‏‎محکمہ ایجوکیشن میں آنے کے بعد ہم نے سیکھا کہ پینا فلیکس لگانے سے ڈینگی اور ہر طرح کی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں. اور خالی سکولز میں ڈینگی اتنا پھیلتا ہے کہ پورےعلاقے کو لگ سلکتا ہے. ہاتھ میں بینرز اٹھا کر دھوپ میں کھڑے ہونے سے کشمیر آزاد ہو جاتا ہے.
‏‎محکمہ ایجوکیشن میں آنے کے بعد ہم نے سیکھا کہ بچوں کو فیل نہ کرنے سے بچے بہت ذھین بنتے ہیں اتنے کے سارے ممالک کو مات دے دیتے ہیں. اساتذہ اتنی کم تر نسل ہے کہ ایک کلرک بھی اس سے ذیادہ معتبر شخصیت رکھتا ہے ‏‎محکمہ ایجوکیشن میں آنے کے بعد ہم نے سیکھا کہ استاد میڈیکل ٹیم میں پایا جاتا ہے، مردم شماری، الیکشن، یوپی ای ڈیٹا، لوگوں کی جی حضوری، کلرکوں کی جی حضوری، افسروں کی جی حضوری کرنے والا معمولی معاشرے کا کیڑا ہوتا ہے جو ان کاموں کی وجہ سے پڑھا نیہیں پاتا اور مفت کی روٹیاں توڑتا ہے.