تحصیل شورکوٹ کی ممکنہ بلدیاتی صورتحال
رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ امیر سلطان کے سب سے بڑے حریف مولانا آصف معاویہ سیال کی بلدیاتی حکمت عملی ابھی تک خاصی حد تک غیر واضح ہے
شورکوٹ کی سیاسی صورتحال سے باخبر مبصرین کے مطابق یہاں مولانا آصف معاویہ سیال بڑی گیم کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے مولانا آصف معاویہ سیال دریائے چناب کے کنارے اپنے کمزور ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اس حوالے سے تحصیل نظامت کے لیئے میاں مادھو لال حسین ان کی اولین ترجیح ہو سکتے ہیں تاہم میاں مادھو لال حسین اور چوہدری خالد غنی کے درمیان بھی ایک بڑی خلیج حائل ہے عوامی خدمت پارٹی کے سربراہ مولانا آصف معاویہ سیال میاں مادھو لال کو تحصیل ناظم کے لیئے نامزد کرنے کے حوالے سے شاید تزبزب کا شکار نہ ہوں تاہم وہ چوہدری خالد غنی کو کسی بھی صورت میں علیہدہ کرنے کے لیئے تیار نہیں ہونگے چوہدری خالد غنی اور میاں مادھو لال حسین کے درمیان ظاہری خلیج خاصی زیادہ ہونے کی وجہ سے فی الحال میاں مادھولال حسین کسی بھی صورت آئندہ عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات سے دستبردار ہوتے دکھائی نہیں دے رہے
اگر مولانا آصف معاویہ سیال میاں مادھو لال حسین اور چوہدری خالد غنی کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ایسی صورت میں بلاشبہ یہ ایک انتہائی مضبوط پینل ہوگا جو حکومتی امیدوار کو ٹف ٹائم دے سکتا ہے انتخاب جیت بھی سکتا ہے
فرض کریں میاں مادھو لال حسین چوہدری خالد غنی مولانا آصف معاویہ سیال کا اتحاد نہیں ہوتا تب میاں مادھو لال حسین کی حکمت عملی کیا ہوگی یہ ابھی تک سوالیہ نشان ہے کیونکہ گزشتہ عام انتخابات میں محترمہ صائمہ اختر بھروانہ کو خلاف توقع انتہائی کم ووٹ کاسٹ کرانےکی وجہ سے یہ بھروانہ گروپ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں
سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم کی این اے ایک سو سولہ میں ممکنہ انٹری اور میاں مادھو لال حسین کے تانے بانے بھی مل سکتے ہیں مہر خالد سرگانہ اور شیخ وقاص اکرم کی حمایت میاں مادھولال حسین کے پلڑے میں آ سکتی ہے تاہم اس کے امکانات خاصے معدوم ہیں
تحصیل شورکوٹ میں تیسرا بڑا دھڑا سابق رکن قومی اسمبلی محترمہ صائمہ اختر بھروانہ کا بھی ہو سکتا ہے محترمہ آئیندہ عام انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحصیل ناظم کے امیدوار کا فیصلہ کریں گی تحصیل شورکوٹ کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق ان کے لیئے مناسب امیدوار سابق ایم پی اے میاں قمر حیات کاٹھیہ ہو سکتے ہیں تحصیل شورکوٹ میں بھروانہ گروپ کے مضبوط ووٹ بینک اود میاں قمر حیات کاٹھیہ لے زاتی ووٹ بینک کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا باخبر ذرائع کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے ساتھ میاں قمر حیات کاٹھیہ کی طویل وفاداری کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں تحصیل ناظم کے عہدے پر فائز کرانے کے لیئے اعلی سطحی اثر رسوخ استعمال کر سکتے ہیں تحصیل شورکوٹ میں چوتھا گروپ بھی وجود میں آ سکتا ہے جس میں جنجیانہ سربانہ قریشی سرگانہ اور سیال گروپ شامل ہو سکتا ہے مبصرین کے مطابق اس گروپ میں مختلف گروپوں کے ناراض افراد شامل ہو سکتے ہیں یہ ممکنہ گروپ جواد رجبانہ سے لے کر میاں ابرار جنجیانہ تک کسی بھی شخصیت کو تحصیل ناظم کا امیدوار نامزد کر سکتا ہے اس گروپ میں سابق ایڈیشنل کمشنر ملتان مہر امجد سلیم سرگانہ کنگ میکر کا کردار ادا کر سکتے ہیں باخبر ذرائع کے مطابق مہر امجد سلیم سرگانہ آئندہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 116 سے امیدوار ہو سکتے ہیں کیونکہ اس وقت حکومتی قواعد ضوابط کے مطابق انہیں سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کیئے ہوئے دو سال گزر چکے ہونگے
گروپس کی ترتیب میں جزوی حد تک فرق ہو سکتا ہے تاہم یہ طے شدہ امر ہے کہ تحصیل شورکوٹ کی تحصیل نظامت کے لیئے کم ازکم تین سے چار گروپس مقابلے میں ہونگے