وزیر اعلی پنجاب کی گھر گھر راشن سکیم
جھنگ انتظامیہ کے لیے چند تجاویز

تحریر نوید سدھانہ سیال جھنگ

آٹا انسانوں نے کھانا ہے جانوروں نے نہیں آٹا آٹا ہو نہ کہ خراب گندم سے بنا کر چھان بورا ٹائپ کا نہ ہو
اٹے کا وزن پورا ہو وزن۔میں ملز مالکان بہت گڑ بڑ کرتے ہیں
چینی صاف ستھری ہو جس جگہ پیک کرے وہ جگہ صاف ستھری ہو پیک کرنے والے خود فوڈ اتھارٹی کے قوانین کو فالو کرے
گھی معیاری برانڈ کا کسی مشہور کمپنی کا کراچی برانڈ نہ ہو اور یہ بھی نہ ہو کہ مستحقین کو کراچی برانڈ کا مضر صحت گھی دیا جائے اور کاغذوں۔میں بل اعلی کوالٹی کا ہو
بیسن اچھی کوالٹی کا ہو جس کو بیسن کہتے ہیں
اور پچھلے سال آٹا سکیم۔میں جو کرپشن ہوئی خدا کی ہناہ ایک ٹوکن کو بار بار استعمال۔کیا گیا آٹا کس کس نے لوٹا یہ سب لوٹنے والے جانتے ہیں
اب جو پرابلم آئے گا ہہ راشن بے نظیر والے مستحقین کو دیا جا رہا ہے جبکہ بے نظیر سکیم میں 80 فی صدر غیر مستحق رجسٹرڈ ہیں جو سکیم سے فاِئدہ اٹھا رہے ہیں اب حل۔یہ ہوگا کہ 80 گی صد کے گھر جب ٹیم جائے گی تو ان کا گھر بار دیکھے گی تو ان کو کہے گی کہ تم تو غیر مستحق ہو تمہارا بے نظیر والا بھی نام ختم کرائے گے یہ راشن ہمیں دے تو وہ غیر مستحق پورا نہیں تو آدھا راشن ضرور دے چلے کرپشن تو پاکستان میں کوئی نہیں روک سکتا
لیکن۔میری ڈی سی جھنگ سے گزارش ہے کہ جو آٹا گھی چینی دے اس کا وزن اور معیار پورا ہو