ڈاکٹر راحت اندوری فن اور شخصیت
تحریر، تحقیق، ترتیب : فائق تُرابی (جنرل سیکرٹری بہارِ نَو)

ڈاکٹر راحت قریشی متخلص بہ راحت اندوری یکم جنوری 1950ء کو اندور، مدھیہ پردیش، بھارت میں پیدا ہوئے – آپ کے والد رفعت اللہ قریشی کپڑے کی صنعت میں کارکن تھے – راحت اندوری والدین کی چوتھی اولاد تھے – نٹن سکول اندور سے ہائیر سیکنڈری تعلیم مکمل کی – اسلامیہ کالج اندور سے 1973ء میں گریجویشن کرنے کے بعد 1975ء میں برکات اللہ یونیورسٹی بھوپال سے اردو ادبیات میں ماسٹرز کیا – 1985ء میں بھوج یونیورسٹی مدھیہ پردیش نے آپ کو مقالہ بہ عنوان “اردو میں مشاعرہ” پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری ایوارڈ کی -آپ نے معروف بالی وڈ گیت نگار، بے باک شاعر اور ماہرِ تعلیم کے طور پر شہرت پائی – اردو زبان کے سابق پروفیسر اور مصور بھی تھے لیکن بین الاقوامی اردو مشاعرے آپ کی اصل پہچان بنے – گزشتہ 45 سال سے بین الاقوامی مشاعروں میں شرکت کے سبب سے مصروفِ سفر رہتے – ہندوستان بھر کے مشاعروں کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، عرب امارات، آسٹریلیا، کینیڈا، سنگاپور، قطر، بحرین، عمان، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال وغیرہ کے مشاعروں کی جان ہوتے تھے-
بھارت کے معروف کامیڈی شو “دی کپل شرما شو” میں دو بار بلائے گئے – جہاں اُنہوں نے اپنے افکار اور سیاسی نظریات کا پرچار شاعری کے پیرائے میں کیا – آپ کو “سب ٹی وی” کے پروگرام “واہ وا کیا بات ہے” میں بھی مدعو کیا گیا – جدید سوشل میڈیا پر نوجوان ادب پسند اور رومان پرست طبقے کے دلوں کی دھڑکن تھے – ٹک ٹاک، انسٹا گرام، ٹویٹر اور فیس بُک پر آپ کے کروڑوں مداحین موجود ہیں –
10 اگست 2020ء کو آپ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا – آربندو ہسپتال اندور میں زیرِ علاج رہے – کورونا پازیٹو آنے کے بعد آپ نے اپنے ٹویٹ میں لکھا : “کوویڈ کی شروعاتی علامتیں نظر آنے کے بعد کل میرا کورونا ٹیسٹ کیا گیا جس کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے۔ آربندو اسپتال میں ایڈمٹ ہوں، دعا کیجیے جلد سے جلد اس بیماری کو شکست دے دوں-”
ڈاکٹر راحت اندوری نے اپنی شاعری کے ذریعے مقتدر طبقے کی بے راہ روی پر دبنگ لہجے میں تنقید کی – اصلاح کےلیے تجاویز پیش کیں – ہندوستان کے مسلمانوں کی حق سلبی برداشت نہیں کر پاتے تھے – کہیں ظلم ہوتا دیکھتے تو بلاتخصیص مذہب و قوم حق کی آواز بلند کرتے – آپ کی آواز میں للکار ہوتی – مشاعروں کے منچ سے سیاسی منظر نامے پر بے لاگ شاعرانہ تبصرہ کرتے – زبان و بیان ایسا سلیس اور طلسماتی کہ عوام و خواص لطف اندوز ہوتے – خیال آفرینی کا ملکہ حاصل تھا – جدید غزل کے تقاضے آپ کی غزل میں بدرجہ کمال پورے ہوتے دکھائی دیتے ہیں – حبیب جالب کے معنوی شاگرد تھے – ان کا کلام ادبی محفلوں سے ہوتا ہوا براہ راست ملک کے ایوانوں تک پہنچتا، اُن کی زبان سے نکلا ہوا لفظ لفظ عوام کا ترجمان ہوا کرتا تھا ۔ مشرف عالم ذوقی لکھتے ہیں :
“وہ مشاعروں میں قہقہہ لگاتے ہوئے حکومت کو چیلنج کرتا تھا- اس کا قہقہہ مشہور تھا- سیاہ چہرے پر طنز کی بجلیاں کوندتیں، اس کی مسکراہٹ سے ہزاروں تیر برستے اور کروڑوں لہو لہان ہو جاتے – ایوانِ سیاست میں اس کے نام سے زلزلہ آ جاتا تھا – جب وہ کہتا تھا:
” تمہارے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے”
اور اتنا کہہ کر وہ تیز قہقہہ لگاتا جیسے حکمرانوں کو تنبیہ کر رہا ہو کہ سنبھل جاؤ – ہم بھی کسی آندھی، کسی طوفان سے کم نہیں -”
مزید لکھتے ہیں :
” منور رانا اور راحت اندوری جیسوں کی آواز پوری دنیا کو ہلا دینے کی طاقت رکھتی ہے – وہ گونگا نہیں تھا ، بولنا جانتا تھا- وہ اپنی قیمت پہچانتا تھا – وہ جنگجو تھا – جب ضرورت ہوتی ، وہ بیدار کرنے آ جاتا”
آپ کی شاعری میں سیاسی اور معاشرتی رنگ کی لہر سب سے نمایاں ہے – ملاحظہ ہو :

بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر
جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں

مَیں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگ
گیلی زمین کھـود کے فــرہاد ہو گئے

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے
کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو
آسماں لائے ہو، لے آؤ، زمیں پر رکھ دو
اب کہاں ڈھونڈتے پھرتے ہو ہمارے قاتل
آپ تو قتل کا الزام ہمیں پر رکھ دو

ہے میرے چاروں طرف بھیڑ گونگے بہروں کی
کسے خطیب بناؤں کسے خطاب کروں

اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے
چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے
سلیقہ جن کو سکھایا تھا ہم نے چلنے کا
وہ لوگ آج ہمیں دائیں بائیں کرنے لگے

یہ لوگ پاؤں نہیں ذہن سے اپاہج ہیں
ادھر چلیں گے جدھر رہ نما چلاتا ہے

امیرِ شہر کے کچھ کاروبار یاد آئے
میں رات سوچ رہا تھا حرام کیا کیا ہے؟

ایمانیات کے حوالے سے ڈاکٹر راحت اندوری کا شعور بہت پختہ تھا – عشقِ رسول کا چراغ دل کے طاق پر روشن تھا – جس کی روشنی میں حق کا راستہ تلاش کرنے میں سہولت حاصل کرتے – آپ کی نعتیہ شاعری بھی انفراد رکھتی ہے – دنیاوی مقتدر وڈیروں کو للکارنے والا راحت اندوری جب دربارِ نبی میں حاضر ہوتا تو سراپا فقر و انکسار نظر آتا ہے –

مرے اندر سے ایک ایک کرکے سب کچھ ہوگیا رخصت
مگر اندر جو باقی ہے اسے ایمان کہتے ہیں

اے خدا! پھر یہ عذاب اور ستم کس کے ہیں
تُو تو اس بات سے واقف ہے کہ ہم کس کے ہیں
آج جب نامِ نبیﷺ لکھا تو اندازہ ہوا
لفظ کیوں پیدا ہوئے لوح و قلم کس کے ہیں

زمزم و کوثر و تسنیم نہیں لکھ سکتا
یہ قلم آپ کی تعظیم نہیں لکھ سکتا
شاعری کے کئی دیوان لکھے ہیں لیکن
آپ کے نام کی اک میم نہیں لکھ سکتا

تمام ذرے ستارہ صفت نہ ہو جاتے
یہ خاک حاصلِ کون و مکاں نہ ہو جاتی
اگر حضور کا سایہ زمیں پہ پڑ جاتا
تو یہ زمین بھی آسماں نہ ہو جاتی

بند آنکھیں ہیں چار سو ہیں آپ
اس اجالے کی آبرو ہیں آپ
نعت پڑھتا ہوں اور لرزتا ہوں
ایسا لگتا ہے روبرو ہیں آپ

اگر نصیب قریبِ در نبیؐ ہوجائے
میری حیات مری عمر سے بڑی ہوجائے
اندھیرے پاؤں نہ پھیلا سکیں زمانے میں
درود پڑھیے کہ ہر سمت روشنی ہوجائے

راحت اندوری نے نگارِ غزل کی پلکیں بھی سنواری ہیں – لیلائے روایت کی زلفوں سے خوشبو کشید کرتے ہوئے، جدید سخن کاری میں اپنا انفراد برقرار رکھا – غزل کا جو روایتی تعارف ہے، ڈاکٹر راحت اندوری نے اُس کا بھرم بھی رکھا – رومان پرور فضاؤں میں گُل و بلبل کے الاپ بھی چھیڑے – کسی پھول سے چہرے کو باغ میں لے گئے اور بلبلِ بے تاب سے تقابلی گفتگو کرتے ہوئے حظ بھی اٹھایا – یہی شاعری نوجوان نسل میں بہت مقبول ہوئی – وہ باذوق طبقہ بھی جو ادب تخلیق نہیں کرتا، راحت اندوری کا اسیر ہے – بہت سے پریمیوں کی زبانوں کو اظہار کا ڈھنگ راحت اندوری کے شعروں نے سکھایا –

اس کی یاد آتی ہےسانسو! زرا آہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل آتا ہے

مَیں آخـر کـون سا مـوسم تمہارے نام کر دیتا
یہاں ہر ایک موسم کو گزر جانے کی جلدی ہے

اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے
عمـر گزری ہے ترے شہر میں آتےجاتے

