سسکیوں کی سر زمین
{ اذان سحر }کالم نگار متین قیصر ندیم
لوگ کہتے ہیں کشمیر ہے جنت۔۔جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملےگی۔کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ،پاکستان کی شہ رگ مظلوموں کی سر زمین ،دنیا کا ایسا خوبصورت خطہ جو خون آلود ہے ،اقوام متحدہ کی منہ پر طمانچہ ہےایشیا کے امن وسکون پہ لٹکتی تلوار ،جنگی الارم اور دنیا کی تیسری جنگ عظیم کاپیش خیمہ ہے۔ایسا خطہ جو مرضی سے،آزادی سے اپنی منشاء ،اپنی مرضی کے مطابق اپنا حق استعمال نہی کر سکتا۔لاکھوں نوجوانوں کے خون کا قرض دار خطہ،تاتار ہوتی بہنوں کی رداوں کا مقروض گوشہ،ماؤں کی گود کو ویران کرنے والہ،عورتوں کو بیواؤں کی چادر میں پرونے والہ مقتل،کلمہ کی عملی تصویر ،قربانیوں کی کارزار گاہ،شہدائے کربلا ؓ کے حقیقی وارث،مہذب دنیا کی دوغلی سیاست اور مسلم کش قیادت کی سازشوں کی تجربہ گاہ جی ہاں میر واعظ کی جوانی،علی گیلانی کی بزرگی ،یاسین ملک کا لرزتا سراپہ،مشعال ملک کا امید افزا چہرہ ،برہان وانی کی للکار ،پاک فوج کی مدافعت اور ایل۔او سی کی خون ریزی کیا نہ کافی ہے ٹیپو سلطان ،محمد بن قاسم۔صلاح الدین ایوبی ،احمد شاہ ابدالی ،محمود غزنوی کے وارث کس بات کے منتظر ہیں ،بنیے کے ہاتھوں عزت لٹاتی بیٹیاں ،بہنیں تیرے ضمیر کو نہی جھنجوڑتیں ۔ماؤں کی اجتماعی آبرو ریزی تیری ایمانی غیرت کو جوش نہی دیتی ہائے مسلم دنیا کیا؟؟؟؟بن بیاہی مائیں ،ادھڑی لاشیں ،کٹی پھٹی نعش تارتار دوپٹے ،بکھری چوڑیاں ،کٹے بازو ،بغیر سر دھڑ ،بہتا لہو تیرے ضمیر کو جگاتا نہی ہے ۔تیرے شعور پہ دستک نہی دیتا آخر کیوں؟؟سسکیاں آہیں ،چیخیں تیرے فانی وجود کو لرزاتی کیوں نہی ؟؟یہ میرے رب کی آزمآئش ہے تیری میری پرکھ ہے اس کے جلال کو نہ للکارو۔کلمہ پڑھنا آزمائش ہے میری نبیﷺ کی سنت ہے سزا نہی ہے عرش والا جلال میں آگیا ۔طیش میں آگیا پھر فرش والوں کا اللہ ہی حافظ ہے اے مسلماں تیری آزمائش ہے تیری غیرت حمید کا امتحان ہے جاگ ذرا ہمت کر پھر دیکھ تیری مدد کو ملائکہ کی لائنیں لگ جائیں گی ۔بت خانے ،صنم خانے ،میکدے ،آتش کدے ملیا میٹ ہو جائیں گے لا الہ الا اللہ کی صدائیں ہر سو گونجیں گی میرے اللہ میرے کشمیری بھائیوں کی غائب سے مدد فرما ،میری بہن ،بیٹیوں اور ماؤں کی عزت وعصمت کو محفوظ فرما ،ابابیل بھیج ،غزوہ بدر والے فرشتے بھیج ہم کمزور ،لاغر مسلمان ہیں اپنے اباؤ اجداد کے نقلی وارث ہیں دنیا دار ہیں تیری رحمتوں ،نعمتوں ،عنایتوں اور معجزات کے منتظر ہیں کشمیری مسلمانوں کی مدد فرما ہماری کوتاہیوں ،لغزشوں کی سزا امت مسلمہ کو نہ دے ہماری توبہ قبول فرماتہذیب حافی کا شعر ہے ؎
اِسی لیے تو مِرا گاؤں دَوڑ میں ہارا
جو بھاگ سکتے تھے ، بیساکھیاں بنا رہے تھے
یہ اول دن سے لے کر آج تک کے کشمیر کی کہانی ہے!!
اللہ کرے اب کہانی کا رخ بدل جائے ؛ مسلمان عمائدین ، قائدین بیساکھیاں چھوڑ کر ” کشمیریوں کے لیے “ دوڑ دھوپ شروع کریں ۔
والسلام ۔محمد متین قیصر ندیم احمد پور سیال
To begin with, it is important that https://www.affordable-papers.net/ the article which you write is very well organized.







