اردو زبان کے معروف شاعر راحت اندوری 70 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔
معروف شاعر راحت اندوری گزشتہ دنوں کرونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے جس کے بعد انہوں اندور کے اسپتال میں زیر علاج تھے ۔
دوران علاج انہیں دو بار دل کا دورہ پڑا جس کے باعث وہ زندگی کی بازی ہار گئے ۔
مخصوص اور منفرد لب و لہجے میں کلام پیش کرنے والے راحت اندوری حالات حاضرہ پر بہترین اشعار پڑھا کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ کئی مرتبہ معتوب بھی قرار دیے گئے۔
گزشتہ دنوں ممتاز شاعر نے اپنے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی اطلاع از خود سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پہ دی تھی۔ وہ دل کے عارضے، گردوں کی تکلیف اور ذیابیطس (شوگر) کے بھی مریض تھے۔
یکم جنوری 1950 کو بھارت میں پیدا ہونے والے راحت اندوری پیشے کے اعتبار سے اردو ادب کے پروفیسر رہ چکے بعد ازاں آپ نے کئی بھارتی ٹی وی شوز میں بھی حصہ لیا۔
انہوں نے فلموں کے لیے نغمے لکھے اور بحیثیت مصور بھی خود کو روشناس کرایا لیکن بطور شاعر وہ اس قدر مقبول ہوئے کہ ان کی دوسری شناخت اپنی حیثیت نہیں منوا سکی۔ مرحوم درس و تدریس سے وابستہ تھے
منفرد لب و لہجہ کے شاعر۔۔راحت اندوری کی داستان حیات۔۔۔سٹارنیوزپر
515












