حکومت نے بی این پی مینگل کو منانے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سردار اختر مینگل نے کہا کہ میں اپنی جماعت کی تحریک انصاف سے علیحدگی کا باضابطہ طور پر اعلان کرتا ہوں، ہم پارلیمنٹ میں رہیں گے اور مسائل پر بات کرتے رہیں گے۔
اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کو برابر کا حصہ دینا ہوگا، آج نہیں تو کل دینا ضرور ہوگا۔ بی این پی مینگل کی علیحدگی کے بعد وفاقی حکومت قومی اسمبلی میں 4 ووٹوں سے محروم ہوگئی تاہم اب حکومت نے بی این پی مینگل کو منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی بی این پی مینگل سے رابطہ کرے گی، وزیراعظم عمران خان نے مذاکراتی کمیٹی کو بی این پی مینگل سے رابطے کی ہدایت کر دی ہے اور کہا ہے کہ بی این پی مینگل کے تحفظات دور کیے جائیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چھ نکاتی معاہدے پر عمل درآمد ہوگا۔گذشتہ روز شبلی فراز کا بھی بی این پی مینگل کے رابطہ ہوا تھا۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور شبلی فراز شامل ہیں۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں حکومت کو 342 کے ایوان میں سے 172 ارکان کی حمایت درکار ہی,ایک نشست منیر اورکزئی کی وفات کی وجہ سے خالی ہوئی قومی اسمبلی میں اس وقت 341 ارکان موجود ہیں ا وروزیراعظم عمران خان 184 ووٹ لیکر قائد ایوان منتخب ہوئے تھے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی 156 ایم کیو ایم 7 مسلم لیگ ق 5 جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی 5 جی ڈی اے 3 عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی ایک ایک نشست ہے جبکہ دو آزاد ارکان بھی حکومت اتحاد میں شامل ہیں اس وقت تحریک انصاف اور اتحادیوں کی کل تعداد 180 ہے قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی تعداد مسلم لیگ ن 84 پیپلزپارٹی 55 ایم ایم اے 15 ،اے این پی 1 اور آزاد دو ارکان اپوزیشن اتحاد کا حصہ ہیں اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 157 ہے بی این پی مینگل کی چار نشستیں ملنے کے بعد تعداد 161 ہوسکتی ہے۔