فضاٸی آلودگی

تحریر:اللہ نوازخان

فضائی آلودگی کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔فضائی آلودگی نے پوری دنیا کو پریشان کر رکھا ہے۔فضا میں نقصان دہ ذرات اور خطرناک گیسیں شامل ہو جاتی ہیں،جس سے فضا جانداروں کے لیے نقصان دہ ہو جاتی ہے اور انسانی زندگی کے لیے بہت ہی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔فضا کوآلودہ کرنے میں ترقی یافتہ ممالک کا زیادہ ہاتھ ہے اور اس کا خمیازہ پوری دنیاخصوصاپاکستان جیسے کمزور ممالک کو زیادہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔فضا کوآلودہ کرنے میں انسانوں کا خود ہی ہاتھ ہے۔ٹریفک سے نکلنے والا دھواں فضا کوآلودہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔اس کے علاوہ فیکٹریززہریلہ دھواں خارج کرتی ہیں،جس سے فضاآلودہ ہو جاتی ہے۔گھروں میں جو کھانا پکانے کے لیے ایندھن استعمال ہوتا ہے، اس سے بھی دھوئیں کا اخراج ہوتا ہے جو کہ انسان زندگی کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔بعض گھر ایسے ہوتے ہیں جہاں صاف ہوا کا اخراج نہیں ہوتا جو انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتاہے۔بند گھروں میں سگریٹ کا دھواں بھی انسانی زندگی کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے۔اینٹیں پکانے کے لیے بھٹوں میں ایندھن استعمال ہوتا ہے اور اینٹیں پکانے کے لیے کوئلے کا ایندھن زیادہ بہترسمجھا جاتا ہے،بھٹوں سے نکلنے والا دھواں بہت ہی خطرناک ہوتا ہے جو فضا میں شامل ہو کر انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔کھیتوں میں کسان جھاڑجھنکار جلاتے ہیں،اس کادھواں بھی زہرثابت ہوتا ہے۔یوں پوری فضاآلودہ ہو جاتی ہے جس سے انسانی زندگی کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق لاکھوں کی تعدادمیں اموات صرف فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔پاکستان کے کئی شہرآلودگی کا شکار ہو چکے ہیں سب سے زیادہ کراچی اور لاہورآلودگی کے نشانے پر ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق تقریبا 70 لاکھ افرادفضائی آلودگی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔اس کے علاوہ کٸی بیماریاں بھی پھیل جاتی ہیں جن میں کھانسی،چھینکیں،دمہ،آنکھوں،ناک اور جلد میں جلن وغیرہ شامل ہیں۔چکر بھی آسکتے ہیں اور فالج کے علاوہ کئی بیماریاں بھی انسانی زندگی پرحملہ آور ہو سکتی ہیں۔ایک اور سب سے بڑا نقصان جو سموگ کی صورت میں ہمارے لیے پریشان کن ثابت ہو رہا ہے۔چند سال پہلے سموگ کا نام و نشان تک نہیں تھا مگر اب سموگ نے انسانی زندگی کو متاثرکرنا شروع کر دیا ہے۔سموگ پہلے بڑے شہروں تک محدود تھی اب دیہاتوں کو بھی لپیٹ میں لے رہی ہے۔سموگ کی وجہ سے کئی خطرناک قسم کے حادثات بھی ہوتے ہیں اور انسانی صحت بھی داٶپر لگ جاتی ہے۔پاکستان جوغریب ملک ہے،اس قسم کے مسائل کا سامنا کرتا رہتا ہے۔پاکستان میں صحت کے حوالے سے پہلے بھی کئی قسم کی پریشانیاں موجود ہیں اور فضائی آلودگی پریشانیوں میں اضافہ کر رہی ہے۔پاکستان کو فضا کوپاک و صاف رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ مستقبل میں فضائی آلودگی خوفناک عفریت ثابت ہو سکتی ہے۔