پاکستان میں نفاذ اردو
کچھ حتمی باتیں
(پروفیسر محمد سلیم ہاشمی)

1۔ دنیا کے ہر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک کی طرح یہ پاکستان کا حق ہے کہ یہاں اس کی زبان نافذ ہو۔

2۔ قران پاک کی آیات، قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایات، اس ملک کا آئین اور عدالت عظمیٰ کا فیصلہ یہ بات واضح کر رہے یں کہ پاکستان پر پاکستان کی زبان (اردو) نافذ ہونا چاہئے۔

3۔ اردو پاکستان کی زبان ہے، پاکستان کے عوام کی زبان ہے ، صرف یہی امر اس کو اس ملک کی زبان بنانے کے لئے کافی ہے۔

4۔ آئین پاکستان کی متعلقہ شقوں اور عدالت عظمیٰ کے حکم کے بعد اس بات میں کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان کی زبان اردو ہے۔

5۔ آئین پاکستان کی شقیں اور عدالت عظمیٰ کا حکم ہر پاکستانی کو پابند کرتا ہے کہ وہ جہاں جہاں قوت نافذہ رکھتا ہے اردو نافذ کرے، اس میں کسی مزید حکم یا فیصلےکی ضرورت نہیں ہے۔ اس حکم کی پابندی کرنا پاکستان کے ہر شہری پر فرض ہے جس میں صدر، وزیر اعظم، کابینہ، مجلس شوریٰ، صوبائی حکومتیں نیز وفاقی اور صوبائی ادارے اور نجی شعبہ سب شامل ہیں۔

6۔ اب بھی اگر کوئی حکمران پاکستان میں نفاذ اردو کے لئے اقدامات نہیں اٹھاتا، اداروں اور افراد کو پابند نہیں کرتا تو اس میں دو باتیں ہیں،
ا۔ اگر وہ نفاذ اردو کے بارے میں آئین کی شقوں اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے آگاہی رکھتے ہوئے بھی نفاذ اردو کے لئے اپنے اختیارات استعمال نہیں کر رہا تو وہ بد دیانت اور خائن ہے، نااہل ہے اور اس ملک اور اس کے مسائل سے جان بوجھ کر بے اعتنائی کا رویہ اختیار کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں اسے اس ملک پر حکمرانی کا کوئی حق نہیں ہے۔
ب۔ اگر اسے ان معاملات کا علم ہی نہیں ہے تو اسے چاہئے کہ اقتدار سے کنارہ کشی کر کے اقتدار کو اس کام کے اہل لوگوں کے سپرد کر دے۔ کسی ملک میں اس کی زبان نافذ کرنا کوئی غیر اہم کام نہیں ہے کہ اس سے انجان رہا جائے، (یہ ایک فطری بات ہونے کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان پر عمل درآمد کا معاملہ ہے)۔

7۔ ملک کے تمام سرکاری و انتظامی امور میں فی الفور اردو کو رائج کر دینا چاہئے اس معاملے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونا چاہئے۔ انگ ریزی کے جبری تسلط سے اس ملک کو پہلے ہی ناقابل تلافی نقصانات پہنچ چکے ہیں، اس کا مزید تسلط اس ملک کی مزید تباہی و بربادی کا سبب بنے گا، اس سے کوئی اچھا نتیجہ نکلنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا اس ملک سے فوری طور پر بیخ و بن سے اکھاڑا جانا از حد ضروری ہے۔

8۔ مقابلے کےتمام امتحانات فوری طور پر اردو میں لینے کے انتظامات کرنا چاہئیں، ان کا انگ ریزی میں لئے جانا کوئی جواز نہیں رکھتا۔ بہتر ہے ان امتحانات کو فوری طور پر انگ ریزی کی آلائش سے پاک کیا جائے۔ وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشنوں کے چیئرمینوں اور اراکین کو اس بارے میں فوری اقدامات اٹھانا چاہئیں اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتےہیں تو ان کو ان کے عہدوں سے برطرف کر کے اہل افراد کو یہ ذمہ داری سونپنا چاہئیے۔

9۔ تعلیم کے تمام شعبوں میں ہر سطح پر اردو کو فوری طور پر نافذ کرنا چاہئیے، اس سلسلے میں متعلقہ وزرائے تعلیم کو اپنے محکموں کے سیکرٹریوں کو ہدایات جاری کرنا چاہئیے۔ تمام بورڈز کے افسران کو تمام سطحوں کے تمام امتحانات اردو میں لینے کے انتظامات کرنا چاہئیں۔

اردو کا ابھی تک نافذ نہ ہونا ہمارے حکمرانوں کی اس ملک کے ساتھ وابستگی و وفاداری اور اہلیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، پاکستان کی ساری خرابیوں اور بربادیوں کا بنیادی سبب اس ملک پر انگ ریزی کا جبری، ناجائز، غیر فطری، غیر قانونی اور غیر آئینی تسلط ہے۔

میں بار دگر بتا رہا ہوں کہ آئین پاکستان کی شقوں اور عدالت عظمیٰ کے حکم کے نتیجے میں ہر شخص نفاذ اردو کا ذمہ دار اور کلی طور پر با اختیار ہے اس سلسلے میں اسے خود فیصلہ کرنا ہے، خود قدم اٹھانا ہے، اسے اس بارے میں کسی فیصلے، حکم یا شخص کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

خیال رہے اردو پاکستان کی آئینی، قانونی اور سرکاری زبان ہے، اس کا نفاذ ہر پاکستانی پر فرض ہے۔
پاکستان زندہ باد

پروفیسر محمد سلیم ہاشمی
اشتراک
فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک