کامیابی کیسے ممکن… ؟

( تغیر ) کالم نگار مبشر نور کامیانہ.

دنیا میں ہر انسان روزی کمانے کے لیے کوئی نہ کوئی ہنر سیکھتا لیتا ہے.
تا کہ اسکا نظام زندگی چل سکے.
کچھ لوگ روزی کمانے میں مصروف رہتے ہیں تو کچھ لوگ ترقی کر جاتے ہیں.
کچھ لوگ ہنر سیکھ کر روزی کماتے ہیں تو کچھ لوگ ہنر سیکھ کر کامیاب انسان بن جاتے ہیں.
دونوں میں بہت فرق ہے.
ایک روزی کمانے میں خود کو دن رات مشغول رکھتا ہے. اور ایک اس میدان میں خود کو کامیاب انسان بنانے میں دن رات مصروف رکھتا ہے.
کچھ لوگ ہنر سیکھ کر بھی اپنا نقصان کر جاتے تو کچھ لوگ ہنر سیکھ کر کامیاب انسان بن کر آسمان کی بلندیوں کو چھو لیتے .
وہ کیسے ؟
اپنے شعبہ میں کام کرتے ہوئے اس میں مزید سیکھنے کا عمل ترک کر دینے سے بھی نقصان ہو جاتا .
روزی کمانے کا ہنر تو سیکھ لیا. مگر ترقی نہیں کی. بس اسی طرح عمر بیتا دی.
اسکی وجہ ؟
خود کو  صرف روزی کمانے کے ذرائع تک محدود رکھنا دانشمندی نہیں کہلاتا.
“بلکہ اُسی کام کی گہرائی تک جانا، روز کچھ نیا سیکھنا، اپنے کام میں نئی جدت لانا ”  دانشمندی کہلاتا.
روزی تو سبھی کماتے ہیں. لیکن کامیاب کوئی، کوئی ہوتا.
“کامیاب انسان وہی ہوتا، وہی بنتا، وہی کہلاتا” جس نے اپنے کام سے محبت کر کے اسکی گہرائی کی تہہ تک جا کر خود کو اس کام کا” ماسٹر مائنڈ” بنایا. تب آپ کامیاب انسان کہلانے کے حق دار بن سکتے .
پھر اس منزل پر پہنچ کر آپ شہرت، عزت، دولت، روپیہ، پیسہ کے مالک بن کر اپنی مرضی کی زندگی جی سکتے.