دوسروں کی زندگی میں کانٹے نہ بچھائیں
تحریر
شاہدرشید
میں نے دیکھا ہے کچھ لوگوں کو دوسروں کی زندگی میں کانٹے بچھانے کی بہت عادت ہوتی ہے اور وہ ہر وقت دوسروں کی زندگی میں کانٹے بچھانے کے طریقے ڈھونڈتے رہتے ہیں وہ دوسروں کا کوئی کام نہیں ہونے دیتے انکی کوشش ہوتی ہے یا تو دوسروں کا کوئی کام نہ ہو یا جو بنا بنایا کام ہے وہ بھی خراب ہو جائے میں نے ایسے لوگ بھی زندگی میں دیکھے ہیں جو دوسروں کی شادی تک نہیں ہونے دیتے وہ چاہتے ہیں کہ یہ ایسے ہی رہے اور اسکی جائیداد ہمیں مل جائے آگر شادی ہو بھی جائے تو یہ توڑنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں آگر کوئی ترقی کرنا چاہے تو وہ اسے آگے نہیں بڑھنے دیتے پڑھنا چاہے تو اسکی پڑھائی میں رکاوٹ بن جاتے ہیں انکو دوسرے کی بس ناکامی ہی اچھی لگتی ہے ایک واقعہ میری نظر سے گزرا کہ ایک بندہ آگے پڑھنا چاہتا تھا تو اس کے خاندان میں کانٹے بچھانے والوں نے اتنی کوشش کی کہ وہ نہ پڑھ سکے یہاں تک کے اس بندے کے والد کو سکھا دیا کہ اس نے آگے پڑھ کر کیا کرنا ہے اسے کونسی نوکری ملنی ہے اس کے والد نے اس بات کے پڑھائی کی مخالفت کر دی اللہ کا ساتھ ایسا اس کے ساتھ ہوا کہ وہ اپنی والدہ کی ہمت سے پڑھ گیا ایسے لوگوں کو دوسروں کی خوشیاں اچھی نہیں لگتیں وہ دوسروں کی خوشیوں سے جیلس ہوتے رہتے ہیں ایسے لوگ کسی کو ہنستا نہیں دیکھ سکتے ایسے لوگ چاہتے ہیں دوسرا سانس بھی ہماری مرضی سے لے جیسا ہم کہیں بس ویسا کرے جن لوگوں کی ان سے بنتی ہے یہ نہیں چاہتے کہ ان کی دوسروں سے بنے آگر انکی دوسروں سے بن جائے تو یہ پھر انکو چھوڑ دیتے ہیں مخالف ہو جاتے ہیں
اور انکو اپنی زندگی سے نکال دیتے ہیں
اللہ ہمیں ایسے لوگوں سے دور رکھے بس یہ ہی دعا کرتے رہنا چاہیے








