یوم دفاع پاکستان۔6 ستمبر 2020ء
وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان کا پیغام
پاکستان کی تابناک تاریخ میں 6 ستمبر کا دن ہماری بہادرمسلح افواج کی جرأت، عزم صمیم اورایثارو قربانی کے بے مثال جذبے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 55 سال قبل اس دن ہماری پاک فوج کے افسران، سپاہیوں، بحریہ کے جوانوں اور فضائیہ کے شاہینوں نے غیورپاکستانی قوم کے شانہ بشانہ دنیا پر ثابت کیا کہ وہ ہر قیمت پر مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ قوم اور مسلح افواج نے ثابت کیا کہ حجم اہمیت نہیں رکھتابلکہ یہ وہ جذبہ، ولولہ اور جرأت و بہادری ہوتی ہے جو سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
بھارت نے 370 اور 35 اے کی شقوں کو ختم کرکے نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ بے گناہ کشمیریوں پر دہشت اور خوف کاراج مسلط کر رکھا ہے۔ بھارت لائن آف کنٹرول پر بھی جارحانہ طرز عمل کا مظاہرہ کر رہا ہے اور ان اشتعال انگیزیوں کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم سے ہٹانا ہے۔
پاکستان امن کا علمبردار ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ دنیا کو ادراک کرنا چاہئے کہ ہماری امن کی خواہش جنوبی ایشیاء کے عوام کی اقتصادی بہبود اور خوشحالی کیلئے ہے، ہمیں امن کی خاطر اور آئندہ نسلوں کے تابناک مستقبل کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری پرعزم قوم اور پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ملک کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور کسی بھی قسم کی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔
6 ستمبر کے اس موقع پر آئیے ہم سب اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس عزم کی تجدید کریں کہ اسی جذبے،عزم و استقلال ، بے مثال جرأت اور ناقابل تسخیر جذبے کے ساتھ پاکستان کے دفاع، اس کی سلامتی اور خودمختاری کا ہر قیمت پرتحفظ کریں گے جس کا مظاہرہ 1965ء کی جنگ کے شہداء اور غازیوں نے کیا تھا












