دل کے 4لاکھ آپریشن اور سائنس کی شکست؟
{~منیارہ نور ~}کالم نگار نوید مسعود ہاشمی
23 سال ہوگئے دل کا آپریشن کرتے ہوئے۔۔۔ ان 23سالوں میں تقریباً چار لاکھ سے زائد دل کے آپریشن کر چکا ہوں۔۔۔ ان چار لاکھ دل کے مریضوں میں صرف آزادکشمیر ہی نہیں بلکہ گلگت بلتستان’ کے پی کے’ پنجاب’ سندھ اور بلوچستان کے علاوہ دنیا کے کئی دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مریض بھی شامل ہیں۔۔۔ خیر کا یہ سارا کام اللہ کے فضل و کرم سے ہی ممکن ہوا؟ میں تو اللہ کا ایک عاجز بندہ ہوں… میری کیا اوقات کہ میں قسم’ قسم کے دعوے کرتا پھروں؟ لیکن اللہ کی طاقت سے تو سب کچھ ممکن ہے’ یہ جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں… دل کے مریضوں کا یہ سارا علاج اللہ کے فضل سے ہی ممکن ہوسکا، یہ خاکسار اپنے ساتھیوں مولانا شمس الحق’ عبیداللہ طارق اورمولانانصیر گل کے ہمراہ ”دل” کے آپریشن میں عالمی شہرت حاصل کرنے والے حکیم محمد جاوید خان کے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے انہیں کی زبانی یہ گفتگو سن رہا تھا۔ حکیم سائیں جاوید طبیعت کے انتہائی سادہ’ منکسرالمزاج پابند صوم و صلوٰة لالچ اور دولت کمانے کی حرص سے کوسوں میل دور اور انسانیت کی خدمت کے جذبے سے بھرپور شخصیت کے مالک ہیں…دل کا آپریشن تو ان کی پہچان بن چکی ہے، لیکن گردے’ معدہ’ ایل فور’ ایل فائیو مہروں اور رحم مادر کے امراض کے علاج کے حوالے سے بھی اللہ پاک نے ان کے ہاتھوں میں شفاء رکھی ہے …اس سال مارچ کے وسط میں کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر سمیت آزادکشمیر میں بھی لاک ڈائون ہوا تو انہوں نے بھی قانون کے احترام میں دل کے آپریشن بند کر دئیے۔۔۔ لیکن ساتھ ہی ان کی بیماری کی خبریں بھی منظر عام پر آنا شروع ہوگئیں…بلکہ ماہ اپریل میں تو باغ اور اس کے گردونواح کے علاقے میں ان کی وفات کی افواہ بھی پھیل گئی’ میں نے اس حوالے سے جب ان سے سوال کیا تو انہوں نے تفصیلی جواب دیا تو اسے سن کے ہماری حیرت پہلے سے بھی دوچند ہوگئی۔۔۔ ان کا جواب تھا کہ لاک ڈائون کے بعد میرے دائیں گردے میں اچانک شدید درد اٹھی’ اور ساتھ ہی سوجن بڑھنا شروع ہوگئی’ مجھے ساتھی مظفرآباد ایک سینئر ڈاکٹر کے پاس لے کر پہنچے’ جہاں میرے ایکسرے اور سٹی سکین وغیرہ کئے گئے اور پھر مجھے اسلام آباد جانے کا کہا گیا…اس دوران گردے کے درد اور تکلیف نے مجھے تڑپا کر رکھ دیا۔۔۔ صحت کی صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ پیشاب بھی رک گیا’ اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام بڑے ہسپتالوں کے سینئر ڈاکٹروں کو چیک اپ کروایا…اس حوالے سے ایم ایچ کے بریگیڈئیر ڈاکٹر فدا نے میری مکمل رہنمائی کی’ لیکن تمام سینئر ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ دائیں گردے میں ایک کلو دو سو گرام کی جو رسولی ہے’ یہ ”رسولی” کینسر کی ہے اور یہ کینسر جگر کی نالیوں تک پہنچ چکا ہے۔ اب آپریشن نہیں ہوسکتا’ آئندہ 72گھنٹے اہم ہیں…گھر جا کر آرام کریں’ زندہ بچنے کے زیادہ چانسز نہیں ہیں۔
