عربی اور اردو
—————–
دین متین کو سیکھنے اور اسکی اچھی فہم کے لیے عربی زبان پر دسترس ہونا انتہائی ضروری اور ناگزیر ہے. بنا عربی جانے، قرآن و حدیث کا ترجمہ و تشریح اور مفہوم تو پڑھا جا سکتا ہے مگر اسکے حقائق، لطائف علمیہ اور روح تک پہنچنا محال ہے.!

بطور پاکستانی مسلمان، اللہ سبحانہ و تعالی نے ہمیں جن جن نعمتوں سے نوازا ہے ان میں ایک بہت بڑی نعمت لغت اردو ہے اور دین مبین تک رسائی کے لیے عربی زبان سے سب سے زیادہ مماثلت بھی ہماری زبان، اردو ہی کو ہے.!!

نیز کیا آپ جانتے ہیں کہ تقریبا 20 فیصد اردو کے الفاظ ہو بہو عربی میں مستعمل ہیں جبکہ مزید کم و بیش چالیس فیصد کلمات خفیف رد و بدل کیساتھ عربی میں بولے جاتے ہیں. یوں عربی اور اردو میں 60 فیصد تک مشابہت و یگانگت موجود ہے.!! اردو کے بعد مماثلت کا یہ درجہ دیگر زبانوں مثلا فارسی، ترکش، پشتو اور خود انگریزی زبان کو حاصل ہے..!!

لہذا دنیا بھر میں دین مبین کو سیکھنے کے لیے عربی زبان کو سیکھنا جتنا آسان ہم اردو دانوں کے لیے ہے اور کسی کے لیے نہیں.! بعینہ جتنی ذمے داری عربی زبان کے تعلم کی، بسبب آلہء دین، ہمارے کاندھوں پر ہے وہ بھی شاذ ہے کہ کل قیامت کو کوئی عذر نہ ہوگا بلکہ ہماری لغت، اردو، ہی ہمارے خلاف حجت ہوگی.!!

لہذا نعمت کبری، اردو، پر اللہ سبحانہ و تعالی کا عملی شکر بجا لاتے ہوۓ عربی زبان کو سیکھ کر قرآن و حدیث کو سمجھنے کا عزم فرمائیں اور ابھی سے اسکی تیاری پکڑیں.!!

والسلام
أحمد عبد الرحمن شاہ ایڈووکیٹ، اسلام آباد