کبیروالا کی سیاسی ڈائری
تحریر ۔منور اقبال تبسم
این اے 144میں سید گروپ کی طرف سے بیرسٹر عابد امام صاحب کی الیکشن لڑنے کی خبریں ہیں اور سید گروپ اب تک کی خبروں کے مطابق آزاد حیثیت سے میدان میں ہوگا
،ہراج گروپ کیطرف بیرسٹر رضا حیات ہراج صاحب امیدوار ہیں جن کی آزاد حیثیت سے فی الحال میدان میں اتر نے کی خبریں ہیں ،مسلم لیگ ن سے مخدوم مختار حسین شاہ صاحب سابق صوبائی وزیر اور تحریک انصاف سے سردار شہباز خان سیال صاحب اور مذہبی گروپ سے مولانا عبد الخالق رحمانی صاحب کی آمد متوقع ہے ،
اصل مقابلہ سید گروپ اور ہراج گروپ کے درمیان ہے جنہیں تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے نہیں دیا جارہا اور ان دونوں گروپس کے ترجمان کے مطابق مسلم لیگ ن کا ٹکٹ لینے میں وہ قطعی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں ۔
تحریک انصاف گراف لیول میں اس حلقہ میں ٹاپ لیول پر ہے جس کا حلقہ میں محدود تجزیہ کے مطابق 20سے 30ہزار تک نظریاتی ووٹ موجود ہے جبکہ مسلم لیگ ن کا 15سے 20ہزار تک نظریاتی ووٹ بنک ہے
دو نوں بڑے گروپ تحریک انصاف کی نفرت سے بچنے اور یوتھ کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے آزاد آرہے ہیں اور دونوں گروپس کی کوشش ہے کہ یوتھ کا زیادہ سے زیادہ اعتماد حاصل کریں
،اگرچہ تحریک انصاف کا جھکاؤ سید گروپ کی طرف ہے کیونکہ انہوں نے نہ صرف کپتان کا ساتھ دیا بلکہ گرفتاریاں اور صعوبتیں بھی برداشت کی ہیں ۔ مگر تحریک انصاف حلقہ کو خالی نہیں چھوڑے گی ،بیشتر کارکن تحریک انصاف ،،بلا،،پر مہر لگانے کو اہمیت دیتے ہیں
ہراج گروپ اس خوش فہمی کا شکار ہے کہ سید عابد امام صاحب کے امیدوار آنے سے بیرسٹر رضا حیات ہراج صاحب آسانی سے منتخب ہو جائینگے مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا جب تک ڈاکٹر سید خاور علی شاہ اور سید حسین جہانیاں گردیزی، سید گروپ کے پینل میں موجود ہیں
اس وقت سیاسی گراف میں سید گروپ ،ہراج گروپ ،مخدوم گروپ ،سیال گروپ اور مذہبی گروپ بالترتیب موجود ہیں ۔
دوران اقتدار سید گروپ بہت بڑی توڑ پھوڑ کرکے ہراج گروپ کی بیشتر شخصیات اور گروپس کو اپنے ساتھ لاچکا ہے ،اس وقت جہاں ہراج گروپ سید گروپ میں توڑ پھوڑ کیلئے کوشاں ہےب وہیں مخدوم گروپ بھی دن بدن منظم اور مضبوط ہورہا ہے ، آنے والے چند روز میں گروپوں کی پوزیشن اور حالات واضح نظر اجائینگے اگر آزاد سید گروپ کی حمایت تحریک انصاف نے کردی اور تحریک انصاف نے سید گروپ کے مقابل امیدوار کھڑے نہ کئے تو الیکشن کا فیصلہ الیکشن سے پہلے واضح ہو جائے گا ،
منوراقبال تبسم ۔۔روزنامہ جنگ