آلودہ فضا کی وجہ سے نہ تو فضائی پروازیں ہو سکتی ہیں اور نہ زمینی راستے پرٹریفک آسانی سے چل سکتی ہے۔فضا اور زمین میں سموگ کی صورت میں حادثات کی شرح بڑھ جاتی ہے۔فضا میں حادثات سے بچنے کے لیے پروازوں کو منسوخ کر دیا جاتا ہے جس کا پاکستان کوکافی مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے درختوں اور پودوں کی افزائش کی تجویز دی جاتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس سے بھی فضا بہتر نہیں ہو سکتی۔فضا کو بہتر بنانا ہوگا توایندھن سے نکلنے والا دھویٸں کابندوبست کرنا ہوگا۔دھوئیں کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ایندھن کم سے کم استعمال کیا جائے یا دھوئیں کو تحلیل کرنے کے لیے مناسب بندوبست کیا جائے۔پرانی گاڑیاں جن کے انجن ناکارہ ہو جاتے ہیں وہ زیادہ فضا کوآلودہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں،کیونکہ وہ زیادہ دھواں چھوڑتی ہیں،لہذا حکومت کو اس قسم کی گاڑیوں کوسڑکوں پرچلانے سے روکنا ہوگا۔وہ فیکٹریز جوفضا میں زیادہ دھواں پھیلا رہی ہیں،ان فیکٹریز مالکان کو پابند کرنا ہوگا کہ اس کا خاطر خواہ انتظام کریں تاکہ انسانی زندگی کے لیے کوئی خطرہ نہ ہو۔پودے اور درخت لگانے چاہیے،کیونکہ ان سےصاف آکسیجن حاصل ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ماحول کوخوشنما بھی بناتے ہیں۔درخت پھربھی فضا کو بہتر بنانے میں کافی کردار ادا کرتے ہیں۔فضاکوبہتربنانے کے لیے ہمیں فوری طور پر کچھ اقدامات اٹھانا پڑیں گے۔گاڑیاں جوتیل پر چل رہی ہیں،ان کے لیے ماحول دوست تیل تجویز کیا جا رہا ہے لیکن اس سے ماحول پرکوٸ خاص فرق نہیں پڑ رہا،بہتر یہ ہے کہ جو گاڑیاں آسانی سے بجلی پرمنتقل ہو سکتی ہیں ان کو بجلی پرمنتقل کر دیا جائے۔گوشت اور ڈیری فارمنگ کی بجائے سبزیوں کو ترجیح دینی چاہیے،کیونکہ ڈیری فارمنگ کی وجہ سے زہریلہ مواد خارج ہوتا ہے جو فضا کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔بہتر یہی ہے کہ سبزیاں استعمال کی جائیں۔کاغذ کی بجائے لیپ ٹاپ اور موبائل کا استعمال ماحول کو بہتر بنانے میں ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ کاغذ بنانے کے لیے ایندھن استعمال کیا جاتا ہے،جو کہ ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔بجلی،گیس اور ٹیلی فون کے بل کاغذ کے بجائے اگر الیکٹرانک کے ذریعے وصول کیےجائیں تو بہتر ہے،بلکہ بہتر یہی ہے کہ تمام بلزالیکٹرانک کے ذریعے بھیجے اور وصول کیے جائیں،اس سے ماحول بہتر بنانے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔درخت اور پودےبھی زیادہ اگائے جائیں اور ان کو کاٹنے سے گریز کیا جائے جب تک کوئی خاص مجبوری نہ ہو۔بجلی کا استعمال بھی کم کیا جائے تو بہتر ہے،اس سے بہتر ہے کہ دوسرے ذرائع استعمال کیے جائیں جس طرح سولرانرجی انرجی بہترین متبادل ہے۔جتنی جلدی ہو سکے ایسے اقدامات اپنانے ہوں گے جس سے فضا آلودہ ہونے کی بجائے بہتر ہو جائے۔ماہرین جو اقدامات تجویز کریں،ان کو فوری طور پر اپنانا ہوگا۔جتنی زیادہ دیر ہوتی جائے گی،اتنا نقصان بڑھتا جائے گا۔