لفظ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی کو دنیا سے گزرے 65 سال بیت گۓ
تاہم امانتًا دفنایا گیا ان کا جسدِ خاکی تا حال وطن واپس لا کر سپردِ خاک نہ کیا جا سکا۔
تفصیلات جانیے بشریٰ وکیل کے قلم سے

چوہدری رحمت علی 16 نومبر 1897 کو ہوشیاپور کے گاٶں موہراں میں حاجی شاہ گجر کے گھر پیدا ہوۓ
اینگلو سنسکرت ہاٸی سکول جالندھر میں میٹرک کرنے کے بعد 1914 میں اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا
انہوں نے 1915 میں اسلامیہ کالج لاہور میں بزم شبلی کی بنیاد رکھی
اور پلیٹ فارم سے تقسیمِ ھند کا نظریہ پیش کیا۔
چوہدری رحمت علی خان نے آزاد وطن کے حصول کی جانب قدم بڑھاتے ہوۓ 1933 میں پاکستان نیشنل لبریشن موومنٹ کے نام سے تنظیم بناٸی۔
اسی سال اپنی کتاب Now and Never شاٸع کی۔جس میں پہلی بار لفظ پاکستان استعمال کیا گیا۔
یہ نام آپ نے پنجاب افغانیہ کشمیر بلوچستان اور سندھ سے اخذ کیا۔
جہاں مسلمان 1200 سال سے آباد ہیں
انہوں نے پاکستان کے علاوہ دو اور ممالک بنگلستان اور عثمانیات کے نام بھی پیش کیے۔
تحریکِ پاکستان کے عظیم مجاھد کا 3 فروری 1951 میں نہایت کسمپرسی کی حالت میں دیارِ غیر انتقال کر گۓ۔
تاہم 17 دن تک برطانیہ میں کولڈ سٹوریج میں اپنے ہم وطنوں کا انتظار کرتے کرتے ان کو برطانیہ میں ہی سپردِ خاک کر دیا گیا۔

تحریر بشری وکیل بیوروچیف سٹار نیوز