بقا کا راز
{ اذان سحر }
کالم نگار متین قیصر ندیم
آج پھر جیسی ہے میں نے کچھ لکھنے کیلئے قلم اٹھایا ۔۔۔۔کچھ پل میں گنگ سا ہو گیا ہاتھوں پر لرزا طاری ہو گیا میری آہیں سسکیاں بڑھنے لگیں میں نے سر اپنی ماں کے قدموں میں رکھ دیا میرے خاموش بہتے آنسووں کی بوندا باندی سے میری ماں گھبرا کر آٹھی کیا ہوا؟ کیا نیند نہی آرہی ہے اوہ میرے خدا رو کیوں رہے ہو؟ بس میری ماں میرا غرور میرا تکبر ۔۔ہجرت (بھگی) کی رات بے چین کررہی تھی اداسی بڑھی دل بہلانے کیلئے قلم اٹھایا بس آنسو آ گئے کچھ سناو ایسی یادیں جو میرا ضمیر مرنے نہ دیں جو آزادی کا مقصد بھولنے نہ دیں بیٹے دل کو غمگین کرو گے پرانے ان سلے ادھڑے زخموں کو تازوکرو گے سنسان رات گہرا اندھیرا ہو کا عالم بھوکے پیاسے بچے ،ڈری سہمی بچیاں خطروں سے سہمے بوڑھے ماں باپ سارا قیمتی سازوسامان چھوڑ کر اپنے گھروں سے چوروں کی طرح نکلے حال سے بے حال مستقبل سے انجان اپنے نئے گھر نئے مقصد کیلئے نکل پڑے دشمن سے بے خبر تھے مگر چالاک مکار دشمن با خبر تھا گھات میں تھا موقع کی تلاش میں تھا جیسے ہی منزل کے راہی بنے چاروں طرف سے شور و غل کی آوازیں سماعتوں سے ٹکرانے لگیں چیخ و پکار کی صدائیں رات کے سناٹے کو گھمبیر بنانے لگیں خدا کا نام لیکر چل پڑے راستے میں بلوائیوں نے حملہ کردیا آوازوں سے پتہ چلا اور بہت سے قافلے خاموشی سے چھپ کر چل رہے تھے بچوں کے ڈرنے کی رونے کی میری بہن بیٹیوں کے چیخنے کی آوازیں ماوں کی جھولی اٹھا کر آسمان والےکو واسطوں کی دعائیں عرش کو ہلانے لگیں زمین لرزنے لگی جوان بھائیوں کے لاشے تڑپنے لگے بہن کی عزت بچاتے کئی شیر دل سپوت ہاتھوں سے محروم ہو گئے سینے چھلنی ہو گئے بہت سے بیٹے بیٹیوں کی رداوں کو بچاتے جاں سے گئے غنڈوں نے معصوم بچوں کو نیزوں سے برچھوں سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا میری قوم کی مائیں بچوں کی جان بچاتی تلواروں اور گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہو گئیں جان سے گئیں مگر تاریخ کے مورخ کو بھل بھلیوں میں الجھا گئیں اس رات ہزاروں قافلے محو سفر تھے مگر میری قوم کے بھٹکے ہوۓنوجوانوں تاریخ کے اوراق پلٹو خدا کی قسم آنکھیں رو رو کر بے جان ہو جائیں گی دل پھٹ کر لوتھڑوں میں بدل جاۓگا رداوں سے چادروں سے زمین بھر گئی بیواوں کی چوڑیوں سے کئی برس زمین پر فصل نہ ہو سکی کٹے بازوں سے ادھ کٹے بچوں سے ماوں نے کئی مسافتیں طے کیں بارہ انسان رخت سفر میں تھے منزل پر صرف دو صرف ایک پہنچے راستوں میں پانی ملا زہر ملا کھانا ملا گلا سڑا مگر منزل کا جنون کم نہ ہوا بڑھتا گیا میری قوم کے بے خبر جوانوں ہزاروں معصوم بہن بیٹیوں کی عزتیں تار تار کروا کر ،ہزاروں شیر دل جوان ،ہزاروں کڑیل نوجوان قربان کرکے منزل کو پہنچے صبح کے وقت آسمان نے ایسا منظر اور زمین نے ایسا نظارہ پہلی بار دیکھا ہزاروں کٹے سر ،ہزاروں تارتار بچیاں ،ہزاروں نیزوں برچھوں سے ٹکرے ہوۓ بچے زمین پر گدھوں کی خوراک بنتے دیکھے ۔بے گوروکفن لاشے ٹرینوں سے کٹ کٹ کر گرتے دیکھے پانی کے تالابوں میں ،جوہڑوں کے آس پاس لاشوں کے ڈھیر دشمن کی چالاکی اور عیاری کی کہانی سنا رہے تھے خدا کی قسم مورخ بھی تاریخ لکھتے ہوۓ رویا ہوگا میں رو کر سسکیاں لے کر آنکھوں میں آنسو لیے اپنے کمرے میں لکھنے بیٹھا تو قلم سے خون ٹپک رہا تھا میرے دوستوں بھا ئیوں آپ بھول چکے مملکت خدا داد کیسے معرض وجود میں آئی طویل قربانیوں اور صعوبتوں بھری جدوجہد کے بعد پاکسنان دنیا کے نقشے پر ابھرا ۔۔اسلام اور اسلامی عقائد کی بنیادپر تعمیر اس دھرتی کے دامن میں کیسے کیسے ارمان جان کی بازی سے گئے ہم بطور قوم اپنے مقصد سے ہٹ گئے ہیں اپنے اباو اجدا د کی جانی مالی قربانیوں کو فراموش کر چکے ہیں آزادی کی لکیر خون کی لکیر ہے 1947 کی بھیانک رات کا سفر ہجر المناک کہانیوں کا تسلسل ہے تاريخ کی کتب برصغیر کی تقسیم پر ہوئی خانہ جنگی ،قتل و غارت ،ظلم و بربریت پر لکھ لکھ کر قلم گنوا چکے ہیں شکر آلحمد لللہ میرا حسب نسب کا تعلق ،میرے شجرے کا کونہ مہاجر اور ہجرت کی نسبت سے مزین ہے جوکہ میرے آخری نبی فخر الرسل سردار الانبیا ء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے میرا یہ فخر ہے میرا مقصد آپ کےضمیر کو جھنجوڑنا ہے آپ پاکستان کو آباو اجداد کی نشانی اور قربانیوں کا مرکز سمجھیں ۔۔
والسلام ۔محمد متین قیصر ندیم احمد پور سیال







