پی آئی اے میں ایک اور بحران

(بکھری سوچیں)

کالم نگار غلام شبیر منہاس

منیر نیازی کے بقول ھم وہ بدقسمت قوم ہیں جو ایک دریا کو عبور کرتے ہیں تو سامنے دوسرا دریا منہ کھولے کھڑا ہوتا ھے۔ ھماری سیاسی پارٹیاں اور انکی قیادت جب بنا کسی ہوم ورک کے حکومت بنا لیتی ہیں تو وہ ایک مقصد یعنی اقتدار کے حصول میں تو کامیاب ہوجاتی ہیں مگر فیصلہ جات اور حکومتی امور کیساتھ ساتھ آئے روز نئے نئے آنے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی نہ تو وہ سکت رکھتی ہیں اور نہ ان کا اس پہ کوئی ہوم ورک یا تجربہ ہوتا ھے۔ جس کی وجہ سے ھمیں اکثر سو پیازوں کے ساتھ سو جوتے بھی کھانا پڑتے ہیں۔
حال ہی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کا ایک بدقسمت طیارہ جو لاہور سے کراچی کیلئے روانہ ہوا تھا۔ کراچی ایئرپورٹ کے بالکل قریب ہی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا۔ اس جہاز میں سو کے قریب مسافر سوار تھے جن میں سے محض دو افراد ہی زندہ بچ سکے۔ اس پہ ایک انکوائری بورڈ بٹھایا گیا اور کچھ دن پہلے اس انکوائری کمیٹی کی فایئنڈنگ وزیر ہوابازی نے عمران خان کو پیش کیں جس پہ وزیراعظم نے ان کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا کہہ دیا۔ وزیرہوابازی غلام سرور خان نے یہ رپورٹ اسمبلی کے فلور پہ اوپن کی۔ یہاں تک تو سب اچھا تھا اور ایک انتہائی بہترین اقدام تھا کیونکہ ھماری تاریخ میں آج تک ہونے والے کئی ایک حادثات و سانحات معمہ بنے ہوئے ہیں اور انکی رپورٹس منظر عام پہ نہیں آسکیں۔ اس حکومت نے نہ صرف محدود وقت میں اس سانحہ کی چھان بین کی بلکہ پہلی فرصت میں ہی اس کو اسمبلی اور قوم کے سامنے پیش بھی کردیا۔
مگر اس پورے پراسس میں ھم سے بحرحال کچھ سنگین غلطیاں بھی سرزد ہویئں۔ وزیر ہوابازی نے اسمبلی فلور پہ ببانگ دہل یہ اعلان بھی فرما دیا کہ ھمارے پاس موجودہ پائلیٹ سٹاف میں 40 فی صد ایسے پائلیٹ ہیں جن کی ڈگریاں اور لایئسنس جعلی ہیں۔ انھوں نے 262 ایسے مشکوک پایلئٹس کی ایک فہرست بھی جاری کردی جو ان کے بقول میرٹ پہ پورے نہیں اترتے۔ ساتھ ہی دو روز قبل موصوف نے 148 پایلئٹس کی ایک ایسی فہرست بھی پی آئی اے انتظامیہ کے حوالہ کی ھے جن کے لایئسنس مشکوک ہیں اور انھیں اڑان بھرنے سے روک دیا گیا۔
جب اس طرح کے خطرناک انکشافات آن ایئر اور اسمبلی فلور پہ کئیے گئے تو پھر یہ رپورٹ محض ایک رپورٹ نہ رہی بلکہ یہ ایک ایسا دھماکہ خیز انکشاف بن گیا جس نے پوری دنیا کے کان کھڑے کردیئے۔ اور پھر ھمارے اس عقل و شعور سے عاری طرز عمل کے نتائج بھی جلد ہی آنا شروع ہو گئے۔