سائیں جاوید بتاتے ہیں کہ میرے ساتھی انتہائی مایوسی کے عالم میں مجھے واپس باغ گھر لے آئے…لیکن میری تکلیف اب پہلے سے بھی دوچند ہوچکی تھی۔ گردے کی سوجن اور بے پناہ درد نے میری ہڈیاں چٹخ ڈالی تھیں۔ پیشاب بھی کئی ۔۔ دنوں سے رکا ہوا تھا… تکلیف کی بے پناہ شدت کے دوران تونسہ شریف کے عالم دین مولانا حبیب الرحمن تونسوی نے میری بیمار پرسی کے لئے فون کیا۔۔۔ میں نے جب اپنی کنڈیشن سے انہیں آگاہ کیا… تو انہوں نے مجھےحکیمی ”سسٹم” سے اس مرض کے علاج کے لئے رجوع کرنے کا مشورہ دیا…سچی بات ہے کہ یہ بات میرے ذہن میں اس لئے نہیں آئی چونکہ ہم اپنے حکیمی طریقہ علاج کے تحت صرف دل کا آپریشن ہی کرتے تھے۔۔۔ بہرحال تونسوی صاحب کے توجہ دلانے پر میں نے اپنے سسٹم کی طرف رجوع کیا اور پھر الحمداللہ اس سسٹم کے تحت گھر کے ایک کمرے میں ہی آدھے گھنٹے۔۔۔ تک میرے گردے کا کامیاب آپریشن ہوا’ اور ایک کلو دو سوگرام کینسر کی رسولی سے گردے کو صاف کر دیا گیا…الحمدللہ اب میں مکمل طور پر صحت یاب ہوچکاہوں اور لاک ڈائون کھلنے کے بعد …”دل” اور دیگر پانچ بیماریوں میں مبتلا مریضوں کا علاج بھی شروع کر دیا ہے۔ مارچ’ اپریل’ مئی تین مہینوں تک عذاب ناک صورتحال کا سامنا کرنے والے سائیں جاوید کے مرض کے سامنے میڈیکل سائنس نے جس طرح بری شکست کھائی۔۔۔ وہ بہرحال افسوس ناک ہے’ سائنس کی ”ترقی” کی دہائیاں دینے والے …بالخصوص حسن نثار اور ڈاکٹر پرویز ھود کو میری طرف سے کھلی آفر ہے کہ وہ آزادکشمیر کے ضلع باغ۔۔۔ کے علاقے ”بیرپانی” میں تشریف لائیں اور یہاں حکیم محمد جاوید خان سے بنفس نفیس ملاقات کرکے ان سے ”سائنس” کی ”ترقی” کی تازہ ترین روداد سننے کے بعد غیر جانبداری کے ساتھ فیصلہ کریں۔۔۔ کہ ان کی ”سائنس” کہاں کھڑی ہوئی ہے؟
پاکستان میں کسی ہارٹ سپیشلشٹ سے عام پاکستانی مریض کا ملنا جتنا مشکل ہے وہ سب جانتے ہیں… پیسے کے بغیر کوئی عام ڈاکٹر کسی غریب پر ہاتھ نہیں رکھتا…سپیشلسٹ ڈاکٹر تو پھر بڑی بات ہے؟ لیکن چار لاکھ مریضوں کے ”دل” کے مفت آپریشن کرنے والا سائیں جاوید صرف باغ یا آزادکشمیر ہی نہیں… بلکہ پورے پاکستان میں اپنی نوعیت کا ایسا منفرد معالج ہے کہ ایک دن میں دور دراز سے آنے والے سو’ سو مریضوں کے دل کا کامیاب آپریشن کرکے انہیں جڑی بوٹیوں کے اجزاء سے بنی ہوئی ادویات بھی دیتا ہے’ محترم حکیم جاوید یہ جڑی بوٹیاں دور دراز کے جنگلات سے خود تلاش کرکے اپنے مطب میں لا کر خود ادویات تیار کرتے ہیں۔.. حکیم محمد جاوید خان کی شخصیت سے حکومت آزادکشمیر ہو یا ریاستی ادارے سب بخوبی واقف ہیں…باغ کے بزرگ عالم دین مولانا امین الحق فاروقی کہتے ہیں کہ اگر پاکستانی ڈاکٹرز بالخصوص ینگ ڈاکٹرز کو کچھ وقت کیلئے حکیم جاوید کی صحبت میں رکھا جائے تو اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔








