لاہور میاں بیوی کی لڑائی میں لڑکا جاں بحق ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے بادامی باغ میں میاں بیوی کی لڑائی کے دوران 15 سالہ لڑکا قتل ہوگیا۔بتایا گیا ہے کہ میاں بیوی کی لڑائی ہو رہی تھی کہ اس دوران ملزم بابر نے اپنی بیوی کو اینٹ ماری۔جو سمیع اللہ نامی لڑکے کے سر میں جا لگی۔
پولیس کے مطابق اینٹ سر میں لگنے کے باعث سمیع اللہ کی موت واقع ہوگئی۔پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا جاری تھا کہ اس دوران ملزم طیش میں آگیا اور بیوی کو مارنے کی کوشش کی،تاہم اینٹ موقع پر موجود بد قسمت لڑکے کو جا لگی جس کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا، 15 سالہ سمیع اللہ کی لاش پوسٹ مارٹم کیلئے اسپتال منتقل کردی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

۔خیال رہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو لڑائی جھگڑے کے کیسز میں دن بدن اضافہ دیکھا جار ہا ہے، لاک ڈاؤن سٹارٹ ہونے سے اب تک گھریلو لڑائی جھگڑوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، ترجمان سیف سٹی کے مطابق ون فائیو پر لاک ڈاؤن سے بعد گھریلولڑائی جھگڑوں کے واقعات کی تعداداوسطا دوہزار سے بڑھ 3ہزار ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مہلک وباکی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیاہے، اس کااندازہ لاک ڈاؤن کے عرصے کے دوران سیف سٹیز کو ون فائیوپرموصول ہونے والی کالز سے لگایا جاسکتاہے۔ سیف سٹیز اتھارٹی کوشہریوں کی جانب سے کی گئی کالز کیریکارڈکے مطابق جنوری اور فروری کی نسبت گھریلو تشدد کے واقعات میں لاک ڈاؤن کے دوران تیس فیصد اضافہ دیکھنے میںیا، ریکارڈ کے مطابق جنوری میں گھریلوتشدد کے واقعات کی تعداددوہزارچھیانوے توفروری میں دوہزارتین سوساٹھ تھی اور لاک ڈاون کے بعدمارچ کے دوران گھریلوتشدد کے واقعات بڑھ کردوہزار آٹھ سوترپن ہوگئے۔
اپریل میں گھریلوتشدد کے واقعات تین ہزاراناسی تھے تومئی میں یہ تعداد بڑھ کر تین ہزارنوے ہوگئی ہے جبکہ رواں برس اب تک 13ہزارسے زائدکالزموصول ہوئی ہیں۔دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھی گھریلوتشددکے واقعات صرف پاکستان ہی نہیں دنیابھرمیں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلوتشددکے واقعات بڑھے ہیں۔