ہندوستان کیا چاہتا تھا، کیا ہوا
( بکھری سوچیں )
کالم نگار غلام شبیر منہاس
1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ایک بھارتی لڑاکا طیارہ پاک فضایئہ کے شاہینوں نے گرایا تو اس طیارے کا پائلیٹ زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ اوراس کو طبی امداد کیلئے کراچی کے ایک ھاسپیٹل میں داخل کردیا گیا۔ دوران علاج اس پائلیٹ سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ یہاں سے اگر آپ واپس اپنے ملک چلے جاتے ہیں تو مستقبل میں کیا کریں گے۔ اس نے لمحہ بھر کیلئے سوچا اور اس صحافی کو کہا میں جا کے دوبارہ تیاری کروں گا اور پھر سے پاکستان پر حملہ آور ہوں گا۔ میں یہ حملے اس وقت تک جاری رکھوں گا جب تک پاکستان کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ نہیں جاتا۔
یہ محض ایک جنگی قیدی کا خیال یا عزم نہیں ھے بلکہ یہ ھندوستان میں بسنے والے ھر بھارتی کا عزم بھی ھے اور ارادہ بھی۔ بھارت نے آج تک پاکستان کو دل سے لمحہ بھر کیلئے بھی تسلیم نہیں کیا اور ھروقت اس کو مٹانے کے درپئے ہیں۔ مگر شومئی قسمت کہ ان کی ہرچال الٹی ہوتی جارہی ھے۔ پاکستان قائم رہنے کیلئے بنا ھے اور انشاء اللہ اس نے قیامت کی صبح تک قائم رہنا ھے۔ مگر بھارتیوں کی ضد اور انا ھے کہ اس کو ھم نے ریزہ ریزہ کرنا ھے۔ قیام پاکستان سے ہی انکی طرف سے خطرناک اور مکروہ سازشوں کا جو کھیل جاری ھے اس میں اس وقت شدت آئی جب گوارد کو آباد کیا گیا اور سی پیک جیسے منصوبے پہ کام کا آغاز ہوا۔ انھوں نے ایران کو اپنی انٹیلی جنس کا بیس کیمپ بنایا اور بلوچستان کو فوکس کرلیا۔ وہاں علیحدگی کی تحریک شروع کرائی اور بلوچوں کو پاکستان کے خلاف ابھارا۔ مگر ان کو اس وقت سخت جھٹکا لگا اور بنا بنایا کھیل بگڑ کر رہ گیا جب کلبھوشن کا پورا نیٹ ورک پکڑا گیا۔ متبادل کے طور پہ انھوں نے افغانستان میں بھی بیس کیمپ بنا رکھے تھے۔ اس کام میں انھیں مکمل طور پہ امریکی آشیرباد حاصل تھی اور امریکہ نے انھیں اس وقت تک افغانستان میں فری ہینڈ دے رکھا تھا جب تک یہ خود وہاں موجود تھے۔ مگر یہاں بھی امریکی شکست اور طالبان کے گٹے گوڈے پکڑ کے مذاکرات کیلئے راضی کرنے کے بعد ھندوستان کی ساری انویسمنٹ رایئگاں چلی گئی۔ بھارت کبھی نہیں چاہتا تھا کہ امریکہ طالبان سے مذاکرات کرے مگر امریکہ کے پاس اور کوئی حل بچا ہی نہیں تھا۔ اس پہ بھارت نے امریکہ سے دبے لفظوں میں شکایت بھی کی مگر امریکیوں نے کہہ دیا کہ افغانستان سے آپ اپنا بوریا بستر گول کر لیں البتہ کشمیر اور ایل او سی پہ آپ بے شک پاکستان کو ٹف ٹائم دیں ھم پس پردہ آپ کے ساتھ ہیں۔ بھارتیوں نے شہہ پاکر مقبوضہ کشمیر سمیت پاکستان کو مختلف سیکٹرز پہ انگیج کرنا شروع کردیا۔ یہ پاکستان کو اشتعال دلاتا رھا۔ تاکہ پاکستان بھی کوئی ری ایکٹ کرے مگر پاکستان تحمل سے اس کو جواب دیتا رھا۔ اس نے اپنے جنگی طیارے تک پاکستانی حدود میں گھسائے۔ آئے روز ڈورن طیارے جو جاسوسی اور فوٹوگرافی کیلئے استعمال ہوتے ہیں ان کے زریعے سرحدی علاقوں کے تقدس کو پامال کیا۔ آبادیوں کو نشانہ بناتا رھا مگر پاکستان نے بجائے کسی اشتعال میں آنے کے اس مقدمہ کو بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھ دیا۔ اور اس بدمعاشی کیخلاف وزارت خارجہ نے موثر حکمت عملی اپناتے ہوئے انٹرنیشنل سطح پر بہترین لابنگ کی اور کئی ملکوں کو اپنا ھم نوا بنا لیا۔
