ضلع لیہ کا مختصر مگر جامع تعارف۔۔۔

1982 میں مظفر گڑھ سے الگ ہو کر ضلع بننے والا علاقہ لیہ 3 تحصیلوں کروڑ لعل عیسن، لیہ اور چوبارہ پر مشتمل جنوبی پنجاب کا آبادی کے لحاظ سے دسواں بڑا ضلع ہے۔لیہ کے شمال میں ضلع بھکر جنوب میں ضلع مظفر گڑھ اور ضلع کوٹ ادو مشرق میں ضلع جھنگ اور مغرب میں ضلع ڈیرہ غازیخان واقع ہیں۔لیہ کی آبادی 2023 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 21 لاکھ 2 ہزار386 نفوس پر مشتمل ہے۔ رقبہ 6290 مربع کلو میٹر ہے جس میں تحصیل لیہ کا رقبہ1722 مربع کلومیٹر، تحصیل کروڑ کا 1824 مربع کلو میٹر جبکہ تحصیل چوبارہ کا 2754 مربع کلو میٹر ہے اور ایکڑ میں ٹوٹل رقبہ 15 لاکھ 52 ہزار 648 ایکڑ پر مشتمل ہے۔جس میں سے صرف 9 لاکھ 38 ہزار 618 ایکڑ رقبہ قابل کاشت ہے۔لیہ کا رقبہ 3 حصوں پر مشتمل ہے کچا، پکہ اور تھل۔ضلع لیہ میں اقلیتی برادری میں ہندو، عیسائی، سکھ بھی رہائش پذیر ہیں۔ لیہ شہر سے 8 کلو میٹر کے فاصلے پر مغربی سرحد کے ساتھ ساتھ 80 کلو میٹر کی لمبائی میں دریائے سندھ بہتا ہے اور تحصیل چوبارہ زیادہ تر صحرائے تھل پر مشتمل ہے۔ گنا، گندم،چنے، کپاس اس کی اہم فصلیں ہیں۔یہاں پنجابی، اردو اور سرائیگی زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔تاریخ دانوں کے مطابق لیہ کا نام معروف جڑی بوٹی لئی سے پڑا ہے۔ لیہ کو اولیاء کرام کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے۔ مشہور گدیوں میں دربار عنائت شاہ بخاری، راجن شاہ بخاری، دربار لعل عیسن دربار چھتر شریف، دربار سواگ شریف، دربار پیر بارو، دربار حسن علی گیلانی، دربار شیخ کرم دین اوردربار پیر جگی شریف شامل ہیں۔ سٹی لیہ، کوٹ سلطان، کروڑ لعل عیسن، پیر جگی، چوبارہ، چوک اعظم اور فتح پور لیہ کے مشہور شہر ہیں۔ لیہ میں لوگوں کے ذرائع آمدن میں زراعت اور کاروبار ہیں اورنچلے طبقے کا مزدوری ہے۔
ازقلم :
عبدالغفوبلوچ ایڈووکیٹ
ماس کمیونیکیشن