سعودی عرب سے تعلقات پاک فوج کی نظر میں

{ منیارہ نور }
کالم نگار نوید مسعود ہاشمی

آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار میڈیا سے گفتگو۔۔۔ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”پاکستانیوں کے دل سعودی عرب کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہمیں برادر ملک کے ساتھ تعلق پر فخر ہے۔۔۔ کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، نہ ہی اس حوالے سے سوال اٹھانے کی ضرورت ہے، ہمارے بہترین تعلقات ہیں اور رہیں گے، آرمی چیف طے شدہ پروگرام کے تحت سعودی عرب جارہے ہیں۔”
یاد رہے کہ آمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ16 اگست کو ریاض پہنچیں گے، پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق، یہ دورہ پہلے سے طے شدہ اور بنیادی طور پر فوجی امور پر مبنی ہوگا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے حوالے سے جو تنقیدی بیان جاری کیا تھا۔۔۔ اس کے بعد سے پاک سعودی دوستانہ تعلقات کو ”حاسدانہ” نظروں سے دیکھنے والے فرقہ پرست گروہ اور ان کے حامی۔۔۔ الحاد پرستوں کی چاندی ہوگئی تھی ، پاک سعودی برادرانہ تعلقات پر یوں انگلیاں اٹھائی جارہی تھیں … جیسے پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے لے کر مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک … میں اصل رکاوٹ پاک سعودی تعلقات ہی ہوں?
سعودی عرب اور پاکستان کی دوستی سے جلنے والوں کو کوئی بتائے کہ ”کشمیر” کی فتح میں مرکزی کردار پاکستان کو اداکرنا ہے … پاکستان کے حکمرانوں کی کشمیر پالیسی کے ڈھیلے پن نے تو کشمیریوں کو بھی خون کے… آنسو رونے پر مجبور کر دیاہے، اگر سعودی عرب یا کوئی دوسرا ملک کشمیر کے حوالے سے سستی کا مظاہرہ کررہا ہے… تو یہ بھی شاہ محمود قریشی کی ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔
آپ جب اپنا جہاز سعودی ائیرپورٹ پر چھوڑ کر شاہی جہاز پر امریکہ جائیں گے تو پھر یہ ذمہ داری بھی آپ کی بنتی ہے کہ آپ انہیں مسئلہ کشمیر کی اہمیت سے بھی آگاہ کریں ، ترکی ایک اسلامی ملک اور طیب اردگان کا بے حد احترام، مگر ترکی ہمیں ”ارطغرل” ڈرامہ کے علاوہ اور کیا دے سکتا ہے؟
اگر آپ کو تاریخی اسلامی کرداروں پر ڈرامے دیکھنے کا اتنا ہی شوق ہے تو محمود غزنوی، محمد بن قاسم پر خود بھی دو چار سو قسطوں پر مشتمل ڈرامے تیار کرکے عوام کو دکھائیں۔
پاکستان کے نصاب تعلیم سے تو محمد بن قاسم ، طارق بن زیاد کو نکالا جارہا ہے، لاہور میں تو راجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب کیا گیا، لیکن ترکی کے ڈرامے کو پاکستان میں جس زور و شور سے دکھایا جارہا ہے، کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ حب علی نہیں بلکہ بغض معاویہ میں کیا جارہا ہے۔
مندرجہ بالا ساری بحث کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آخر غلطی کہاں پر ہے؟ آج اگر پاکستان کی معیشت کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے… تو یہ سعودی عرب نے تو نہیں کیا؟ ملکی خزانے کو چونا لگاکر بیرون ملک جائیدادیں بنانے والے اور ان کا راتب خور میڈیا… پاکستانی معیشت کو برباد کرنے کا برابر ذمہ دار ہے ۔
یہ کہنا بھی بالکل غلط ہے کہ مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب پاکستان کی حمایت نہیں کرتا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سال2019 ء جب ہندوستان اور پاکستان کے… درمیان کشیدگی انتہائوں کو چھو رہی تھی … خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سعودی عرب کے وزیرخاجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو پاکستان کی حمایت اور اظہار یکجہتی کے لئے… اسلام آباد بھیجا، جس کے بعد4 مارچ2019 ء کو اس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا یہ بیان اخبارات کی زینت بنا کہ ”سعودی عرب نے پاکستان اور بھار ت کے درمیان فوجی کشیدگی کم کرنے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔”
اگست2019 ء میں جب بھارت نے کشمیر کی آئینی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا… تو وزیراعظم عمران خان نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو فون کرکے خطے کی۔۔۔ صورتحال سے آگاہ کیا۔
اگست2019 ء میں ہی سعودی وزارت خارجہ نے جموں و کشمیر کے لئے خودمختاری کی ضمانت دینے والے آئین کے آرٹیکل370 کومنسوخ کرنے کے ہندوستان کے۔۔۔ فیصلے پر تبصرہ کیا اور خطے کی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا اور خطے کے۔۔۔ باشندوں کے مفادا ت کو مدنظر رکھنے پر زور دیا۔
ستمبر2019 ء میں جب بھارت اور پاکستان میں تنائو اور کشیدگی کو عروج ملا تو سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ۔۔۔ اسلام آباد پہنچے اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان سمیت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقاتیں کیں تھیں۔
اگر اس قسم کے حقائق لکھے جائیں تو پوری۔۔۔ کتاب بن سکتی ہے، لیکن جنہوں نے نہ ماننے کی قسم کھا رکھی ہو… انہیں پاک سعودی تعلقات کی افادیت و اہمیت سمجھائی بھی کیسے جاسکتی ہے؟
تحریک انصاف کی حکومت نے ایک کروڑ پاکستانیوں کو نوکریاں دینے کا اعلان کیا تھا … اس اعلان کے مطابق انہوں نے اب تک کتنے بے روزگار پاکستانیوں کو نوکریاں دیں … یہ تو کوئی نہیں جانتا۔۔۔ لیکن شاہ محمود قریشی جیسے وزراء جاتے جاتے کہیں۔۔۔ ان30 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے روزگار پر بھی لات نہ مار جائیں۔۔۔ کہ جو سعودی عرب سے سالانہ ساڑھے چار ارب ترسیلات زر کی مد میں پاکستانی معیشت کو سہارا دیتے ہیں، یہ خاکسار اکثر اپنے کالموں میں لکھتا رہتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کوئی ”کچا دھاگہ” نہیں کہ جو فرقہ پرست پروپیگنڈہ برگیڈ کے جھوٹے پروپیگنڈے سے ٹوٹ جائے گا … بلکہ پاک سعودی تعلقات عوام کے دلوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
سعودی عرب کے عوام ہوں یا پاکستان کے عوام۔۔۔ دونوں طرف کے عوام میں محبتوں کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے، سعودی عرب نے اگر قرضے میں دی ہوئی رقم میں سے کچھ واپس لے لی تو اس میں چیخنے کی کو ن سی بات ہے؟ پاک سعودی تعلقات کے دشمنوں کو پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کے اس بیان سے سبق حاصل کرکے۔۔۔ جھوٹے پروپیگنڈے سے توبہ تائب ہو جانا چاہیے کہ جس میں وہ کہتے ہیں کہ ”پاکستانیوں کے دل سعودی عرب کے ساتھ دھڑکتے ہیں” یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ پاکستانی قوم ایک عظیم قوم ہے ۔۔۔اور عظیم قوم کبھی بھی احسان فراموش نہیں ہوا کرتی۔ (وما توفیقی الا باللہ)