ابتداء میں یورپئین ایئر سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کے یورپین ممالک کیلئے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو 6 ماہ کیلئے معطل کردیا ھے۔معطلی کا اطلاق یکم جولائی 2020ء رات 12 بجے یو ٹی سی وقت کے مطابق شروع ہونا تھا۔ تاھم حکومت کی مداخلت اور منت سماجت پہ اس پابندی کو تین دن یعنی 3 جولائی تک کیلئے موخر کردیا گیا ھے۔ ساتھ ہی برطانیہ نے بھی 6 ماہ کیلئے ھمارے جہازوں کو داخلے سے روک دیا۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں پاکستانی پائلیٹس مختلف ہوائی کمپنیوں میں خدمات سرانجام دے رھے تھے انکا گھیرا تنگ کیا جانے لگا۔ ویتنام کی سول ایوی ایشن نے بھی مشتبہ لایئسنس کی اطلاعات منظرعام پہ آنے کے بعد تمام پاکستانی پائلٹس گراونڈ کردیئے ہیں۔ ویتنامی سول ایوی ایشن کے مطابق ان کے پاس کل 27 پاکستانی پایلئٹس تھے جن میں سے اس وقت 12 کام کررھے تھے۔ 15 کا معائدہ ختم ھوگیا تھا یا وہ کورونا کی وجہ سے کام پہ نہیں تھے۔ ان سب کو گراونڈ کردیا گیا ھے۔
اسی طرح اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکورٹی نے بھی اقوام متحدہ کے آپریشنز کیلئے پاکستان میں رجسٹرڈ طیارے چارٹر پر حاصل کرنے پہ پابندی عائد کردی ھے۔
اس تمام تر افسوسناک صورتحال کے بعد کئی ایک سوال ایسے پیدا ہوتے ہیں جن پہ حکومت کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ھے۔ آپ نے محض نواز شریف اور زرداری حکومتوں کو لعن طعن کرنے کیلئے اپنی ہی ہنڈیا بیچ چوراھے کے لاکے توڑ دی ھے۔ یہ کام کسی مناسب طریقے سے بھی ہو سکتا تھا۔ اس کیلئے اتنی تشہیر کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ وہ پائلیٹس جو کئی برسوں سے جہاز اڑا رھے ہیں آخر ان کے پاس کچھ نہ کچھ تو ہو گا ناں۔۔ یہ ممکن ھے کہ ایک آدھ ریفریشر کورس نہ ہو۔۔یا ایک آدھ ڈاکومنٹس مسنگ ہو۔مگر یہ تو ممکن نہیں ھے ایک ان پڑھ رکشہ ڈرایئور جاکے جہاز اڑانا شروع کردے۔اس پہ آپ ایک بورڈ بنا دیتے جو خفیہ طور پہ اس پہ کام کرتا اور رپورٹ آپکے سامنے لے آتا۔ اس کے بعد آپ اس قسم کے تمام تر عناصر کو فارغ کردیتے۔ آپ نے محض اپنی کم عقلی اور فریق مخالف کے بغض میں ایک ایسا قدم اٹھا لیا ھے جو آپ کے ہی گلے پڑ گیا ھے۔ وزیر ہوابازی کے خلاف اسلام آباد میں اسی بنیاد پہ رٹ بھی ھو چکی ھے جس پہ ممکن ھے آج ہی فیصلہ بھی آجائے۔ آپ نے پچھلی حکومتوں کو رگڑتے رگڑتے پوری پی آئی اے کی بچھی کچھی ساکھ اور ملک کی عزت کو بھی رگڑ کے رکھ دیا۔ خدا کیلئے ایک بار اپنی پالیسیسز کو از سر نو وزٹ کرلیں۔ اسی میں آپکی بہتری بھی ھے، اورملک و قوم کی بھی۔۔آپ کو اللہ نے موقعہ دیا ھے تو آپ سسٹم میں ضرور بہتری لایئں۔ مگر پہلے سے موجود سسٹم کو بالکل تہس نہس نہ کریں۔اس طرح ادارے بیٹھ جایئں گے اور ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔
تازہ ہوا کے شوق میں اے پاسبان شہر۔
اتنے نہ در بناو کہ دیوار گر پڑے۔