنی غیرجانبدارانہ تحقیاقات کرتے ہیں
اور یہاں سب سے بڑا امتحان نئے نویلے اور سردار دے کھڑاک والے ڈی پی او جھنگ سردار غیاث گل کے کھڑاک کا ہے
کے آیا وہ اس واقعہ کے ذمہ دار پولیس افسران کو کیفرکردار تک پہنچانے کا بڑا کھڑاک کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں
گر وہ اپنی نگرانی میں اس واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں
تو جہاں عوام کا ان پہ اعتماد بڑھے گا تو وہیں ادارے کا گراف بھی اوپر آئے گا اور آئندہ پولیس گردی کے واقعات میں بھی کمی آئے گی اب دیکھنا ہے ڈی پی او جھنگ اور دیگر پولیس افسران ماتحت پیٹی بھائیوں کو بچاتے ہیں یا ادارے کی ساکھ کو…………
#خانہ______بدوش












