حکومت مرتد کی شرعی سزا نافذ کر دیتی تو لوگ قانون کو ھاتھ میں لینے پر مجبور نہ ھوتے. چنیوٹ (نمائندہ خصوصی) امیر انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان و ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے پشاور کی عدالت میں مدعی نبوت کے قتل کے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ھمارے علماء مدت سے مطالبہ کرتے چلے آرھے ھیں اور اسلامی نظریاتی کونسل نے بہی بیسیوں سال پہلے سفارش کر دی تہی کہ مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے,اگر حکومت عملی طور پر مرتد کی شرعی سزا نافذ کر دے اور عوام کو یقین ھو کہ کسی مدعی نبوت کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ اس کا قلع قمع کر دیا جائیگا تو پشاور کی عدالت جیسے واقعات نہ ھونگے, جب قاضیوں کے ھاتھ باندھ جائیں تو پہر غازیوں کے ھاتہوں کو کون روکے گا, اب غازی خالد کو ٹہکانے لگانے میں بڑی جلدی دکہائی جائیگی کاش کہ یہ جلدی گستاخان رسالت کے فیصلے کرنے میں بہی کی جاتی. آج تک کسی گستاخی کرنے والے کو تو سزا نہ دی گئی بلکہ بڑے پروٹوکول کے ساتھ انہیں باھر بہیجوا دیا گیا لیکن جب کوئی عاشق رسول اپنے جذبات سے مغلوب ھو کر کوئی اقدام اٹھاتا ھے تو قانون فورا حرکت میں آجاتا ھے.












