گزشتہ روز مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ لاہور’ کے زیر اہتمام “نفاذ اردو میں حائل عدالتی روکاوٹیں” کے عنوان پر سابق بیوروکریٹ’ دانشور’ کالم نگار’ ادیب اوریا مقبول جان نے بہت فکر انگیز خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر زریعہ تعلیم اردو کیا جائے’ مقابلے کے امتحان اردو میں منعقد کئے جائے۔ عسکری اداروں میں تمام مراسلت اردو میں کی جائے۔ اوریا صاحب نے کہا کہ پاکستان میں انگریزی کا تسلط خود انگریزوں کے دور میں اتنا نہیں تھا جتنا گزشتہ چالیس سال میں ہوا ہےاس تسلط کا مجرم بیکن ہاؤس ہے۔ان اداروں نے پاکستان میں علم کو تجارت اور منڈی بنادیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی طلباء انگریزی کے تسلط کی وجہ سے تخلیقیت سے عاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں اپنے ہم عصر بیوروکریٹ میں واحد ٹاٹ سکول کا پڑھا ہوا تھا۔ میں صرف اس لئے بیوروکریسی میں پہنچا کہ مجھے مطالعے کا شوق تھا۔اگر مقابلے کا امتحان اردو میں
ہوتا تو سو فیصد ٹاٹ سکولوں کے طلباء پاکستان کی بیوروکریسی میں شامل ہوتے۔انہوں نے بیوروکریسی کی منافقت اور غلامی کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ چیف سیکرٹری تک کے تمام اجلاس کی کاروائی اردو میں ہوتی ہے لیکن اس کے منٹ انگریزی میں لکھے جاتے ہیں! یہی حال عدالتوں کا بھی ہے۔ تمام عدالتی کارروائی اردو’ پنجابی’ سندھی’:بلوچی وغیرہ میں ہوتی ہے لیکن جج کاروائی انتہائی غلط سلط انگریزی میں لکھتا ہے۔ اوریا صاحب نے مذید کہا کہ وزیراعظم نے اپنے اقتدار میں انے سے پہلے بار بار اردو نافذ کرنے کا کہا۔ اب وقت ہے کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کریں۔ اپنے اردو گرد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود جیسے انگریزی کے غلاموں کا محاسبہ کریں۔جو خود نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد میں سب سے بڑی روکاوٹ ہیں۔وزیراعظم آج مقابلے کا امتحان اردو میں لینےکا اعلان کریں۔ اگلے روز ہی مقابلے کے امتحان سے متعلقہ کتابیں مارکیٹ میں آجائیں گی۔ بیکن ہاؤس سکول اردوکی تعلیم و تدریس میں سب سے آگے ہوگا! ابھی ان اداروں کامال انگریزی کے نام پر بک رہا ہے۔پھر یہی اردو زریعہ تعلیم کے سب سے بڑے مبلغ ہونگے۔ انہوں نے مذید کہا کہ نفاذ اردو کا وکیل ہونے کی وجہ سے لمز سمیت چودہ ادارے مجھ پر تقریر کی پابندی لگا چکے ہیں۔”
اتنا خوبصورت مذاکراہ کا انعقاد کرنے پر ظفر علی خان ٹرسٹ کے چیئرمین خالدمحمود’ڈاکٹر شفیق جالندھری’ رووف طاہر اور تاثیر مصطفی’ لائق تحسین ہیں۔ محترم رووف طاہر نے کہا کہ ہماری اج کی نشست
“یوم قومی زبان” ہی کی تقریب کا تسلسل ہے۔ اج کی تقریب میں شرکاء کی تعداد معمول سے بڑھ کر تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام میں نفاذ اردو کا مطالبہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔اس تقریب کی سب سے زیادہ حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ یہ تقریب ایک سابق بیوروکریٹ محترم خالد محمود نے ایک سابق بیوروکریٹ اوریا مقبول جان کو نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کےلئے خصوصی مقرر کے طور پر بلایا۔!
ہم نے سوال و جواب کے وقفے کے دوران نے اوریا صاحب کو ان کا پرانا کیا گیا وعدہ یاد دلایا کہ وہ نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کے لئے خود عدالت میں دلائل دیں گے۔
ان شاء اللہ! جلد ہی ان سے اس سلسلے میں ملاقات ہوگی۔ تقریب میں مجیب الرحمٰن شامی’: پاکستان قومی زبان تحریک کے مرکزی صدر جمیل بھٹی’ نائب صدر پروفیسر سلیم ہاشمی، نے بھی شرکت کی!
فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک
عدالتی و انتظامی کارروائیاں اردو میں۔۔۔مراسلت،منٹس اورفیصلے انگریزی میں۔۔۔کچھ شرم ہوتی ہے۔کچھ حیا ہوتی ہے۔۔فکرانگیز مکالمہ اور تحریر۔۔۔فاطمہ قمر۔۔۔سٹارنیوزپر۔
398












