فیصل آباد ۔قومی زبان اردوکی بجائے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کی تجویز کو مستردکرتے ہیں۔ ملک کے تعلیمی اداروں میں یکساں، متفقہ نصاب تعلیم کا نفاذ ضروری ہے۔ قومی تعلیمی نصاب کو ہر صورت میں قومی نظریاتی امنگوں کا آئینہ دار اور قومی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے۔چیئر مین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی
فیصل آباد (سٹار نیوز آن لائن ) قومی زبان اردوکی بجائے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کی تجویز کو مستردکرتے ہیں۔ ملک کے تعلیمی اداروں میں یکساں، متفقہ نصاب تعلیم کا نفاذ ضروری ہے۔ قومی تعلیمی نصاب کو ہر صورت میں قومی نظریاتی امنگوں کا آئینہ دار اور قومی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے۔چیئر مین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کا جامعہ فاروقیہ، علامہ اقبال کالونی میں مرکزی علماء کونسل ڈویژن فیصل آباد کے عہدیداروں سے خطاب۔ اس موقع پر مرکزی علماء کونسل ڈویژن فیصل آباد کے صدر مولانا محمد اعظم فاروق، نائب صدور مولانا محمد صابر بٹ، مولانا کرم داد حذیفی، مولانا قاسم فاروقی، ڈویژنل سیکرٹری جنرل مولانا محمد عابد فاروقی، سیکرٹری اطلاعات ونشریات مولانا محمدعامر اشرف، سیکرٹری فنانس حاجی ثاقب بیگ، قانونی مشیر عصمت اللہ سندھو، قاری محمد عدیل بھی موجود تھے۔چیئر مین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے اس موقع پر کہا کہ ہم افسوس سے یہ بات کہنے پر مجبور ہیں کہ ایک نہایت بنیادی، قومی مسئلے پر حکومت کا رویہ عدم شفافیت اور بے جا راز داری میں ہے۔جس کی وجہ سے دینی طبقات کے خدشات کو تقویت مل رہی ہے۔ یکساں قومی نصاب کے نام پر حکومت اور وزارت تعلیم بیرونی قوتوں اور ان کے مقامی ایجنٹوں اور این جی اوز کے ساتھ ساز باز کرکے ملک کی آئندہ نسلوں پر اس کو نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اسلامیات کے نصاب کے ساتھ جنرل نالج اور معاشرتی علوم کا جو نصاب دیا گیا ہے وہ مکمل طور پر سیکولر ہے۔ قومی نصاب تعلیم میں لفظ اسلام کے استعمال سے مکمل پرہیز کیا گیا ہے۔ جبکہ ہماری حکومت ریاست مدینہ کا تصور پیش کررہی ہے۔ مگر نصاب سیکولر، لبرل اور ہیومنسٹ نظریہ حیات کا آئینہ دار ہے۔ پوری دنیا میں نصاب سازی کیلئے ایک وسیع البنیاد قومی کمیٹی بنائی جاتی ہے۔ جس میں عالم، سائنس دان، صنعتی ماہرین، مضامین کے اعلیٰ ماہرین، دانشور،شاعر، ادیب، ماہرین قانون اور مختلف علاقوں اور پس منظر کے حامل اساتذہ کرام اور نمائندے شامل کئے جاتے ہیں۔یکساں نصاب تعلیم کی نصاب سازی، درسی کتب کی تدریس اور نظام امتحان کو جدید تقاضوں کے ہم آہنگ کرنے کیلئے قرار دادمقاصد آئین کے آرٹیکل31اوردیگر دستوری شقوں کو سامنے رکھتے ہوئے، وسیع البنیاد نیشنل کریکولم کونسل بنائی جائے۔ جس میں محب وطن، محب اسلام اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ایجوکیشنل پروفیشنل علمائے کرام، تنظیمات مدارس دینیہ اور دانشور شامل ہوں۔اسی طرح نیشنل کریکولم پالیسی کو ایکٹ کی شکل میں پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے۔ نیا قومی نصاب اسلامی اقدار اور اسلامی اصولوں پر مبنی ہونا چاہئے اور اس کے مقاصد و اہداف واضح ہوں۔ اس کے ذریعے طلباء کو اچھا باعمل مسلمان بنایا جائے۔اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔ انگریزی کو بحیثیت زبان سیکھنے کی کلاسیں ہوں۔ مگر ابتدائی تعلیم اردو کے ساتھ ساتھ مادری زبانوں میں بھی دینے پر توجہ دی جائے۔ عربی زبان کو نصاب کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے کیونکہ یہ آئین کا تقاضا ہے۔ نصاب کو ایمانیات، عبادات، سیرت طیبہ، مشاہیر اسلام،اسلامی تہذیب اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنایا جائے۔ مرکزی علماء کونسل پاکستان نصاب تعلیم کے نام پر غیر ملکی ایجنڈے کو مسلط کرنے کے عزائم کو ناکام بنائے گی اور نصاب تعلیم کو اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان کے مطابق بنانے کیلئے ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی نگران کمیٹیوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔
رپورٹ محمد عمر فاروق
رابطہ نمبر0321-2694141
شعبہ نشر و اشاعت مرکزی علماء کونسل پاکستان













