“عمران صاحب صحافت کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔”

تحریر: ناصر صبور کھوکھر

صحافت کے خدوخال سے پوری طرح تو واقف نہیں ہوں مگر اتنا ضرور سمجھ میں آیا ہے کہ موجودہ دور میں معیاری صحافت کی بجائے مقداری صحافت عروج پر ہے۔ انداز صحافت ہر ایک کا جدا جدا ہے مگر جس انداز سے صحافت کا علم عمران حیدر کملانہ صاحب اپنائے ہوئے ہیں اس پر تعریف اور تنقید کے بہت سارے پہلو نمایاں ہیں۔ نمایاں اس لئے ہیں کہ عمران صاحب خود اپنی ذات میں بہت سے میدانوں میں نمایاں اور سرگرم ہیں۔ جن سے بندہ اڑھائی دہائیوں سے کسی قدر واقف ہے۔ کچھ لوگ پڑھ کر صحافت میں داخل ہوتے ہیں۔ کچھ زبردستی اس میدان میں گھس جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران صاحب پیدائشی صحافی ہیں۔
عمران صاحب ؛ایجوکیشن، وکالت، صحافت، سوشل ورکر ہونے کے ساتھ ساتھ دل و جان سے غریب پرور اور ادب شناس بھی ہیں۔ اضطرابی کیفیات میں رہنے والا شخص کسی بھی ٹہنی پر آشیاں بنانے اور اس میں مقید ہونے سے ہردم گبھراتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ شخص ایک جگہ ٹک کر نہیں رہتا۔ بقول اقبال” کہ شاہین بناتا نہیں آشیاں” کے مصداق خوب سے خوب تر کی جستجو میں رہتا ہے۔ جس چیز سے اپنے تہی بے زار ہوجاتا ہے ایک پل میں جست لگا کر نئے آشیاں کی تلاش میں نکل جاتا ہے۔
دوستوں کے انتخاب میں ذرابھر احتیاط نہیں برتتا مگر دشمن چن چن کر رکھتا ہے۔دوستوں کو تنہا نہیں چھوڑتا مگر دشمنوں کو تنہائیوں میں دھکیلنے کی کوئی کسر بھی نہیں چھوڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ دوست ہوں، گھر ہو، یا کوئی بھی میدان کارزار؛ عمران صاحب زندگی کی جنگ لڑنے،اکیلے بے دست و پا نکل پڑتا ہے۔ انجام کی پرواہ کئے بغیر ہر اس کام میں ہاتھ ڈال دیتا ہےجسے یہ خود بہتر سمجھتا ہے۔ دوستوں سے رائے ضرور لیتا ہے مگر کرتا وہی ہے جسے یہ خود مناسب جانتا ہے۔
صحافت میں بلیک میلنگ تو نہیں کرتا جیسا کہ اکثر صحافی کرتے ہیں مگر عمران صاحب نمود ونمائش اور شہرت کا ضرور دلدادہ ہے۔ زبان کی مٹھاس اور عاجزانہ لہجہ اسکے خوبصورت چہرے کی طرح ہی ہے۔ اس لہجے کو کچھ لوگ منافقت اور مطلب پرستانہ اس لئے سمجھتے ہوں گے کہ ان کی منشا کے عین مطابق ناجائز کاموں میں ان کا ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ موصوف کے ہاں رشتوں کو نبھانے کی سنگین حد تک خامی ہے جس پر قابو پانا موصوف کے لئے از حد ضروری ہے۔ ظاہر ہے مختلف جہتوں اور اذہان رکھنے والوں کو خوش رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ عمران صاحب دستی بے دید ہو جاتا ہے۔ ہر ایک کا اپنا انداز فکر ہے بھلا کہاں تک کوئی ہر ایک کے معیار تک پہنچے۔ اگر اس معیار پر پورا اترنا ہے تو پھر مقداری صحافت کی راہ آپکو سرخرو کر سکتی ہے۔
ہم دونوں پچھلے کوئی لگ بھگ اڑھائی دہائیوں سے ایک دوسرے سے نوک جھونک کررہے ہیں۔ میرا تعارف اپنے نئے نویلے دوستوں سے یوں کرواتا ہے جیسے ہم اب بھی کلاس نہم میں زانوائے تلمذ ہیں۔ مزید براں تعارفی کلمات میں خاکسار پر تکلیف دہ شکوہ کرتا ہے کہ بندہ کا جھکاو ہمارے کسی مشترکہ دوست کی طرف قدرے زیادہ تھا شاید یہ بات سچ ہو مگر التفات سے مبرا عمران صاحب بھی نہ تھے۔ ضمنا عرض کرتا چلوں کہ خاکسار کم عقل ضرور ہے مگر بے وفا کسی جہت سے نہیں۔
ہم ایک دوسرے سے اس وقت واقف ہوئے جب مذکور، نہم کلاس میں ککی نو کے ہائی سکول میں داخل ہوا۔ نہایت خوبصورت، وجیہ، کھلنڈرا اور سہما ہوا ساطالب علم اپنے ہم جماعت سے اس لئے الجھ پڑا کہ اسے کلاس میں وہ مقام نہیں دیا جا رہا جس کا اس کا حسن کرشمہ ساز تقاضا کرتا ہے۔ یہی بدگمانی اس کی شخصیت میں اب تک موجود ہے۔ اس خامی کو موصوف طاقت میں بدل کر شہرت کی سیڑھیوں پر دھڑا دھڑ چڑھتا جا رہا ہے۔ جس سے مخالفین بے وجہ حسد اور بغض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ظاہر ہے اپنے مقاصد کے حصول کے لیےجو بھی راستہ منتخب کریں گے ہر راستے میں پھول اور کانٹے، رکاوٹیں اور سہارے، دوست اور دشمن ہوتے ہیں۔ کامیاب شخص وہی ہوتا ہے جو ثابت قدمی سے گامزن رہے۔ مشکلات کا سامنا دیدہ دلیری سے کیجیے۔ اگر آپ درست راستے پر گامزن ہیں تو ڈٹے رہیں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔

خاکہ نگار: ناصرصبورکھوکھر