ہمارے دور کی خوبصورتی
تحریر
شاہدرشید
میں آگر اپنے دور کی باتیں کروں جو مجھے اچھی لگتی تھیں ان باتوں کا میں آپ سے ذکر ضرور کروں گا ہمارے بڑے ہمیں بری باتوں سے روکتے تھے اور ہمیں فضول پھرنے نہیں دیتے تھے ہم آگر لیٹ ہو جاتے تو ہمارے بڑے گھر کے دروازے کے باہر کھڑے ہوتے اور ہم سے پوچھا جاتا کہاں رہ گئے تھے
ہم پر نظر رکھی جاتی تھی ہم کیا کر رہے ہیں
اور ہمارے ٹیچرز ہماری پل پل کی رپورٹ گھر دیتے تھے یہاں تک کہ ہمارے ہمسائے بھی ہمیں سمجھاتے تھے ہم گھروں میں اپنے دوست الگ بیٹھاتے تھے سب سے بڑی بات ہمیں اپنے ماں باپ کی عزت کا خیال ہوتا تھا ذہن میں یہی ہوتا تھا آگر ہم سے کوئی بھی حرکت ہو گئی ہمارے ماں باپ کی عزت ان کی محنت ضائع ہو جائے گی
آج کے دور کو دیکھیں تو ذہن میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ ہمارے بڑے ٹھیک کرتے تھے آگر وہ ایسا نہ کرتے تو شاید ہم جتنا کر سکے ہیں اتنا بھی نہ کر پاتے آج کے دور میں میں نے دیکھا ہے اولاد کیا کر رہی ہے ماں باپ کو کچھ پتہ نہیں اولاد غلط بھی کر رہی ہے تو انہیں کوئی روک ٹوک نہیں آج دوست جہاں مرضی بیٹھیں کسی کو کوئی پرواہ نہیں آج سوشل میڈیا کا دور ہے کسی کو نہ اپنی عزت کی پرواہ ہے اور نہ ہی ماں باپ کی عزت کی فکر ہے سوشل میڈیا پر ویڈیوز دیکھ کے افسوس ہوتا ہے
مجھے افسوس اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ جن کی اولادیں آج ایسا کر رہی ہیں انکے بڑوں نے اپنے بڑوں سے شاید کچھ نہیں سیکھا وہ بھی نئی دنیا میں رنگے گئے اور اپنے بڑوں کی باتیں بھول گئے انہوں نے نئے دور میں بچوں کو وہ کچھ کیوں نہیں بتایا جو انکے بڑے انکو بتاتے تھے بچے کیا کر رہے ہیں کس سے مل رہے ہیں انکی سوسائٹی کیسی ہے انہوں نے ان چیزوں پر نظر کیوں نہیں رکھی میں تو ایسی ماؤں سے بھی حیران ہوں جن کو گھر سے باہر نہیں نکلنے دیا جاتا تھا آج انکو اپنی اولاد کا پتہ نہیں وہ کہاں جا رہی ہیں ہمارے بڑوں کی روک ٹوک ہمیں سمجھانا ہمارے دور کی خوبصورتی تھی








