جھنگ کے تمام حلقوں کےلیے متوقع سیاسی اتحاد

تحریر شیخ فرحان اعجاز

صاحبزادہ گروپ، غلام بی بی بھروانہ اور افتخار خان گروپ کے درمیان سیاسی اتحاد کی خبریں زیرگردش ہیں گر ایسا الحاق ممکن ہے تو اس کا مقصد صاف ظاہر ہے یہ اتحاد این اے 108 میں کمزور صاحبزادہ محبوب سلطان کو این اے 108 میں مضبوط مخدوم فیصل صالح حیات کو کمزور کرنے کیلیے بنایا جائے گا

یہ سیاسی اتحاد کس شرائط پہ ہوگا اور کس کیلیے مفید ثابت ہوگا اور کس کیلیے نقصان دہ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر اس اتحاد سے صاحبزادہ گروپ این اے 108 میں مضبوط ہوجائے گا مگر بلوچ گروپ کو یہ اتحاد شائد. فائدہ نا دے سکے ویسے بھی ابھی ایک بات طے ہونا باقی ہے آیا بلوچ گروپ سے سابق ایم پی اے غلام احمد گاڈی امیدوار ہوں گے یا افتخار خان سیال گر یہ اتحاد ہو جاتا ہے تو لازم ہے افتخار خان بلوچ کو این اے 108 دستبردار ہونا پڑے گا گر وہ ایم این اے کے الیکشن سے معذرت کرلیتے ہیں تو پھر مخدوم فیصل صالح حیات کو وہ کس طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ اس پوزیشن میں الیکشن ہوتے ہیں کے صاحبزادہ گروپ کے پاس تحریک انصاف کا ٹکٹ نہیں استحکام کا بھی ٹکٹ ہے تو شکست صاحبزادہ گروپ کیلیے نوشتہ دیوار ہے آج تک مخدوم فیصل صالح حیات این اے 108 میں مضبوط ترین امیدوار ہیں

اور ادھر افتخار خان بلوچ صاحبزادہ گروپ کے ساتھ مل کے ایم پی اے کا الیکشن لڑتے ہیں ہیں تو غلام احمد گاڈی کہاں جائیں گے کیا وہ افتخار احمد خان کے حق میں یا افتخار احمد خان غلام احمد خان گاڈی کے میں دستبردار ہوں گے

اب یہاں ایک اور بات کیا یہ سب مل کے کسی قومی سیاسی پارٹی کی جانب رخ کریں گے یا پھر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے کیونکہ تاحال صاحبزادہ گروپ کی صورتحال واضح نہیں ہے

وہ خان کو چھوڑیں تو پھر وہ جتنے مرضی الحاق کرلیں عوام اس بار انہیں نہی چھوڑے گی گر وہ خان کو نہیں چھوڑتے تو پھر ٹھاکر انہیں نہیں چھوڑے گا

بظاہر انقلابی بنا صاحبزادہ گروپ اندر سے نوازشریف بن چکا ہے ویسے بھی ان کا ٹھاکر کی حویلی سے تعلق پچاس سال پرانا ہے اب یہ تو ٹھاکر کے کمبل کو چھوڑتے ہیں مگر کمبل انہیں نہی چھوڑ رہا کیونکہ اس کمبل کی آڑ میں اب تک صاحبزادہ گروپ نے رنگینیاں بھی بہت دیکھی ہیں

اب کمبل ان کی جان چھوڑنے کو تیار نہیں دل ان کا بھی ٹھاکر کے ساتھ ہے اور اپنی سیاسی ساکھ بچانے کیلیے جان عمران زخمی کے ساتھ

علم نجوم کے ماہر کہتے ہیں صاحبزادہ گروپ کی عمران خان سے محبت دراصل ان کی سادگی کی طرح ایک فریب ہے جو وہ اپنے ووٹر کو دے رہے

پس پردہ معاشقہ اب بھی ٹھاکر کے ساتھ چل رہا صاحبزادہ گروپ کی مثال اس خاتون جیسی ہے جو خاوند کو بھی خوش رکھتی ہے اور عاشق کو بھی اپنی اداروں کے جال میں جکڑے رکھتی ہے

رہ گئے رانا شہباز احمد تو ان کی تردید آگئ ہے کے. ان کی لاہور میں بلوچ گروپ سے کسی قسم کی ملاقات نہی ہوئی تے اوہ اجے وی خان دے عقد اچ ہن باقی ایہہ وکھری گل اے کے بھانویں کل عقد تو عدت اچ چلے جانڑ

اس حقیقت کو صاحبزادگان اور ان کے ووٹر جتنی جلد تسلیم کرلیں تو ہارٹ فیل ہونے جیسی مصیبت سے چھٹکارا مل سکتا ہے کے صاحبزادگان کو سیاست میں مستحکم رہنے کیلیے استحکام والوں کا کندھا لینا پڑے گا یا پھر ن، ن میں تو شائد جگہ نا بنے البتہ استحکام والے ان کے منتظر بیٹھے ہیں اور یہ حالات کے بہتر ہونے کے

اور ایسے میں سوال یہ ہے کے اقتدار کیلیے اقدار کی قربانی دینے اور اپنے ہاتھوں اپنا سیاسی نقصان اٹھانے والے جھنگ کےخودکش سیاستدان افتخار خان بلوچ کدھر جائیں گے ان کا مخالف تیمور بھٹی تو پہلے ہی ان سے مضبوط پوزیشن میں ہے بھٹی گروپ کو مخدوم فیصل صالح حیات کی حمایت سمیت تمام سید خاندان کی حمایت حاصل ہے