افغانستان، ایران اور ایل او سی پر جب ھندوستان مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رھا تو اس نے وادی گلوان کا رخ کیا۔ اس محاز پر بھی ہندوستان کو امریکہ کی خاموش حمایت حاصل تھی۔ چین قطعی طور پہ جنگ نہیں چاہتا تھا مگر امریکہ کی خواہش تھی کہ چین کو بھی بذریعہ بھارت ٹف ٹائم دیا جائے۔ یہ کہانی بھی بڑی دلچسپ ھے۔
ہوا یوں کہ بھارت نے وادی گلوان میں غیر محسوس طریقے سے آگے بڑھنا شروع کیا اور وہاں موجود “دولت بیگ” ایک قصبہ میں اپنا بیس کیمپ بنالیا۔ یہ قصبہ شاہراہ قراقرم سے محض آٹھ کلومیٹر کی دوری پہ واقعہ ھے۔ چین کو جب اصل صورتحال کا اندازہ ہوا تو اس نے فوری طور پہ ری ایکٹ کیا اور بھارتی فورسسز کو دریائے گلوان کے اس پار 45 کلومیٹر تک واپس اندر دھکیل دیا۔ اب بھارتی روزانہ سفید پرچم لے کر سامنے آتے کہ بات چیت کریں مگر چینی فورسسز کی طرف سے کوئی جواب نہ ملتا۔ بالآخر 6 جون کو چین اور بھارت کے درمیان ایک طویل فلیگ میٹنگ ہوئی جس میں سات گھنٹوں کی بحث کے بعد لیفٹینٹ جنرل ہریندر سنگھ خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا۔ اس میں صرف ایک بات طے ہوئی کہ دونوں افواج اپنی موجودہ پوزیشن سے ایک ایک کلومیٹر پیچھے چلی جایئں۔
جب دونوں افواج پیچھے ہٹ گیں تو دہلی میں دودن تک اس پہ غور ہوتا رھا کہ اب لوگوں کو کیا بتایا جائے۔اور دوسرا جن لوگوں نے پہاڑی برفیلی علاقوں میں سرو کیا ھوا ھے وہ جانتے ہیں کہ ان سیاچن اور لداخ کے علاقوں میں راشن کے ٹو اور ایمونیشن وغیرہ کی ڈمپینگ صرف جون جولائی اور اگست میں ہی ممکن ہوتی ھے۔ لھذا فیصلہ ہوا کہ اس علاقے کا دوبارہ سے کنٹرول حاصل کیا جائے۔ اور اس ایک کلومیٹر چھوڑے گئے علاقے میں جا کے ویڈیوز بنائی جایئں تاکہ عوام کو مطمعن کیا جاسکے۔
اس مہم کو سر کرنے کیلئے کرنل سنتوش بابو اپنے ڈھائی سو فوجیوں کو لے کر گیا۔ اور اس کے بعد کیا ہوا یہ تماشہ ساری دنیا نے دیکھا۔ بھارت کے کرنل سمیت 20 فوجی مارے گئے۔ ایک کرنل اور دو میجرز سمیت دس بھارتی فوجیوں کو چین نے گرفتار کرلیا اور بھارتیوں کو مار مار کے واپس اپنے علاقوں سے بھی اندر تک پسپا کردیا۔
میرا خیال ھے یہ بھارتی قیادت کیلئے ایک بہترین سبق ھے کہ وہ مہم جوئی اور منہ کو لگے خون والی روایت ترک کرے اور اپنے اندرونی معاملات پہ توجہ دے۔ ایسا نہ ھو علاقے کی بالادستی کا خواب دیکھتے دیکھتے اپنے وجود کے ٹکڑے کرا بیٹھے۔ اس بار تو روس کو شامل کرکے بھارت نے چین سے آنلائن مذاکرات کرلیئے اور منت ترلا کرکے فوجیوں کو چھڑا لیا مگر ہربار شاید ایسا ممکن نہ ہو۔۔اور نریندر مودی جلد “سرینڈر مودی” کے طور پہ جانا جانے لگے۔








