ضمیرکا باغی اور سوشل میڈیا کی فیک آئی ڈیز
تحریر عمر فریاد مرالی سیال

یہ کوئی2017 کی بات ہوگی جب مجھے ایک فون کال آئی کہ اس بندے کا سوشل میڈیا پر سیال گروپ کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا زور پکڑتا دکھائی دے رہا ہے لہذا اس کو ہر فورم پر جواب دیا جائے تاکہ یہ سیال گروپ کو ڈسٹرب نہ کرے۔
میں نے پتہ لگایا تو پتہ چلا برادر فرحان اعجاز صاحب گڑھ موڑ سے ایک معزز فیملی سے تعلق رکھتے ہیں اور جو کچھ لکھتے ہیں وہ 80% حقائق پر مبنی ہوتا ہے۔ اس وقت یہ شخص ہمارے جھنگ میں واحد بندہ تھا جو سوشل میڈیا پر لوگوں کو صاحب اقتدار کے خلاف یا عوام کے حقوق کی بحالی کیلئے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کررہا تھا۔ اس وقت کے سیال گروپ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو لوگ اچھا نہیں لیتے تھے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر تنقید برائے اصلاح ہو تو گروپ کی قیادت اس کو مثبت بھی لیتی ہے اور پھر متعلقہ مسئلے کے حل پر زور بھی دیتی ہے۔ لہذا میں نے اپنے گروپ کی قیادت کو اعتماد میں لیا اور یہی مشورہ دیا کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی تنقید کو غلط نہ لیں بلکہ اس کو اپنی اصلاح سمجھ کر کچھ نہ کچھ عوام کیلئے کریں۔ میری اس بات پر عمل بھی کیا گیا۔
لیکن اس وقت ہمارے حلقہ این اے 91 میں ایک آئی ڈی خرم ملک کے نام سے آپریٹ ہونا شروع ہوئی جسکا شک بہت لوگوں پر گیا مگر میں نے دن رات محنت کی اور ٹھیک اسی طرح جس طرح برادر فرحان اعجاز نے کھرا سچ والی آئی ڈی کو بے نقاب کیا ہے اس طرح میں نے بھی خرم ملک والی آئی کو بے نقاب کیا تھا۔ اور وہ آئی ڈی بھی کھرا سچ کی طرح ملک محمد خان صاحب ہی چلا رہے تھے۔ اس وقت خرم ملک والی آئی ڈی سے متعلق میری بات موجودہ ایم پی اے رانا شہباز سے کسی ذرائع سے بات ہوئی تھی تو انہوں نے اور کچھ اور بھی صاحبزادہ گروپ نے لوگوں کے یہی کہا تھا کہ اگر یہ آئی ڈی ملک محمد خان کی ہے تو ہم اس کے خلاف بھرپور ایکشن لینگے۔ بدقسمتی سے اس وقت کے ایم این اے این اے 91 نجف عباس خان سیال مرحوم کو برین ہیمبرج ہوگیا تھا اور اس وقت بھی خرم ملک والی آئی ڈی سے موصوف بیمار نجف عباس خان کے خلاف ان کی صحت کے بارے میں بہت کچھ طنزیہ لکھتے رہتے تھے۔ مگر ہم خان صاحب کی علالت کی وجہ سے خاموش رہے۔
میں سلام پیش کرتا ہوں اس مرد مجاہد کو جس نے ہر دور اقتدار کے خود کو پاور فل سمجھنے والے خواہ وہ نجف عباس خان صاحب ہوں یا صاحبزادہ محبوب سلطان صاحب وفاقی وزیر ہوں، کے خلاف عوام کے حقوق کیلئے کچھ نہ کچھ لکھتا ہی رہا۔ اس مرد مجاہد کو میں سوشل میڈیا سٹار سمجھتا ہوں جو کہ کئی بکاو صحافیوں سے اور ضمیرفروش عوامی نمائندوں سے ہزار درجہ بہتر ہے جو عوامی مسائل پر ہر صاحب اقتدار قائدین کے خلاف کھل کر بولتا ہے لکھتا ہے۔ ہم سب باضمیر لوگ آپ کے ساتھ ہیں کیونکہ سچ اور سچے کا ساتھ دینے کا درس ہمیں شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اور واقعہ کربلا سے ملتا ہے۔
میری موجودہ صاحب اقتدار عوامی نمائندوں سے درخواست ہے کہ اگر آپ نے آئندہ بھی عوام سے ووٹ لینا ہے اور اسی عوام کے درمیان جانا ہے تو براہ کرم اپنے سٹاف کی کارستانیوں پر نظرثانی کریں اور کسی شریف کی پگڑی اچھالنے والے اپنے دائیں بائیں نام نہاد خیرخواہوں سے پوچھ گچھ کریں۔ ورنہ ابھی تو آپ کے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر یہ لوگوں کو ڈرا دھمکا لیں گے مگر آئندہ الیکشن میں آپکو اس کا خمیازہ ضرور بھگتنا ہوگا۔ کہیں یہ نہ ہو کہ ہر باضمیر شخص فرحان اعجاز بن کر عوام کو باغی ہی نہ بنا دے آپ کے خلاف۔
آپ باہمت اور اپنے موقف پر سچے ہیں تو ہمیشہ اپنے اوریجنل چہرے سے آئیں اور اپنے خلاف کسی بھی شخص کے سوالوں کے جوابات دیں۔ آپ ایک مرد ہیں اور پھر چھپ کروار نہ کریں بلکہ اپنی شناخت کے ساتھ سامنا کریں یا پھر برداشت کرنا سیکھیں
سوشل میڈیا ایک ایسا ہتھیار ہے اور طاقت ہے جو کسی طاقت سے قابو نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ اس کی تنقید کو مثبت لیا جائے اور عوام سے کیے گئے وعدوں پر پورا اترا جائے۔








