تحصیل احمدپورسیال میں فیک آئی ڈیز
اور سیکیورٹی ادارے ؟؟؟ حبیب منظر
تحصیل احمد پور سیال میں ایک بار بھر نامعلوم افراد کی جانب سے فیس بک پر فیک آئی ڈیز بنا کر مختلف اداروں کی ساکھ اور شخصیات کے کردار و شہرت کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے اور معاشرے میں ہیجان و بے یقینی کی فضا قائم کی جا رہی ہے
کچھ نہ کچھ کہیں نہ کہیں پہ گڑ بڑ ضرور ہے کوئی چال، کوئی سازش ، دال میں کالا ضرور ہے – کوئی فیک آئی ڈی سے نشانہ بن رہا ہے کوئی نشانہ بنا رہا ہے
ان میں سچ کیا ہے اور جھوٹ ؟ یہ نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہو گا فیک آئی ڈی والا معاشرے میں بہن بیٹی کی عزت کے لیے جس فکر مندی کا اظہار کر رہا ہے ایسا کرنا چاہیئے مگر فیک آئی ڈی کے پیچھے چھپ کر نہیں، عزت و غیرت اور ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ اعلانیہ برائی کے خلاف آواز حق اٹھائی جائے اور اگر فیک آئی ڈی کا سہارا لیکر کسی پہ الزام تراشی ہو گی، گالی دی جائے گی ، غلط الفاظ کا استعمال کیا جائے گا تو اسے عزت و غیرت نہیں کوئی اور نام دیا جائے گا
اور جو شخص معاشرے میں بہن بیٹی کے تحفظ کے لیے بھی فیک آئی ڈی کے پیچھے چھپ جائے تو اسے بھی عزت و غیرت مند نہیں کچھ اور کہا جائے گا
با لخصوص تحصیل احمدپورسیال میں روایت ہے مختلف زاویوں سے صحافیوں پر اچھی خاصی تنقید کی جاتی ہے، مثبت تنقید اچھی بات ہے کیونکہ اس میں اصلاح کا پہلو ہوتا ہے
مگر گالی دینا، برے الفاظ کے استعمال کا حق کسی بھی انسان کے لیے کسی کو کوئی مہذب معاشرہ نہیں دیتا
صحافی بھی انسان ہوتے ہیں ، صحافیوں کے پاس اللہ دین کا چراغ نہیں ہوتا نہ صحافیوں کے پاس کوئی جن ہوتے کہ کسی طرح علم غیب ہو جائے
معاشرے میں کئی مہربانوں کی اطلاعات پر مصدقہ رپورٹنگ ایک صحافی اپنے نام، اپنی ڈیٹ لائن ، اپنی آئی ڈی سے کرتا ہے
اگر اوریجنل آئی ڈی سے کوئی واقعہ رپورٹ ہوتا ہے تو بطور ادنی اہل قلم اسے صحافتی رنگ ضرور دیا جاتا ہے
یہ الگ بات کہ قارئین کے مزاج و معیار پہ پورا نہ اترے
سوشل میڈیا پر جنرل موضوعات، سیاسی و سماجی حالات ، ملکی غیر ملکی بین الاقوامی حالات حاضرہ پر اپنا نقطہء نظر پیش کرنا ہر شہری کا اظہار رائے کا بنیادی حق ہے مگر اس کا منفی پرچار فیک آئی ڈی پر کرنا، اداروں کو، شخصیات کو نشانہ بنانا ایک جرم ہے
سیکیورٹی ادارے موجود ہیں، عدلیہ ، تحصیل پریس کلب سمیت تمام فورم موجود ہیں
فیک آئی ڈیز والا زنانہ نقاب اتارے، ہمت و غیرت کا مظاہرہ کرے اور ثبوتوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرے
تاکہ سیکیورٹی اداروں، تحصیل و ضلعی انتظامیہ، عدلیہ، میڈیا سمیت معاشرے کو پتہ چلے اہل قلم طبقہ تحصیل بھر کے صحافیوں سمیت مختلف شعبہ جات سے منسلک لوگوں پر ہرذہ سرائی کرنے والا کس نطفے کی پیداوار ہے ، اوروں کےلیے کتوں، دلالوں، حرامزادوں کے الفاظ استعمال کرنے والا کس کردار کے مالک خاندان ، حسب نسب کا نتیجہ و تعارف ہے
شہریوں کا مطالبہ ہے
ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ، سی ٹی ڈی سمیت ملکی سیکیورٹی اداروں تحصیل و ضلعی انتظامیہ ان حالات و واقعات، فیک آئی ڈیز کے مکروہ دھندے کی روک تھام اور ملوٹ عناصر کے خلاف کاروائی کےلیے عملی اقدامات کریں












