جھنگ یونیورسٹی۔۔۔پس پردہ حقائق۔۔۔
تحریر مہر نوید احمد خان سدھانہ سیال سیکرٹری ڈسٹرکٹ پریس کلب جھنگ 03458502003
پرسوں یکدم ایک نیوز اس کی ہمارے جھنگ کے ایک سینر جرنلسٹ نے بریک کی جو خیر سے ایک بڑے چینل کے رپورٹر ہیں جھنگ میں خبر یہ تھی ایک سینر ایم این اے نے وعدہ پورا کر دیا مجھے یونیورسٹی پر وہ شعبدہ باز یاد آجاتے ہیں جو کرتب دکھا کر لوگوں کا عقل نکالتے ہیں جو لکی ایرانی سرکس میں جو تماشہ ہوتا ہے کہ تین گھنٹے بعد پیسے پورے پھر حقیقت سامنے کچھ ایسا ہی یونیورسٹی آف جھنگ کا ہے یونیورسٹی آف جھنگ کا لاہور کالج برائے خواتین کی بلڈنگ میں نوٹیفکیشن جاری میں بڑا خوش ہوا واہ جھنگ والوں کمال کر دیا ہوا میں بھی حیران اور اپنے سورسز سے بات کہ یار اس بار میرے بھائی معصب فاروق اے آر وائی والے نمبر لے گئے کہ۔خبر انہوں نے بریک کر دی آپ نے مجھے بتایا بھی نہیں انہوں نے کہا کہ جناب یہ تو ہمارے پاس سب سے پہلی آئی اب جو پرابلم تھا وہ یہ تھا کہ سب کچھ انگلش میں تھا جو کسی جاہل گنوار ایم اے انگلش سے ترجمہ کروایا جاتا تو وہ یہ۔کہتا کہ جناب یہ تو صلاح مشورہ کے لیے ایک میٹنگ ہوئی ہے جس میں مشورہ کر کے کچھ تجاویز آگے بجھوائی گئی یعنی منٹس آف میٹنگ ہاں مجھ جیسے جاہل صحافی جو زیادہ انگلش جانتا ہے مجھے واقعی یہ نوٹیفیکشن نظر آئے گا کیونکہ میرے سیاست دانوں سے مفادات جڑے ہیں میری تو مجبوری ہے ان کی زبان بولنا اس لیٹر میں جو لکھا یا جو اصل حقائق ہے یہ تجاویز اب متعلقہ محکمہ میں جائے گی وہاں سے کابینہ میں جائے گی کابینہ سے SMBR وہاں سے جناب سی ایم صاحب کے پاس تب نوٹیفیکشن جاری ہوگا یہ تو بات ہے جو کل خبر چلی ہے اس پر اصل بات مجھے تو بہت خوشی ہوگی اگر جھنگ کے وزیر سینر ایم این اے صاحبہ یا ایم پی اے صاحب فوری کام کروائے تو ابتک کی یہ حقیقت ہے اب آجائے منٹس میں کیا لکھا ہے جھنگ کی عوام کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے نمبر ون لاہور کالج برائے خواتین کا سب کیمپس کا الحاق لاہور کالج برائے خواتین سے ختم کرنے کی سفارش نمبر 2 سب کیمپس لاہور کالج برائے خواتین تبدیلی ہوگی جو سادہ کالج ہوگا نام ہوگا کالج آف آرٹ اینڈ ساہنس جھنگ بعنی لاہور کالج برائے خواتین کی شناخت ختم یعنی یہاں پواہنٹ کی بات ہے کہ اگر یونیورسٹی آف جھنگ اپنی جگہ پر بنتی گوجرہ روڈ تو یہ خواتین کالج برقرار رہتا اس کی اپنی شناخت ہوتی یہ بھی ہوتا اور یونیورسٹی بھی خیر اب ہم نے پنگا لے لیا ہے نمبر 3 یہ کالج پھر بنے گا constituent کالج بنے گا یونیورسٹی آف جھنگ کا جیسے جی سی فیصل آباد جی سی لاہور اگر یہی کام کرنا تھا پہلے گرلز کالج جھنگ صدر کے لیے بھی پرپوزل آئی تھی لیکن وہاں کی انتظامیہ ڈٹ گئی یونیورسٹی کا ابھی تک سٹیس وہی ہے غزالی کالج والا اس میں شاید یونیورسٹی آف جھنگ کا ذکر نہ ہے یہ کچھ یونیورسٹیز کا ایک constituent کالج ہوتا ہے جیسے میں نے اوپر ذکر کیا جی لاہور یا فیصل آباد جس کا فنڈ سب کچھ سیاہ و سفید کا مالک وی سی ہے جبکہ ایک Affliated کالج ہوتے ہیں جیسے گورنمنٹ کالج جھنگ یا ہمارے دوسرے کالج ہیں جن کا الحاق پنجاب یونیورسٹی یا ذکریا یا اسلامیہ سے ہے اگر یونیورسٹی آف جھنگ ہے تو پھر جھنگ کے ان کالجوں کو بھی اس سے الحاق ہونا چاہیے یہ تھی ابتک کی کاروائی جس کو نوٹیفیکشن کہا گیا کارکردگی ہماری یہ ہے کہ اس سال ہمارے سیاست دانوں کی حرکتوں کی وجہ سے فروری میں دس کروڑ واپس چلا گیا ہم نے کرونا کا بہانہ کہا اور کہا کہ اس بجٹ میں آ جائے گا آیا کتنا تین کروڑ یہ ہماری کارکردگی ہے حالانکہ یہ خواتین یونیورسٹی جھنگ کے لیے تحفہ تھی یہ بھی بن گئ اور سب مل کر یونیورسٹی کے لیے زیادہ سے زیادہ پیسہ لاتے اور بلڈنگ شروع کرواتے پچھلے دنوں جب میں نے ایشو اٹھا تو سب کو ہوش آیا اب ساری صورتحال سامنے ہے اصل۔میں جھنگ یونیورسٹی میں شروع سے جھوٹ منافقت ہے پہلے وی سی ڈاکٹر محمد علی شاہ تھے موجودہ خود کو پہلا لکھتے ہیں جو اخلاقی طور پر بھی مناسب نہ ہے ریکارڈ سامنے ہے اسی طرح ایک سینر ایم این اے کی چہیتی سینڈیکیٹ کی خاتون ممبر کی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ آج تک شاید ہی کسی اجلاس میں آئی ہو میری جھنگ کے سیاست دانوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل ہے کہ جھنگ نے آپ کو عزت دی ہے ذرا سوچیے