گلاب، خواب، دوا، زہر، جام کیا کیا ہے؟
میں آ گیا ہوں، بتا انتظام کیا کیا ہے؟
میں تم کو دیکھ کے ہر کام بھول جاتا ہوں
تمہی بتاؤ مجھے تم سے کام کیا کیا ہے؟

جب سے تُو نے ہلکی ہلکی باتیں کیں
یار، طبیعت بھاری بھاری رہتی ہے

بس اک شراب کی بوتل دبوچ رکھی ہے
تجھے بھلانے کی ترکیب سوچ رکھی ہے

زباں تو کھول، نظر تو ملا، جواب تو دے
مَیں کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے
ترے بدن کی لکھاوٹ میں ہے اتار چڑھاؤ
میں تجھ کو کیسے پڑھوں گا مجھے کتاب تو دے

عشق میں جیت کے آنے کےلیے کافی ہوں
میں اکیلا ہی زمانے کےلیے کافی ہوں
ہر حقیقت کو مری، خواب سمجھنے والے
میں تری نیند اڑانے کےلیے کافی ہوں

سلا چکی تھی یہ دنیا تھپک تھپک کے مجھے
جگا دیا تری پازیب نے کھنک کے مجھے
کوئی بتائے کہ میں اس کا کیا علاج کروں؟
پریشاں کرتا ہے یہ دل دھڑک دھڑک کے مجھے
تعلقات میں کیسے دراڑ پڑتی ہے؟
بتا دیا کسی کم ظرف نے چھلک کے مجھے

مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں میں بھی دنیا کو
سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دوں گا اسے

آج راحت اندوری اُس حقیقت کا سامنا کر گئے جس کا انکار منکرینِ خدا بھی نہیں کر سکتے – اردو شاعری میں موت ایک اہم موضوع رہا ہے – چاہے صوفیانہ شاعری ہو کہ فلسفیانہ، رومانوی ہو کہ انقلابی – موت کا ذکر ملتا ہے – راحت اندوری کے ہاں اس ازلی ابدی حقیقت پر سیکڑوں شعر مل جائیں گے – جو مختلف الجہات ہیں :

دو گز سہی مگر یہ مری ملکیت تو ہے
اے موت! تُو نے مجھ کو زمیں دار کر دیا

ارادہ تھا کہ مَیں کچھ دیر طُوفاں کا مزا لیتا
مگر بے چـارے دریا کو اُتر جـانے کی جلدی ہے

ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو
دوستانہ زندگی سے، موت سے یاری رکھو

یہ سانحہ تو کسی دن گزرنے والا تھا
میں بچ بھی جاتا تو اک روز مرنے والا تھا

جو آج صاحبِ مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرایے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے

گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے
اب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہے

آتے جاتے پل یہ کہتے ہیں ہمارے کان میں
کوچ کا اعلان ہونے کو ہے تیاری رکھو

گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے
اب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہے
جسم سے ساتھ نبھانے کی مت امید رکھو
اس مسافر کو تو رستے میں ٹھہر جانا ہے
موت لمحے کی صدا زندگی عمروں کی پکار
میں یہی سوچ کے زندہ ہوں کہ مر جانا ہے
نشہ ایسا تھا کہ میخانے کو دُنیا سمجھا
ہوش آیا، تو خیال آیا کہ گھر جانا ہے
میرے جذبے کی بڑی قدر ہے لوگوں میں مگر
میرے جذبے کو مرے ساتھ ہی مر جانا ہے

شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا
کچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیا
دروازوں نے اپنی آنکھیں نم کر لیں
دیواروں نے اپنا سینہ تان لیا
پیاس تو اپنی سات سمندر جیسی تھی
ناحق ہم نے بارش کا احسان لیا
میں نے تلووں سے باندھی تھی چھاؤں مگر
شاید مجھ کو سورج نے پہچان لیا
کتنے سکھ سے دھرتی اوڑھ کے سوئے ہیں
ہم نے اپنی ماں کا کہنا مان لیا

آپ کی اردو اور ہندی تصانیف میں “رُت بدل گئی” ، “میرے بعد” ، “دھوپ بہت ہے” ، “چاند پاگل ہے” ، “ناراض ناراض” ، “پانچواں درویش” ، “موجود”، “جنتر منتر” وغیرہ شامل ہیں – بہت سی مقبول بالی وڈ فلموں کے گیت ڈاکٹر راحت اندوری کے لکھے ہوئے ہیں – آپ نے اردو، ہندی شعر و ادب اور فلم انڈسٹری کو بہت ثروت مند کیا – آپ کے جانے سے اردو شاعری کا ایک منفرد باب بند ہوا – دنیا میں شہرت اور کامیابی کی بلندیوں کو چھوتے رہے، دعا ہے باری تعالٰی اگلی منازل بھی آسان فرمائے –

تمام ریشمی عظمت امین میری ہے
تمہارے بازو پہ یہ آستین میری ہے
پتا نہیں مری جاگیریں کیا ہوئیں لیکن
یہاں میں دفن ہوں اتنی زمین میری ہے
ڈاکٹر راحت اندوری