مظفرگڑھ۔سبزی منڈی گوناں گوں مسائل کا شکار۔۔یونین اہلکار پھٹ پڑے۔۔
مظفرگڑھ( سٹار نیوز آن لائن )انجمن آڑھتیان سبزی و فروٹ منڈی کے صدر میاں اعجاز حسین قریشی ،سینئر نائب صدر چوہدری محمد خالد ، نائب صدر ثناءاللہ خان بلوچ اور جنرل سیکرٹری ایم ارشد سلیم نیازی نے وزیراعلیٰ پنجاب ، کمشنر ڈیرہ غازیخان اور ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ سے مطالبہ کیا ہے کہ سبزی و فروٹ منڈی مظفرگڑھ میں توسیع کرکے نکاس آب کےلئے سیوریج کا نظام وضع کیا جائے، سبزی و فروٹ منڈی کی سڑکوں پرسٹریٹ لائیٹس کا انتظام کرکے سوئی گیس بھی مہیا کی جائے اور منڈی کے قیام کے وقت ہونیوالے فیصلے کے مطابق منڈی کے اندر بینک برانچ ، پولیس چوکی اور مارکیٹ آفس کا دفتر بھی قائم کیا جائے۔ مظفرگڑھ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انجمن آڑھتیان سبزی و فروٹ منڈی کے عہدیداروں نے کہا کہ مظفرگڑھ کی سبزی و فروٹ منڈی جنوبی پنجاب کی اہم ترین منڈیوں میں سے ایک ہے جہاں سے سبزیاں اور آم کے موسم میں آم ملک بھر کے شہروں میں سپلائی ہوتے ہیں اور ملک بھر کی منڈیوں کے بڑے آڑھتی مظفرگڑھ کی منڈی سے ہی آم اور سبزیات منگواتے ہیں مگر اس قدر اہم منڈی ہونے کے باوجود سرکاری حکام منڈی کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دیتے اورآڑھتیان کے بار بار مطالبہ کے باوجود بھی اہم مسائل کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1990 ءسے موجودہ جگہ پر منتقل ہونیوالی سبزی اور فروٹ منڈی کے ابتدائی نقشے میں ایک بینک ، پولیس چوکی اور مارکیٹ کمیٹی کے دفتر کی جگہ بھی مختص تھی مگر بعدازاں سیاسی لوگوں نے مارکیٹ کمیٹی کے عملے سے ملی بھگت کرکے مفاد عامہ کےلئے مختص ان پلاٹوں پر دوکانیں تعمیر کراکر فروخت کرادیں جس کی وجہ سے آج تک منڈی میں بینک برانچ ، پولیس چوکی اور مارکیٹ کمیٹی کا دفتر نہیں بن سکا۔ انہوں نے کہا کہ سبزی و فروٹ منڈی میں دن بدن کاروبار وسیع ہونے کی وجہ سے خریداروں کا رش بھی بڑھتا جارہا ہے مگر مارکیٹ کمیٹی کے حکام نے سبزی و فروٹ منڈی میں توسیع کرکے اس کو ماڈل منڈی میں تبدیل کرنے کےلئے کوئی عملی اقدام نہیں کیا جس کی وجہ سے سبزی منڈی کے آڑھتیوں، منڈی میں اجناس لانے والے زمینداروں اور بیوپاریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظفرگڑھ کی اہم ترین سبزی و فروٹ منڈی کے اندر مارکیٹ کمیٹی کے سابق افسران نے کریانہ وغیرہ کی دوکانیں بنوالیں جن کا منڈی کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ تمام دوکانیں ناجائز طور پر ان پلاٹوں پر تعمیر کی گئی ہیں جو پولیس چوکی اوربینک کےلئے مختص تھے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے سے منڈی کے سائیکل اسٹینڈ کا بھی مسئلہ بنا ہوا ہے مگر منڈی کے اندر سائیکل و موٹرسائیکل اسٹینڈ کےلئے کوئی جگہ مخصوص نہیں ہے اور نہ ہی منڈی کے نقشے میں ا س کےلئے جگہ رکھی گئی تھی، اس لیے سائیکل و موٹرسائیکل اسٹینڈ سالانہ ٹھیکے پر لینے والے ٹھیکیدار سبزی منڈی میں آنیوالے خریداروں اور آڑھتیوں کو ناجائز طور پر تنگ کرتے ہیں اور آئے روز لڑائی جھگڑے اور غنڈہ گردی ہوتی ہے، جیسا کہ گزشتہ دنوں بھی موٹرسائیکل اورسائیکل اسٹینڈ کی پارکنگ کے مسئلے پر فساد برپا ہوا اور ہڑتال کی وجہ سے منڈی بند ہوئی مگر تمام تر معاملات کے باوجود مارکیٹ کمیٹی کے اعلیٰ حکام اور ضلعی انتظامیہ نے سائیکل اورموٹرسائیکل اسٹینڈ کےلئے منڈی کے باہر کوئی جگہ مختص نہیں کی جس کی وجہ سے ٹھیکیدار من مانی کرتے ہیں اورآئے روز جھگڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی کہ وہ مظفرگڑھ کی سبزی و فروٹ منڈی کے آڑھتیان اوردیگر متعلقہ افراد کو درپیش مسائل حل کرنے کےلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دیں جوکہ انجمن آڑھتیان کے عہدیداروں ، مارکیٹ کمیٹی کے حکام اورڈپٹی کمشنر کی مشاورت سے منڈی میں توسیع کا پلان مرتب کرے اور منڈی کے اندر بینک برانچ ، پولیس چوکی اور مارکیٹ کمیٹی کے دفتر کے قیام کےلئے فوری عملی اقدامات کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ منڈی کے اندر پولیس چوکی کا قیام اس لیے بھی ضروری ہے کہ منڈی کے آڑھتیوں اوربیوپاریوں کو متعدد بار ڈاکوﺅں نے لوٹا مگرآج تک کسی بھی ڈکیتی کے ملزمان گرفتار ہوئے اورنہ ہی آڑھتیوں کی لوٹی گئی رقومات برآمد ہوسکی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سبزی و فروٹ منڈی سے متصل واقع بلدیاتی اداروں کی خالی پڑی ہوئی زمین بھی متعلقہ سرکاری محکمے آڑھتیوں کو سالانہ ٹھیکے پر دیں تاکہ منڈی میں توسیع اور زمین کے مالک بلدیاتی اداروں کی بھی خاطرخواہ آمدن ہو سکے۔
رپورٹ عثمان خان خٹک












